بھارت کا مسابقتی کمیشن
قومی مسابقتی کمیشن (سی سی آئی) کی طرف سے مسابقت کے قانون کی اقتصادیات کے موضوع پر قومی کانفرنس کے گیارہویں ایڈیشن کا انعقاد
نیتی آیوگ کے رکن جناب راجیو گوبا نے سی سی آئی کی کانفرنس میں کلیدی خطاب کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 MAR 2026 5:18PM by PIB Delhi
قومی مسابقتی کمیشن (سی سی آئی) نے آج نئی دہلی میں مسابقت کے قانون کی اقتصادیات کے موضوع پر گیارہویں قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں نیتی آیوگ کے رکن جناب راجیو گوبا نے کلیدی خطاب کیا، جبکہ سی سی آئی کی چیئرپرسن محترمہ رونیت کور نے افتتاحی اجلاس سے خصوصی خطاب کیا۔
یہ کانفرنس قومی مسابقتی کمیشن کی جانب سے سنہ 2016 سے ہر سال منعقد کی جا رہی ہے ، جس میں مسابقت کے قانون کی اقتصادیات کے شعبے سے وابستہ ماہرینِ معاشیات، محققین، ماہرینِ قانون اور عملی میدان کے ماہرین شریک ہوتے ہیں۔
اپنے کلیدی خطاب میں نیتی آیوگ کے معزز رکن جناب راجیو گوبا نے مسابقت کو انسانی ترقی کے سب سے طاقتور محرکات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر منڈیوں کو مضبوط پالیسی اور مؤثر نگرانی کے بغیر اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہاں ارتکازِ قوت، ملی بھگت اور اخراجی پینترے جنم لے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اچھی طرح وضع کردہ مسابقتی قوانین سے منڈیوں کے اخلاقی ڈھانچے تشکیل پاتے ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشت میں مسابقت کے قوانین اور ضوابط ترقی اور طرزِ حکمرانی کے متعدد اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ قوانین مضبوط اجارہ داریوں کے قیام کو روکنے، چھوٹے کاروباروں کے لیے کھلے مواقع اور آسان داخلے کو فروغ دینے اور معیشت کو عالمی ویلیو چین سے مربوط کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ہندوستان میں مسابقتی نظام کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے، خصوصاً آزادی کے بعد کئی دہائیوں کے دوران ہندوستانی معیشت میں آنے والی ساختیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسابقت کی توانائی بخش قوت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مناسب اور مؤثر ضابطہ بندی ناگزیر ہے، جس میں ضروری اقدامات کے ساتھ ساتھ مناسب حد تک ضبط و احتیاط بھی کار فرما ہو۔

وزیرِ اعظم کے "وکست بھارت 2047" کے وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ منڈیاں داخلی اور عالمی دونوں سطحوں پر حقیقی معنوں میں مسابقتی ہوں۔ اس تناظر میں انہوں نے مؤثر اور فعال منڈیوں کے لیے چار بنیادی ادارہ جاتی ستونوں کی نشاندہی کی: قابلِ مقابلہ ماحول- یعنی کمپنیوں کے لیے یہ ممکن ہونا چاہیے کہ وہ غیر ضروری ضابطہ جاتی یا عملی رکاوٹوں کے بغیر منڈی میں داخل ہو سکیں اور ضرورت پڑنے پر وہاں سے باہر بھی نکل سکیں۔اطلاعاتی توازن: خریداروں، فروخت کنندگان اور ریگولیٹری اداروں کو بروقت اور قابلِ اعتماد مارکیٹ کی معلومات تک رسائی حاصل ہو تاکہ فیصلے بامعنی ہوں اور منڈیاں مؤثر طور پر کام کر سکیں۔بلاامتیاز رسائی: تمام اداروں کو طبعی، ڈیجیٹل اور مالیاتی بنیادی ڈھانچے سمیت ہر طرح کے انفراسٹرکچر تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی حاصل ہو۔آزاد اور قابلِ پیش گوئی نظامِ انصاف: تنازعات کے حل اور قوانین کے نفاذ کے لیے آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد ادارے موجود ہوں۔
ڈیجیٹل معیشت کے ابھرنے کو منڈی کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کی بعض خصوصیات سے ایسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہیں جہاں ایک یا چند بڑے کھلاڑی زیادہ تر فائدہ سمیٹ لے جائیں۔ اس پس منظر میں انہوں نے قومی مسابقتی کمیشن کی جانب سے ڈیجیٹل مارکیٹس ڈویژن کے قیام کو قابلِ ستائش پہل قرار دیا۔
جناب راجیو گوبا نے کہا کہ ہندوستان اپنی ضابطہ جاتی حکمتِ عملی کو عالمی معیار کے مطابق ہم آہنگ کر رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل راستے صرف چند اداروں تک محدود نہ رہے بلکہ سب کے لیے کھلے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) جیسے نئے میدان کے ابھرنے کے ساتھ مسابقتی پالیسی کے آلات کو بھی ترقی دینا ہوگا تاکہ اس سے پیدا ہونے والے نئے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:
“ہمیں ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں اجارہ دارانہ گرفت سے بچاؤ کرنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ڈیٹا کی منتقلی اور باہمی مطابقت برقرار رہے۔”
