خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جووینائل جسٹس ایکٹ، 2015 (بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے) کے نفاذ اور انتظام  کے لیے خواتین و بچوں کی ترقی وزارت ذمہ دار


مشن وتسلیہ اسکیم بھکاری بچوں سمیت دیگر بچوں کی بحالی اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں مؤثر سماجی شمولیت کے لیے جامع خدمات فراہم کرتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 4:14PM by PIB Delhi

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ ، 2015 (جے جے ایکٹ ، 2015) کا انتظام کرتی ہے جو بچوں کی حفاظت ، تحفظ ، وقار اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی قانون سازی ہے ۔  یہ ایکٹ نگہداشت اور تحفظ کی ضرورت  مند بچوں (سی این سی پی) اور قانونی  تنازعہ میں پھنسے بچوں (سی سی ایل) کی دیکھ بھال ، تحفظ ، ترقی ، علاج اور سماج کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کے ذریعے ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرکے تحفظ فراہم کرتا ہے ۔  یہ بچے کے بہترین مفاد کو محفوظ بنانے کے لیے دیکھ بھال اور تحفظ کے معیارات کی وضاحت کرتا ہے ۔

جے جے ایکٹ ، 2015 کی دفعہ 2 )14)(ii)میں کہا گیا ہے کہ ایک بچہ جو فی الحال نافذمزدوروں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کرتا ہوا پایا جاتا ہے یا بھیک مانگتا ہوا پایا جاتا ہے ، یا سڑک پر رہتا ہے ، اسے ’نگہداشت اور تحفظ کی ضرورت والے بچے‘ کے طور پر شامل کیا جاتا ہے ۔  جے جے ایکٹ ، 2015 کی دفعہ30-27 چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کو بچوں کے سی این سی پی زمرے کے حوالے سے ان کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کا اختیار دیتی ہے ۔  جے جے ایکٹ 2015 کی بنیادی ذمہ داری اور اس پر عمل درآمد ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر ہے ۔

خواتین و بچوں کی ترقی کی وزارت کی مشن وتسلیہ اسکیم کے تحت سی این سی پی اور سی سی ایل زمرے کے بچوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں، جن میں ادارہ جاتی دیکھ بھال اور غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کی خدمات شامل ہیں۔ اسکیم بچوں بشمول بھیک مانگنے والے بچوں  کوبحالی اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شمولیت کے لیے خدمات فراہم کرتی ہے۔ مشن وتسلیہ اسکیم کے تحت قائم چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز( سی سی آئیز) عمر کے مطابق تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی، تفریح، صحت کی دیکھ بھال، مشاورت وغیرہ میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کے تحت بچوں کو دیکھ بھال اور حفاظت کی ضرورت کے لیے  مدد، عرضی سرپرستی اور بعد از دیکھ بھال کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔

اس اسکیم کے تحت ایمرجنسی آؤٹ ریچ خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں، جن میں مشکل حالات میں بچوں کے لیے چائلڈ ہیلپ لائن 1098 پورے سال، ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے(24x7x365) شامل ہے، جو وزارت داخلہ کی ایمرجنسی ریسپانس سپورٹ سسٹم-112 (ای آر ایس ایس-112) ہیلپ لائن کے ساتھ مربوط ہے۔

اس کے علاوہ قومی سطح پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نیشنل کمیشن اور ریاستی سطح پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسٹیٹ کمیشنز کو جووینائل جسٹس ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

قومی کمیشن برائےاطفال کے حقوق کے تحفظ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں(یو ٹی ایز) کے ساتھ چلڈرن ان اسٹریٹ سچویشنز(سی آئی ایس ایس) 2.0" پر معیاری آپریٹنگ پروسیجر تیار کیا اور شیئر کیا ہے، تاکہ بچوں کی بھیک مانگنے، بچوں کی مزدوری اور بچوں کے استحصال کے خلاف صفر برداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزارت برائے سماجی انصاف وتفویض اختیارات نے ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ’’ایس ایم آئی ایل ای- ’’معاشی روزگار اور کاروبار کے لیے پسماندہ افراد کی معاونت۔‘‘نافذ کی ہے ، جس میں بھیک مانگنے کے عمل میں مصروف بچوں سمیت بھیک مانگنے والے دیگر افراد کی جامع بحالی کے لیے ذیلی اسکیم شامل ہے ۔  یہ اسکیم کھانا ، شیلٹر ہومز ، طبی سہولیات ، مشاورت ، بحالی ، بنیادی دستاویزات ، ہنر مندی کی ترقی ، بھیک مانگنے میں مصروف افراد کے بچوں/بچوں کو تعلیم سمیت معاشی روابط جیسی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں خواتین و بچوں کی ترقی کی وزیر محترمہ اَنّ پورنا  دیوی نے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

***

ش ح ۔ م ع ن۔ ن ع

U. No.3990

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2239720) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil