کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

 کسانوں کے تحفظ کے لیے جعلی کھادوں اور بدعنوانیوں کے خلاف سخت کارروائی


کھادوں کو ضروری شے قرار دیا گیا؛ مرکز نے ٹیگنگ اور زبردستی فروخت کو روکنے کے اقدامات مزید مضبوط کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 4:27PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے کسانوں کو معیاری کھادوں کی دستیابی یقینی بنانے اور ملک میں جعلی کھادوں کی تیاری اور فروخت کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔

لوک سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے کیمیکلز و فرٹیلائزرز جناب انوپریہ پٹیل نے بتایا کہ فرٹیلائزر (غیر نامیاتی، نامیاتی یا مرکب) کنٹرول آرڈر، 1985 جو ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کے تحت نافذ ہے، مقررہ معیارات پر پورا نہ اترنے والی کھادوں کی تیاری یا فروخت کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ ریاستی حکومتیں اس کے نفاذ کی مجاز اتھارٹیز ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس کی منسوخی یا معطلی سمیت ضروری اشیاء ایکٹ کے تحت تعزیری کارروائی کرتی ہیں، جس کے تحت تین ماہ سے سات سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

حکومتِ ہند ریاستوں کی جانب سے کالا بازاری، ذخیرہ اندوزی، غیر معیاری کھادوں اور ان کے غیر قانونی استعمال سے متعلق کارروائیوں کی ہفتہ وار بنیاد پر نگرانی کرتی ہے۔ اپریل 2025 سے اب تک ملک بھر میں 4,30,541 چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں 15,544 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، 6,620 لائسنس معطل یا منسوخ کیے گئے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 794 ایف آئی آر درج کی گئیں۔

مزید برآں ریاستی حکومتوں سے موصولہ معلومات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران زیادہ تر ریاستوں نے اطلاع دی ہے کہ کسی فیکٹری یا کمپنی کے جعلی کیمیائی کھاد بنانے میں ملوث ہونے کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم چند ریاستوں نے بعض افراد یا فروخت کرنے والوں کے خلاف ایسے معاملات کی اطلاع دی ہے اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ چھتیس گڑھ میں دو ایف آئی آر درج کی گئیں؛ ہریانہ میں چار ایف آئی آر؛ کرناٹک میں 15 ایف آئی آر؛ مدھیہ پردیش میں جعلی کھادوں کے 16 معاملات سامنے آئے جن میں 14 ایف آئی آر درج کی گئیں؛ مہاراشٹر میں جعلی کھادوں میں ملوث 19 مینوفیکچررز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے؛ اوڈیشہ میں تین معاملات رپورٹ ہوئے؛ راجستھان میں مشتبہ کھادوں کے 42 مینوفیکچررز کے خلاف کارروائی کی گئی؛ جبکہ اتر پردیش میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 36 معاملات رپورٹ ہوئے۔

مزید برآں حکومتِ ہند نے کھادوں کو ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کے تحت ضروری شے قرار دیا ہے اور ریاستی حکومتوں کو کسی بھی قسم کی ٹیگنگ یا زبردستی فروخت کو روکنے کے لیے مکمل اختیارات فراہم کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ فرٹیلائزرز کی جانب سے کھاد بنانے والی کمپنیوں اور ریاستی حکومتوں کو باقاعدگی سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ سبسڈی والی کھادوں کے ساتھ دیگر مصنوعات کو جوڑ کر فروخت کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

 

 

************

ش ح ۔   م    ع ۔  م  ص

(U : 4011   )


(ریلیز آئی ڈی: 2239884) وزیٹر کاؤنٹر : 10