دریں اثناء، سی سی آئی کی چیئرپرسن محترمہ رونیت کور نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ مسابقتی ایکٹ ایک بین علومی قانون ہے جس کی بنیاد معاشی اصولوں پر قائم ہے۔ اسی لیے کمیشن کے کام کے مرکز میں معاشی تجزیہ کو رکھا گیا ہے اور اس کے فیصلے سخت اور تفصیلی معاشی تجزیے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں تاکہ مسابقت پر پڑنے والے کسی بھی ممکنہ منفی اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کاروباری کامیابی اور مسابقت کا دار و مدار صلاحیت اور خوبی پر ہو، نہ کہ اخراجی، استحصالی یا غیر مسابقتی طریقوں پر استوار ہو۔
سی سی آئی کی چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کمیشن نے مسابقتی ایکٹ 2023 میں کی جانے والی ترمیمات کو مؤثر بنانے کے لیے تمام ضروری ضابطے جاری اور نافذ کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2025 میں پیداواری لاگت سے متعلق نظرِ ثانی شدہ ضابطہ متعارف کرایا گیا تاکہ پرکشش قیمتوں کے تعین کے لیے ایک مستقل اور شفاف فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے اینڈرائیڈ اسمارٹ ٹی وی ماحولیاتی نظام میں سی سی آئی کے سامنے پیش کیے گئے 2025 کے پہلے تصفیہ جاتی معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تصفیہ کا طریقۂ کار منڈی میں فوری اصلاحات کو ممکن بناتا ہے اور ساتھ ہی مزید طویل عدالتی کارروائیوں کی ضرورت کو بھی ختم کر دیتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران قومی مسابقتی کمیشن نے مختلف شعبوں میں اعتماد مخالف معاملات سے متعلق کئی اہم کیسز نمٹائے، جن میں دفاعی خریداری، شراب اور ٹھوس فضلہ کے نظم کے شعبوں میں کارٹل سازی اور ٹینڈر میں ملی بھگت کے معاملات شامل تھے۔ اس عرصے میں موصول ہونے والی معلومات اور کی جانے والی تحقیقات کی بنیاد پر متعدد شعبوں میں فیصلے صادر کیے گئے، جن کے نتیجے میں انسدادی احکامات، جرمانے اور دیگر مناسب اصلاحی اقدامات کیے گئے۔
مجموعہ سازی (انضمام و حصول) کے معاملات میں قومی مسابقتی کمیشن نے فعال، منظم اور مستقل طرزِ عمل اختیار کیا، جس کے تحت معاملات کو نمٹانے کی شرح 99 فیصد سے زائد رہی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا نقطۂ نظر مثبت اور حل پر مبنی رہا ہے۔
اکتوبر 2025 میں مکمل ہونے والے مصنوعی ذہانت(اے آئی) اور مسابقت سے متعلق سی سی آئی کے مارکیٹ کے مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرپرسن نے کہا کہ اے آئی کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں کارکردگی میں اضافہ اور ایم ایس ایم ای کے لیے منڈیوں تک بہتر رسائی شامل ہے، تاہم اس کے ممکنہ غیر مسابقتی رجحانات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی آئی نے ایک رہنما نوٹ بھی جاری کیا ہے جس کے ذریعے متعلقہ فریقوں، اداروں کے بورڈ، انتظامیہ اور فیصلہ سازوں کے لیے خود احتسابی کا طریقہ کار کا التزام کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اے آئی ایپلی کیشن کی تیاری، نفاذ اور نگرانی کے مراحل میں کہیں سربستہ طور پر کوئی غیر مسابقتی نتائج پیدا نہ ہوں۔
افتتاحی اجلاس میں سی سی آئی کے رکن جناب دیپک انوراگ نے استقبالیہ پیش کیا، جبکہ سی سی آئی کے رکن جناب انل اگروال نے اظہارِ تشکر کیا۔
افتتاحی اجلاس کے علاوہ کانفرنس میں دو تکنیکی نشستیں بھی:مسابقت اور ادارہ جاتی طرزِ عمل: شواہد اور پالیسی مضمرات""ملکیت، منڈی کی قوت اور صارفین کی بہبود" کے موضوعات پر منعقد ہوئیں۔ ان اجلاسوں میں محققین نے مسابقت کے قانون کی معاشیات سے متعلق اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ پہلے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر سپترشی مکھرجی (پروفیسر، ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنس، آئی آئی ٹی دہلی) نے کی، جبکہ دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر بسواجیت دھر (نائب صدر، کونسل فار سوشل ڈیولپمنٹ) نے انجام دی۔
مسابقتی کمیشن کی قومی کانفرنس کا اختتام ایک اختتامی اجلاس (پلینری سیشن) پر ہوا جس کا موضوع تھا: "مسابقت اور مصنوعی ذہانت: تکنیکی پیش رفت، ضابطہ جاتی تجربات اور کاروباری اثرات"۔
اس اجلاس کی صدارت سی سی آئی کی رکن محترمہ سویتا ککّڑ نے کی، جبکہ اس کی نظامت اسٹارٹ اپ پالیسی فورم کی صدر اور سی ای او محترمہ شویتا راجپال کوہلی نے انجام دی۔
******
(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)
Urdu No-4181
(ریلیز آئی ڈی: 2240907)
وزیٹر کاؤنٹر : 5