قانون اور انصاف کی وزارت
دشا اسکیم کے تحت ٹیلی لا پروگرام پر علاقائی ورکشاپ چنئی، تمل ناڈو میں منعقد
تمل ناڈو کے 38 اضلاع اور 16 خواہش مند بلاک میں موجود 12,560 کامن سروس سینٹر قبل از مقدمہ قانونی خدمات فراہم کر رہے ہیں
پرو بونو قانونی خدمات کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن 14454 دستیاب ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 4:30PM by PIB Delhi
وزارت قانون و انصاف، حکومت ہند کے محکمہ انصاف کی ڈیزائننگ اِنویٹو سلوشنز فار ہولسٹک ایکسیس ٹو جسٹس (ڈی آئی ایس ایچ اے) اسکیم کے تحت ٹیلی لا پروگرام کی سرگرمیوں پر ایک علاقائی ورکشاپ آج کلاوینار آرنگم، چنئی میں منعقد ہوئی۔ اس ورکشاپ کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانا اور آخری سطح تک انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داروں کی مؤثر شمولیت کو فروغ دینا تھا۔
اس تقریب میں راجندر وشوناتھ ارلیکر، گورنر تمل ناڈو؛ سشروت اروند دھرم ادھیکاری، مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ارجن رام میگھوال، مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے قانون و انصاف نے شرکت کی۔ اس موقع پر سینیئر سرکاری افسران، عدلیہ کے ارکان، وکلا، کامن سروس سینٹر (سی ایس سی) کے نمائندگان، لا اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔
کلیدی خطاب کرتے ہوئے گورنر جناب راجندر وشوناتھ ارلیکر نے مؤثر طریقے سے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، قانونی آگاہی اور کمیونٹی کی شمولیت کو یکجا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کو قانون کو سمجھنا اور اس کا احترام کرنا چاہیے اور انصاف کو دور دراز دیہات تک بھی پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا وکست بھارت کے وژن کے حصول کے لیے نہایت ضروری ہے۔
چیف جسٹس دھرم ادھیکاری جے نے کہا کہ انصاف تک رسائی ایک بنیادی آئینی ذمہ داری ہے جو آرٹیکل 14، 21 اور 39A میں مضمر ہے۔ انہوں نے ٹیلی لا، نیائے بندھو اور قانونی آگاہی کے پروگراموں جیسی پہل کاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم قانونی اداروں کے ساتھ شہریوں کی شمولیت کو نمایاں طور پر مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے دشا پہل کو ایک قانونی ابتدائی امدادی کِٹ سے تشبیہ دی جو ملک کو محض قانونی امداد سے آگے بڑھا کر قانونی بااختیاری کی طرف لے جا رہی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب ارجن رام میگھوال نے انصاف کو زیادہ قابل رسائی، کفایتی اور شہریوں پر مرکوز بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی لا، نیائے بندھو اور قانونی آگاہی کے پروگراموں جیسی پہل کاریوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے اور نچلی سطح تک قانونی خدمات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل محکمہ انصاف کے سیکریٹری نے مختصراً دشا فریم ورک کے مقاصد بیان کیے اور اس بات پر زور دیا کہ آگاہی عطائے اختیار اور جامع انصاف کی فراہمی کی جانب پہلا قدم ہے۔
تمل ناڈو میں ٹیلی لا پروگرام کی پیش رفت پر پیش کی گئی ایک پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ خدمات تمام 38 اضلاع اور 16 خواہش مند بلاک میں موجود 12,560 سے زائد کامن سروس سینٹر کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں، اس کے ساتھ ٹول فری ہیلپ لائن 14454 اور ٹیلی لا موبائل ایپلی کیشن بھی دستیاب ہیں۔
پروگرام کے دوران ڈاکٹر امبیڈکر گورنمنٹ لا کالج، پڈوچیری کے ذریعے نافذ کیے گئے نیایا اولی پروجیکٹ اور نیائے بندھو (پرو بونو قانونی خدمات) پروگرام پر مبنی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ فروری 2026 تک 10,000 سے زائد وکلا نیائے بندھو کے تحت رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ ملک بھر کے 109 لاء کالجوں میں پرو بونو کلب قائم کیے جا چکے ہیں۔
اس موقع پر شمال مشرقی خطے کی قبائلی برادریوں کے رسم و رواج پر مبنی قوانین کو دستاویزی شکل دینے والی 10 ای باکس بھی جاری کی گئیں، جو گواہاٹی ہائی کورٹ کے لا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں۔
ورکشاپ کا اختتام محکمہ انصاف کے جوائنٹ سیکریٹری (ایکسیس ٹو جسٹس) کی جانب سے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔
********
ش ح۔ ف ش ع
U: 4081
(ریلیز آئی ڈی: 2240286)
وزیٹر کاؤنٹر : 5