وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری نیز پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے اننت ناگ، جموں و کشمیر میں 100 کروڑ روپے کے مربوط ایکوا پارک پروجیکٹ کی منظوری کا اعلان کیا
سری نگر میں منعقدہ اپنی نوعیت کی پہلی ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کی قومی کانفرنس کے دوران “ ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کی ترقی کے لیے ماڈل رہنما خطوط” جاری کیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 3:55PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے آج محکمۂ ماہی پروری، حکومتِ ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے سری نگر میں شیرِ کشمیر بین الاقوامی کانفرنس مرکز (ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ قومی کانفرنس برائے ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کے دوران ضلع اننت ناگ میں قائم کیے جانے والے 100 کروڑ روپے کے مربوط ایکوا پارک پروجیکٹ کی منظوری کا اعلان کیا اور “ ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کی ترقی کے لیے ماڈل رہنما خطوط” جاری کیے۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا، وزیر اعلیٰ جناب عمر عبداللہ، ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری نیز پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل اور جموں و کشمیر کے وزیر برائے محکمۂ زراعتی پیداوار جناب جاوید احمد ڈار بھی موجود تھے۔
ضلع اننت ناگ میں قائم کیے جانے والا مربوط ایکوا پارک پروجیکٹ آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا، کولڈ واٹر فشریز کی ترقی کو فروغ دے گا، مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کرے گا اور خطے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ جناب عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر بھر کے ماہی پروری سے وابستہ بہترین کوآپریٹو سوسائٹیز، ترقی پسند مچھلی پالنے والے کسانوں، کے سی سی مستفیدین، ماہی پروری کے اسٹارٹ اپس اور مختلف سرکاری اسکیموں کے دیگر فائدہ اٹھانے والوں کو اعزازات سے نوازا۔
بہترین فشریز کوآپریٹو سوسائٹی کے زمرے میں جہلم فشرمین کوآپریٹو لمیٹڈ، مہراج پورہ سوپور (بارہمولہ)، افروات ٹراؤٹ فش فارمرز کوآپریٹو لمیٹڈ، ٹنگمرگ (بارہمولہ) اور باندی ٹراؤٹ فش کوآپریٹو لمیٹڈ (کپواڑہ) کو اجتماعی مچھلی پروری اور ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں نمایاں قیادت کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔
ترقی پسند کولڈ واٹر فش فارمرز کے زمرے میں جناب شکیل محمد تیلی (اننت ناگ)، جناب مہجور سلطان میر (کپواڑہ)، جناب عمر اکبر ڈار (پلوامہ)، جناب زید الاحَد (سری نگر) اور محترمہ سارہ بانو (سری نگر) کو پائیدار ٹراؤٹ مچھلی پروری میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے گئے۔

کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کے زمرے میں محترمہ نصرت جان زوجہ شبیر احمد گنی (ٹراؤٹ ریس وے، سری نگر)، جناب عبدالرشید گنی ولد مرحوم گل گنی (ٹراؤٹ ریس وے، سری نگر)، جناب عبدالرشید گنی ولد حبیب اللہ گنی (ٹراؤٹ ریس وے، سری نگر)، جناب بلال احمد ملک ولد علی محمد ملک (نیٹ/بوٹ، سری نگر) اور جناب آصف احمد ملک ولد حافظ اللہ ملک (نیٹ/بوٹ، سری نگر) کو آبی زراعت میں سائنسی اور قرض پر مبنی طریقوں کو اپنانے کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔

