وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

قومی کولڈ واٹر فشریز کانفرنس: سری نگر میں تکنیکی مباحث اور شعبہ جاتی اختراعات کو نمایاں طور پر اجاگر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 MAR 2026 10:13AM by PIB Delhi

محکمۂ ماہی پروری نے ایس کے آئی سی سی، سری نگر میں قومی کولڈ واٹر فشریز کانفرنس کا انعقاد کیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا قومی مکالمہ تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد بھارت کی سرد پانی کی ماہی پروری کی صلاحیت کو پائیدار طریقے سے بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا تھا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-03-15101638E714.jpg

کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش بھی منعقد کی گئی جس میں سرد پانی کی ماہی پروری کے شعبے میں جدید ترین اختراعات پیش کی گئیں۔ اس نمائش میں مختلف اداروں، سرکاری محکموں، صنعت کے رہنماؤں اور ترقی پسند کاروباری اداروں سمیت 17 نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ ان سب نے جدید ٹیکنالوجی، معیاری وسائل اور بہترین عملی طریقوں کی نمائش کی۔ نمائش میں شریک اداروں میں نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ، محکمۂ ماہی پروری (مرکزی زیرِ انتظام علاقہ جموں و کشمیر)، شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں، نبارڈ (نیشنل بینک برائے زرعی و دیہی ترقی)، کشمیر ٹراؤٹ، کے ٹو ایکوا کلچر پرائیویٹ لمیٹڈ، آئی سی اے آر – سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کولڈ واٹر فشریز ریسرچ، نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن، گارویئر ٹیکنیکل فائبرز لمیٹڈ، سندھ، ٹراؤٹ لائیو فش وینڈنگ سینٹر گاندربل، ایم کے سی فوڈز، کپواڑہ کا متسیہ سیوا کیندر شامل تھے۔ اس کے علاوہ ٹراؤٹ مچھلی کی خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں جیسے گروویل ٹراؤٹ فیڈ، اے بی آئی ایس ٹراؤٹ فیڈ، بارہمولہ کی افروٹ ٹراؤٹ اور جے کے ٹراؤٹ فیڈ نے بھی شرکت کی اور اپنی مصنوعات پیش کیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-03-151016228OXE.jpg

کانفرنس کے دوران حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری کی جانب سے تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے جن میں مختلف اہم موضوعاتی شعبوں پر غور و خوض کیا گیا۔ ان موضوعات میں تحقیق و اختراع، ٹیکنالوجی کو اختیار کرنا، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کاروباری ترقی شامل تھے۔ ان اجلاسوں کی صدارت ڈاکٹر ابھی لکش لکھی، سکریٹری، محکمۂ ماہی پروری، حکومتِ ہند نے کی، جبکہ جناب ساگر مہرا، جوائنٹ سکریٹری (ان لینڈ فشریز)، محکمۂ ماہی پروری اور ڈاکٹر جے۔ کے۔ جینا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فشریز)، آئی سی اے آر نے شریک صدور کے طور پر شرکت کی۔ اس اجلاس میں یونیورسٹیوں کے ماہرین، صنعت کے نمائندے، ماہرینِ فن، کاروباری افراد اور ترقی پسند مچھلی پرور کسان شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران ڈاکٹر ابھی لکش لکھی نے کاروباری افراد اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تبادلۂ خیال کیا اور جموں و کشمیر سمیت دیگر ہمالیائی خطوں میں سرد پانی کی ماہی پروری کے زمینی امکانات اور درپیش چیلنجز کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ گفتگو میں شعبے کی ترقی کے مختلف تکنیکی پہلوؤں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

مچھلی پرور کسانوں نے کئی اہم تجاویز پیش کیں جن میں بیماریوں کی جانچ کے لیے تجربہ گاہوں کا قیام، بیج (فِش سیڈ) کی باقاعدہ دستیابی، صلاحیت سازی کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی کے مطابق بیج کی فراہمی اور پانی کی کمی کے مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت شامل تھی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-03-15101602ALTS.jpg

جناب پرویش بشٹ، سکریٹری، اپلاگجنا سمیتی، اتراکھنڈ نے زمینی سطح پر درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پانی کی آلودگی، بہتر تجربہ گاہی سہولتوں کی کمی اور بارش کے دوران ریس ویز (مچھلی پروری کے بہاؤ والے تالابوں) میں آکسیجن کی کمی جیسے مسائل اس شعبے کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔

جناب قیصر کنعانین، خیبر ایکوا کلچر نے کاروباری ترقی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عمودی یکجائی (ورٹیکل انٹیگریشن) کے ذریعے کاروباری مواقع کو مضبوط بنایا جائے اور کاروبار کے فروغ کے لیے فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) جیسی اسکیموں تک بہتر رسائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرد پانی کی آبی پروری کی ترقی کا دارومدار ہنر مند افرادی قوت کی دستیابی اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کے مطابق مؤثر پیداواری اور کاروباری ماڈلز اپنانے پر ہے۔

جناب آدتیہ رِتھوک نرّا، بانی، اسمارٹ گرین ایکوا کلچر، حیدرآباد نے کہا کہ سرد پانی کی مچھلی کی پیداوار اب بھی محدود ہے کیونکہ اس شعبے میں تجارتی سطح پر اپنانے اور تکنیکی اختراعات کی رفتار ابھی کم ہے۔

چاروں اجلاسوں کے دوران مختلف متعلقہ فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرد پانی والی ریاستوں میں رینبو ٹراؤٹ کے لیے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹی قائم کی جائے، تحقیق و اختراع کو مزید آگے بڑھایا جائے، مچھلی کے بیج اور بروڈ اسٹاک کی دستیابی بہتر بنائی جائے اور بیماریوں کی تحقیق و تفتیش اور بایو سکیورٹی کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ مباحثوں میں اس ضرورت پر بھی زور دیا گیا کہ سرد پانی والی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایف ایس ایس اے آئی سے منظور شدہ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی سہولتیں قائم کی جائیں، جو آئی کیو ایف (انڈیویجول کوئک فریزنگ)، ٹنل یا بلاسٹ فریزنگ جیسے جدید نظاموں سے لیس ہوں تاکہ برآمدات کے معیار کے مطابق فائٹو سینیٹری تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط کولڈ چین نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Screenshot2026-03-151015352LZZ.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4083


(ریلیز آئی ڈی: 2240309) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil