خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گود لینے سے متعلق وسائل کی مرکزی اتھارٹی(سی اے آر اے) نے گود لینے کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے، ریکارڈوں کے تحفظ اور بچوں کی شناخت کی حفاظت  کو یقنی بنانےکے لیے ملک بھر میں ہدایات جاری کیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAR 2026 10:17AM by PIB Delhi

 گود لینے سے متعلق وسائل کی مرکزی اتھارٹی (سی ا ے آر اے)، جو وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی، حکومت ہند کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے، نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی گود لینے سے متعلق وسائل کی تمام ریاستی  ایجنسیوں کو تین اہم دفتری یادداشتیں جاری کی ہیں۔ ان کا مقصد گود لینے کے طریقۂ کار کی پابندی کو مضبوط بنانا، گود لیے گئے بچوں کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنا اور بچوں کی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ہدایات جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ 2015 (جس میں 2021 میں ترمیم کی گئی) اورگود لینے سے متعلق ضوابط 2022 کی دفعات کے مطابق جاری کی گئی ہیں۔

جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت گود لینا یتیم، لاوارث اور سرینڈر کیے گئے بچوں کو خاندان کا حق فراہم کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ ایکٹ کی دفعہ 56(1) میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی دفتری یادداشت کے ذریعے سی اے آر اے نے اس بات کو دوبارہ واضح کیا ہے کہ کسی بچے کو قانونی طور پر گود لینے کے لیے آزاد قرار دینے سے پہلے مقررہ قانونی طریقۂ کار اور مدتوں کی مکمل پابندی لازمی ہے۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ کسی یتیم یا لاوارث بچے کو اس وقت تک قانونی طور پر گود لینے کے لیے آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک مکمل جانچ، حیاتیاتی والدین کی تلاش، بحالی کی کوششیں اور دیگر قانونی تقاضے مقررہ مدت کے اندر پورے نہ کر لیے جائیں۔ سرینڈر کیے گئے بچوں کے معاملات میں ایکٹ کے مطابق دو ماہ کی لازمی نظرِ ثانی کی مدت پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد ہی بچے کو گود لینے کے لیے قانونی طور پر آزاد قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری دفتری یادداشت میں  سی اے آر اے نے بچوں اور گود لیے  ہوئے افراد کے ریکارڈ کے محفوظ رکھنے، دیکھ بھال اور منتقلی کے حوالے سے پالیسی وضاحت جاری کی ہے۔ یہ قدم اس وجہ سے اٹھایا گیا ہے کہ بالغ گود لیے گئے افراد کو گود لینے کے ضوابط 2022 کے ضابطہ 47(2) کے تحت بچوں کے والدین کی تلاش کے ذریعے ان کی اصل معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض معاملات میں ریکارڈ دستیاب نہیں ہوتے کیونکہ متعلقہ خصوصی گود لینےسے متعلق ایجنسی یا  بچوں کی نگہداشتِ کا ادارہ بند ہو چکا ہوتا ہے، اس کی رجسٹریشن منسوخ ہو گئی ہوتی ہے، اسے کسی دوسرے ادارے میں ضم کر دیا جاتا ہے یا اس کے فرائض کسی اور ادارے کو منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سی اے آر اےنے واضح کیا ہے کہ ادارے کی عملی حیثیت کچھ بھی ہو، ریکارڈ محفوظ رکھنے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام طبعی اور ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ طریقے سے محفوظ رکھے جائیں اور انہیں مقررہ اتھارٹی یا ادارے کو منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ریکارڈ کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے کے مناسب انتظامات بھی کیے جائیں تاکہ مستقبل میں گود لیے گئے افراد اپنی اصل معلومات کی تلاش کے عمل میں ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ سی اے آر اے نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ریکارڈ کو قانون میں مقرر طریقۂ کار کے علاوہ کسی صورت میں ضائع، ترک یا ناقابلِ رسائی نہ بنایا جائے۔ یہ دفعات ایکٹ کی دفعہ 99 کے مطابق بھی ہیں، جو بچوں سے متعلق رپورٹس اور ریکارڈ کی رازداری کو لازمی قرار دیتی ہے۔

تیسری دفتری یادداشت کے ذریعے سی اے آر اے نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جووینائل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 74 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں، جس کے تحت قانون سے متصادم بچوں یا نگہداشت اور تحفظ کے محتاج بچوں کی شناخت ظاہر کرنا ممنوع ہے۔

 سی اے آر اے نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں اور حکام کو ضروری ہدایات جاری کریں تاکہ خصوصی  گود لینے سے متعلق ایجنسیوں اور بچوں کی نگہداشت کے اداروں میں رہنے والے بچوں کی تصاویر، ویڈیوز یا شناخت ظاہر کرنے والی کوئی بھی معلومات سوشل میڈیا سمیت کسی بھی ذریعے سے  شائع نہ کی جائے۔

ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں مناسب کارروائی کی جائے اور افسران و عملے کو رازداری کے تقاضوں اور ایکٹ کی دفعہ 74(3) کے تحت سزا سے متعلق نتائج کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

ان اقدامات کے ذریعے  سی اےآر اے کا مقصد گود لینے سے متعلق کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ ملک بھر میں بچوں اور گود لیے گئے افراد کے حقوق، وقار اور نجی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اتھارٹی نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ  ہندوستان میں گودلینے سے متعلق نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

دفتر ی یادداشت (او ایم) کی تفصیلات درج ذیل لنک  پر دیکھی جا سکتی ہیں:

  1. https://cara.wcd.gov.in/PDF/Circular/LFA-%20Procedure%20%20%20Timeline-%20Bilingual-%2019.02.2026.pdf
  2. https://cara.wcd.gov.in/PDF/Circular/OM%20dt.%2006.02.2026%20policy%20clarification%20regarding%20safekeeping,%20maintenane%20&%20transfer%20of%20records%20of%20children%20and%20adoptees%20for%20future%20reference%20and%20root%20search%20purpose-reg.pdf
  3. https://cara.wcd.gov.in/PDF/Circular/OM%20dt.%2005.03.2026%20Strict%20compliance%20of%20Section%2074%20of%20JJ%20Act,%202015%20regarding%20prohibition%20on%20disclosure%20of%20identity%20of%20children-reg.pdf

***

Urdu-4007

(ش ح۔ م ش۔ش ب


(ریلیز آئی ڈی: 2240511) وزیٹر کاؤنٹر : 21