مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ مملکت برائے مواصلات ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر کا تمل ناڈو کے چنئی میں جی ڈی ایس سمیلن سے خطاب


وزیرِ مملکت برائے مواصلات نے کہا کہ گرامین ڈاک سیوک حکمرانی کی آخری نہیں بلکہ پہلی کڑی ہیں، ان کے بغیر سرکاری خدمات دیہات تک نہیں پہنچ سکتیں

ڈاکٹر پیماسانی نے تمل ناڈو پوسٹل سرکل کو مجموعی آمدنی کے لحاظ سے ملک میں دوسرا مقام حاصل کرنے پر سراہا

وزیرِ مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ گرامین ڈاک سیوک برادریوں کو جوڑنے اور وِکست بھارت کے ویژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

مرکزی وزیرِ مملکت نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ انڈیا پوسٹ کو ایک جدید لاجسٹکس اور خدماتی نیٹ ورک میں تبدیل کیا جا رہا ہے

ڈاکٹر پیماسانی نے ڈاک ملازمین پر زور دیا کہ وہ خدمات کے معیار میں بہتری اور آمدنی میں اضافے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 MAR 2026 1:53PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ مملکت برائے مواصلات جناب چندر شیکھر پیماسانی نے آج چنئی، تمل ناڈو میں منعقدہ گرامین ڈاک سیوک (جی ڈی ایس) سمیلن سے خطاب کیا اور برادریوں کو آپس میں جوڑنے اور حکمرانی کی خدمات کو آخری فرد تک پہنچانے میں انڈیا پوسٹ کے تاریخی کردار کو اجاگر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001762Y.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پیماسانی نے جی ڈی ایس ملازمین کو دیہی ہندوستان کی دھڑکن قرار دیا اور کہا کہ وہ ملک بھر میں سرکاری خدمات کو شہریوں تک پہنچانے میں ایک اہم رابطہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے جی ڈی ایس برادری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: ’’خطوط سے پارسل تک، سرکاری اسکیموں سے بینکنگ خدمات تک، آدھار سے پاسپورٹ خدمات تک — آپ ہر گاؤں، ہر گلی اور ہر گھر تک پہنچتے ہیں۔ سخت دھوپ ہو یا موسلا دھار بارش، آپ دیہی ہندوستان کے لیے اعتماد کا پل اور خدمت کی ایک روشن مثال بنے ہوئے ہیں۔‘‘

ہندوستان میں منظم مواصلاتی نظام کی طویل تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے بتایا کہ موریہ سلطنت کے دور میں شہنشاہ چندرگپت موریہ نے شاہی قاصدوں کا ایک منظم نظام قائم کیا تھا۔ اسی طرح جنوبی ہند میں چولا، پانڈیا اور چیرا سلطنتوں نے بھی اپنے علاقوں میں پیغام رسانی کے وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھے تھے۔

جدید ڈاک نظام کی بنیاد 1774 میں کلکتہ میں جنرل پوسٹ آفس کے قیام سے پڑی، جبکہ موجودہ شکل میں انڈیا پوسٹ کا قیام یکم اکتوبر 1854 کو عمل میں آیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002MWQO.jpg
 

وزیرِ مملکت نے بھارت میں ای۔کامرس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی سے پیدا ہونے والے وسیع مواقع کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت انڈیا پوسٹ کی پارسل خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی 1000 کروڑ روپے سے کم ہے، جبکہ ایک نجی کوریئر کمپنی کی آمدنی تقریباً 6000 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا: ’’آج لاجسٹکس کا بازار تقریباً 10 ارب ڈالر (تقریباً 90 ہزار کروڑ روپے) کے مواقع فراہم کر رہا ہے اور توقع ہے کہ 2031 تک یہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر (تقریباً 1.8 لاکھ کروڑ روپے) تک پہنچ جائے گا۔‘‘
انہوں نے ڈاک ملازمین پر زور دیا کہ وہ اس ابھرتے ہوئے موقع سے فائدہ اٹھانے میں فعال کردار ادا کریں۔

جناب پیماسانی نے کہا کہ کئی دہائیوں تک انڈیا پوسٹ ملک بھر میں مواصلات کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس کے ذریعے قانونی دستاویزات، منی آرڈر، اخبارات اور کتابیں لوگوں تک پہنچتی رہیں، جنہوں نے عوامی مباحثے کو شکل دی اور دور دراز مقامات پر رہنے والے خاندانوں کو آپس میں جوڑے رکھا۔

دیہی علاقوں میں اکثر ڈاکیہ ایک قابلِ اعتماد مددگار کے طور پر بھی کام کرتا تھا، جو دیہاتیوں کو خطوط پڑھنے اور لکھنے میں مدد دیتا اور گاؤں کو وسیع دنیا سے جوڑنے کا ذریعہ بنتا تھا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003DO8N.jpg

