وزارتِ تعلیم
وزارتِ تعلیم نے دہلی میں وسائل و میرٹ وظیفہ قومی اسکیم پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 3:30PM by PIB Delhi
وزارتِ تعلیم کے تحت محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے 10 مارچ 2026 کو نئی دہلی میں قومی وسائل و میرٹ وظیفہ اسکیم کو نافذ کرنے والے ریاستی، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ضلعی سطح کے افسران کے ساتھ ایک روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ کی صدارت محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے سکریٹری جناب سنجے کمار نے کی۔
سکریٹری، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے اجلاس کی کارروائی کی قیادت کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو نچلی سطح تک مؤثر طریقے سے نافذ کرنے پر زور دیا۔ اس جائزے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں بالخصوص مقررہ کوٹے کے مؤثر استعمال اور جماعت نہم سے جماعت دوازدہم تک طلبہ کو وظیفے کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

محترمہ اے سریجا، اقتصادی مشیر، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی، جناب بھوپال نندا، پرنسپل سی سی اے، وزارتِ تعلیم، اور ڈاکٹر پنکج کے پی شریاسکر، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (شماریات)، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی ان افسران میں شامل تھے جنہوں نے غور و خوض کے عمل میں حصہ لیا۔
ڈاکٹر پنکج کے پی شریاسکر، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (شماریات)، نے یو ڈی آئی ایس ای پلس کے ارتقا پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ نظام اب حقیقی وقت پر مبنی اور ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ محترمہ اے سریجا، اقتصادی مشیر (محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی)، نے اس بات پر زور دیا کہ قومی وظیفہ پورٹل پر ریاستی سطح کے افسران کی جانب سے بروقت تصدیق نہایت ضروری ہے تاکہ معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو وظیفے کی رقم بلا تاخیر مل سکے۔

ریاستی نوڈل افسران کے ساتھ منعقدہ تعاملی اجلاس میں اسکیم کے نچلی سطح پر پیش آنے والی مشکلات کے حل اور عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ یہ اقدام محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مرکزی وظیفہ اسکیموں کو بروقت، شفاف اور طلبہ دوست انداز میں مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔
مرکزی شعبہ جاتی اسکیم قومی ذرائع و میرٹ وظیفہ اسکیم کے تحت معاشی طور پر کمزور طبقات کے باصلاحیت طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں تاکہ آٹھویں جماعت کے بعد ان کے اسکول چھوڑنے کے رجحان کو روکا جا سکے اور انہیں ثانوی تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دی جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال جماعت نہم کے منتخب طلبہ کو ایک لاکھ نئے وظائف دیے جاتے ہیں، جبکہ جماعت دہم سے دوازدہم تک ان وظائف کی تجدید بھی کی جاتی ہے۔ یہ وظائف ان طلبہ کے لیے ہوتے ہیں جو ریاستی سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور مقامی اداروں کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہوتے ہیں۔ وظیفے کی رقم سالانہ بارہ ہزار روپے مقرر ہے۔
وہ طلبہ جن کے والدین کی تمام ذرائع سے سالانہ آمدنی ساڑھے تین لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو، اس وظیفے کے اہل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جماعت ہفتم کے امتحان میں کم از کم پچپن فیصد نمبر یا اس کے مساوی گریڈ حاصل کریں تاکہ وہ وظیفے کے انتخابی امتحان میں شرکت کے اہل بن سکیں۔ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے اس شرط میں پانچ فیصد تک نرمی دی جا سکتی ہے۔
ورکشاپ کے تکنیکی اجلاسوں میں مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جن میں مالیاتی نظام کے ذریعے وظیفے کی براہِ راست منتقلی کے ماڈیول کا عمل، طلبہ کے بینک کھاتوں کو آدھار سے منسلک کرنے کا طریقہ، اور گجرات، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کی جانب سے اس اسکیم کے مؤثر نفاذ کی بہترین عملی مثالیں شامل تھیں۔ اس کے بعد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے قومی وظیفہ پورٹل سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی اور قومی وظیفہ پورٹل کے عہدیداران نے وضاحتیں پیش کیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3903 )
(ریلیز آئی ڈی: 2239209)
وزیٹر کاؤنٹر : 12