ماہی پروری اسٹارٹ اپس کے زمرے میں میسرز شیشانگ ٹراؤٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب منظور احمد بھٹ (لائیو فش وینڈنگ سینٹر، اننت ناگ)، میسرز اسپرنگ ویلی فیڈ مل کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب گوہر رسول ریشی (فیڈ مل، سری نگر)، میسرز فشریز پیراڈائز کی نمائندگی کرتے ہوئے مس نیہا آتری (کارپ یونٹ، سامبا)، میسرز راکیش بایوفلوک کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب راکیش کمار (بایوفلوک یونٹ، جموں)، میسرز کشمیر ٹراؤٹ (کولڈ اسٹوریج یونٹ، سری نگر) اور میسرز رینا ٹراؤٹ فارم کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب ریاض احمد رینا (ٹراؤٹ یونٹ، گاندربل) کو فیڈ، مچھلی پروری، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں نمایاں کاروباری قیادت کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔
اس کے علاوہ محترمہ سارہ بانو (سری نگر) کو ایف آئی ڈی ایف اسکیم کے تحت ایک نئے آر اے ایس یونٹ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔
مچھلی پکڑنے کے بعد انتظام کو بہتر بنانے کے لیے جناب ارسلان علی (پلوامہ)، جناب مظفر احمد ڈار (بارہمولہ)، جناب محمد اقبال ملک (کُلگام)، جناب شاکر احمد میر (شوپیاں) اور جناب عمر اکبر ڈار (پلوامہ) کو ریفریجریٹڈ گاڑیاں فراہم کی گئیں۔
اسی طرح آخری مرحلے تک نقل و حمل اور مقامی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے جناب فاروق احمد اخون، جناب غلام نبی کالو (بڈگام)، جناب عمر فاروق ڈار (بارہمولہ)، جناب ارشاد احمد کھورو (اننت ناگ) اور جناب مدثر احمد کھنڈے (کپواڑہ) کو تھری وہیلر گاڑیاں فراہم کی گئیں۔
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری نیز پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا، وزیر اعلیٰ جناب عمر عبداللہ اور دیگر معزز شخصیات نے مشترکہ طور پر ریزروائر فشریز اور ایکوا کلچر مینجمنٹ کے لیے ماڈل رہنما خطوط جاری کیے۔ ان رہنما خطوط میں سائنسی طریقے سے فش سیڈ اسٹاکنگ، کیج اور پین پر مبنی ایکوا کلچر، لیز اور انتظامی نظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ویلیو چین روابط اور نگرانی کے نظام سے متعلق جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر میں انٹیگریٹڈ ایکوا پارک کی منظوری خطے کی ترقی کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جناب نریندر مودی کی قیادت میں مچھلی پالنے والے کسانوں اور اس شعبے سے وابستہ افراد کو مخصوص فلاحی اسکیموں کے ذریعے بااختیار بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں تیز رفتار ترقی اور تکنیکی پیش رفت ممکن ہو رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمالیائی خطہ قدرتی طور پر ہندوستان میں کولڈ واٹر فشریز کا اہم مرکز ہے، اور اس شعبے میں بروڈ اسٹاک کی ترقی، ہیچریز، فیڈ ملز اور آر اے ایس یونٹس کے قیام جیسے منظم اقدامات کے ذریعے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ سے بہتر روابط قائم کرنا اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ آئندہ حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ہندوستان کی حکومت کے تعاون سے جموں و کشمیر کولڈ واٹر فشریز کے شعبے میں پائیدار اور جامع ترقی کی سمت میں مسلسل آگے بڑھتا رہے گا۔

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری نیز پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹھنڈے پانی میں مچھلی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار میں اضافہ، پیداواری صلاحیت میں بہتری، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور برآمدی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، جہاں ان اقسام کی مچھلیوں کی مضبوط طلب موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کولڈ واٹر علاقوں میں مکمل ویلیو چین کی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ وہاں ٹراؤٹ اور دیگر اقسام کی مچھلیوں کی پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کو جدید بنیادی ڈھانچے اور مضبوط مارکیٹ روابط کے ذریعے مؤثر بنایا جا سکے۔
مرکزی وزیر نے مچھلی پالنے والے کسانوں کو کوآپریٹو سوسائٹیز اور ایف ایف پی اوز کے ذریعے منظم کرنے پر زور دیا اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ کسانوں کو سرکاری اسکیموں، بنیادی ڈھانچے اور قرض کی سہولتوں تک رسائی دلانے میں مدد فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اننت ناگ میں منظور کیا گیا 100 کروڑ روپے کا ایکوا پارک اور ایف آئی ڈی ایف کے تحت دستیاب مالی معاونت مقامی کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد فراہم کرے گی۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ جناب عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر کے وافر ٹھنڈے پانی کے وسائل کو پائیدار طریقے سے استعمال کرنا نہایت اہم ہے اور اس کے لیے ایسی ٹیکنالوجیوں اور سائنسی طریقوں کو اپنانا ضروری ہے جن کے ذریعے کولڈ واٹر ایکوا کلچر کو ماحولیات کو نقصان پہنچائے بغیر فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مسلسل جدت، تعلیمی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون اور شمال مشرقی خطے جیسے علاقوں کے بہترین طریقۂ کار کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پیداواری صلاحیت اور استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیوں کی مدد سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری نیز پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے اپنے خطاب میں ہندوستان میں ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایک علیحدہ وزارت کے قیام پر جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس خصوصی توجہ کی بدولت اس شعبے میں ہدف پر مبنی اقدامات اور نمایاں ترقی ممکن ہوئی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی مسلسل سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جموں و کشمیر میں قائم کیے جانے والے 100 کروڑ روپے کے ایکوا پارک کو نمایاں اقدام قرار دیا، جو جدت، تربیت، پروسیسنگ اور پیداوار کے اجتماع کے مراکز کے طور پر کام کرے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماہی پروری کا شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کمیونٹی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر دور دراز اور بلند پہاڑی علاقوں میں۔

جموں و کشمیر کے وزیر برائے زراعتی پیداوار، دیہی ترقی، پنچایتی راج، کوآپریٹو اور محکمۂ انتخابات جناب جاوید احمد ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان میں ٹراؤٹ مچھلی کی تقریباً 90 فیصد پیداوار میں حصہ ڈالتا ہے اور گاندربل اور اننت ناگ جیسے علاقے اس پیداوار کے لیے خاص طور پر معروف ہیں۔
انہوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہیچریز کی توسیع اور جدید کاری، اور بعد مچھلی پکڑنے کے بعد کے انتظام کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات نے اس شعبے کو ٹیکنالوجی پر مبنی روزگار کے ایک اہم ذریعے میں تبدیل کر دیا ہے۔

محکمۂ ماہی پروری کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر ابھلکش لکھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری ہندوستان کے قیمتی مقامی جرثومہ وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جہاں 278 سے زیادہ اقسام قومی پیداوار، ایکو ٹورزم اور مخصوص منڈیوں کے امکانات میں حصہ ڈالتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہدف پر مبنی اقدامات کے ذریعے سائنسی بنیادوں پر فش سیڈ اسٹاکنگ، موسمی حالات کے مطابق پرورش کے طریقے، بہتر کولڈ چین رابطہ اور اسٹارٹ اپس، خواتین کی قیادت والے گروپس اور ایف ایف پی اوز کے لیے براہ راست مارکیٹ روابط کو فروغ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 34 کلسٹرز کو مطلع کیا گیا ہے، جن میں لداخ، جموں و کشمیر اور اتراکھنڈ کے کلسٹرز بھی شامل ہیں، تاکہ مربوط اور علاقہ مخصوص ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی نمائش کو سراہا اور تکنیکی اجلاسوں کے دوران ہونے والی مفصل اور بامعنی گفتگو کی تعریف کی، جو ریاستوں کو پائیدار اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق کولڈ واٹر فشریز کی ترقی کے نفاذ میں رہنمائی فراہم کرے گی۔

محکمۂ ماہی پروری کے جوائنٹ سکریٹری جناب ساگر مہرا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس شعبے میں 230 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ویلیو چین کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبل از پیداوار سے لے کر پیداوار، مچھلی پکڑنے کے بعد انتظام اور مربوط ترقی تک پورے اقدار کے سلسلے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بروڈ بینکس، ہیچریز اور گرو آؤٹ فارمز کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے مختلف بلندی والے علاقوں کے مطابق فش سیڈ کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جسے ڈرون جیسی جدید لاجسٹک سہولیات کی مدد حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ آر اے ایس، ریس ویز اور کیج کلچر جیسے جدید پیداواری نظام کو وسعت دینا، آئی او ٹی پر مبنی نگرانی کے نظام کو نافذ کرنا، جینیاتی بہتری اور فیڈ کے نظام کو مضبوط بنانا، بعد از برداشت اور کولڈ چین نظام کو جدید بنانا اور کلسٹرز کو مؤثر طور پر فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کانفرنس کے دوران ایک مختصر فلم بھی پیش کی گئی جس میں اس شعبے کی ترقی کی داستان اور پائیدار اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔
اس کانفرنس میں ہائبرڈ طریقے سے 10 ہزار سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر حکومتِ ہندوستان کے محکمۂ ماہی پروری، جموں و کشمیر کے محکمۂ ماہی پروری، وزارتِ تجارت و صنعت، ڈی پی آئی آئی ٹی، وزارتِ خوراکی پروسیسنگ صنعتیں، محکمۂ مویشی پروری، وزارتِ توانائی اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ ایم پی ای ڈی اے، ای آئی سی، این ایف ڈی بی، این سی ڈی سی، نابارڈ کے نمائندے، آئی سی اے آر کے اداروں کے سینئر سائنس دان، ایس کے یو اے ایس ٹی کشمیر کے اساتذہ اور طلبہ، ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیز، ترقی پسند مچھلی پالنے والے کسان، صنعت کے نمائندے، اسٹارٹ اپس اور ماہی پروری کے اقدار کے سلسلے سے وابستہ کاروباری افراد بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :4072 )
(ریلیز آئی ڈی: 2240226)
وزیٹر کاؤنٹر : 8