وزیرِ مملکت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آج انڈیا پوسٹ دنیا کے سب سے بڑے ڈاک نیٹ ورکس میں سے ایک چلا رہا ہے، جس میں تقریباً چار لاکھ مستقل ملازمین اور ڈھائی لاکھ سے زائد گرامین ڈاک سیوک ملک بھر میں 1.6 لاکھ سے زیادہ ڈاک خانوں کے ذریعے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے مواصلاتی منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے جناب پیماسانی نے کہا کہ موبائل فون، انٹرنیٹ اور نجی کوریئر کمپنیوں کی آمد نے لاجسٹکس کے شعبے کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف اخراجات کم کرنے کے بجائے آمدنی میں اضافہ اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر پیماسانی نے اس بات پر زور دیا کہ گرامین ڈاک سیوک حکمرانی کو نچلی سطح تک پہنچانے میں منفرد کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’آپ حکمرانی کی آخری کڑی نہیں بلکہ پہلی کڑی ہیں۔ آپ کے بغیر سرکاری خدمات گاؤں تک نہیں پہنچ سکتیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نجی لاجسٹکس کمپنیاں وہاں کام کرتی ہیں جہاں منافع ہو، جبکہ انڈیا پوسٹ وہاں خدمات فراہم کرتا ہے جہاں لوگ رہتے ہیں، خواہ وہ دور دراز قبائلی علاقے ہوں یا دشوار گزار خطے۔

انہوں نے تمل ناڈو پوسٹل سرکل کی کارکردگی کو بھی سراہا اور بتایا کہ مجموعی آمدنی کے لحاظ سے یہ ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی قیادت اور مرکزی وزیر برائے مواصلات جناب جیوتیرادتیہ سندھیا کی رہنمائی میں محکمۂ ڈاک کو ایک روایتی خدماتی محکمے سے بدل کر بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر مبنی اور صارف مرکز عوامی لاجسٹکس ادارے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تبدیلی کے تحت کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کے سینئر عہدیداروں کی تقرری، کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ اور خدمات کی فراہمی پر زیادہ توجہ شامل ہے۔ اسی سلسلے میں تقریباً 5000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے آئی ٹی 2.0 پلیٹ فارم کے ذریعے بڑی تکنیکی بہتری لائی جا رہی ہے، جس کے تحت ڈاک اور پارسل کی ابتدا سے انجام تک نگرانی، صارفین کو ایس ایم ایس اطلاع، یو پی آئی کے ذریعے بغیر نقد ادائیگی، جیو ٹیگنگ اور مربوط ڈیجیٹل ڈیش بورڈ جیسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

جناب پیماسانی نے ڈیجی پِن کے آغاز کا بھی ذکر کیا، جو 10 ہندسوں پر مشتمل جیو کوڈ شدہ قومی پتا نظام ہے۔ یہ نظام ہنگامی خدمات کے فوری ردِعمل، ای۔کامرس، ڈرون لاجسٹکس اور اسمارٹ طرزِ حکمرانی میں مدد فراہم کرے گا۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت نے گرامین ڈاک سیوکوں کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے نظرِ ثانی شدہ معاوضہ، کارکردگی پر مبنی ترغیبی نظام، ترقی کے مواقع، تربیتی پروگرام اور تبادلے کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004GNR7.jpg

ڈاک ملازمین کو انڈیا پوسٹ کی روایات کو برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے ڈاکٹر پیماسانی نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی خدمات کو پوری لگن اور پیشہ ورانہ انداز کے ساتھ انجام دیں۔

انہوں نے کہا: ’’ہر روز اپنے ڈاک خانے کو وقت پر کھولیں۔ فخر کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ ہر بچت کھاتے کا کھلنا اور ہر بیمہ پالیسی کا اجرا نہ صرف محکمے بلکہ ملک کو بھی مضبوط بناتا ہے۔‘‘

انہوں نے گرامین ڈاک سیوک ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو بھارت کے ترقیاتی سفر کا اہم حصہ سمجھیں۔

انہوں نے کہا: ’’آپ کو شاید لگتا ہو کہ آپ صرف ایک ڈاکیہ یا جی ڈی ایس ہیں، مگر جو بیگ آپ اٹھاتے ہیں اس میں صرف خطوط نہیں ہوتے بلکہ ایک پوری قوم کا اعتماد ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ انڈیا پوسٹ آج بھی ملک کو جوڑنے اور وکست بھارت کے ویژن  کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4091


(ریلیز آئی ڈی: 2240358) وزیٹر کاؤنٹر : 24
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil