جل شکتی وزارت
جل جیون مشن کے تحت محفوظ اور باقاعدہ پانی کی فراہمی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 3:24PM by PIB Delhi
ملک کے ہر دیہی گھرانے کو مناسب مقدار اور مقررہ معیار کے مطابق صاف پینے کے پانی کی باقاعدہ اور طویل مدتی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے، نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کے ساتھ، اگست 2019 سے حکومتِ ہند ریاستوں کے اشتراک سے جل جیون مشن – ہر گھر جل نافذ کر رہی ہے۔
مشن کے آغاز کے وقت صرف 3.23 کروڑ( 16.7 فیصد) دیہی گھرانوں کے پاس نل کے پانی کے کنکشن ہونے کی اطلاع تھی۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے 3 مارچ 2026 تک فراہم کردہ معلومات کے مطابق جل جیون مشن – ہر گھر جل کے تحت اب تک 12.58 کروڑ سے زائد اضافی دیہی گھرانوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس طرح 3 مارچ 2026 تک ملک کے تقریباً 19.36 کروڑ دیہی گھرانوں میں سے تقریباً 15.82 کروڑ( 81.71 فیصد) گھرانوں کو گھروں میں نل کے ذریعے پانی کی فراہمی حاصل ہے، جبکہ باقی 3.54 کروڑ گھرانوں کے لیے متعلقہ ریاستوں میں مختلف مراحل پر کام جاری ہے۔ 3 مارچ 2026 تک ملک بھر میں نل کے پانی کی فراہمی کی ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے صورتحال ضمیمے میں دی گئی ہے۔
جل جیون مشن کے تحت موجودہ رہنما خطوط کے مطابق پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی اسکیموں میں فراہم کیے جانے والے پانی کے معیار کے لیے ہندوستانی معیارات کے بیورو کے معیار 10500 کو معیار کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ عملی رہنما خطوط کے مطابق ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے جل جیون مشن کے تحت اپنی سالانہ فنڈنگ کے زیادہ سے زیادہ دو فیصد حصے کو پانی کے معیار کی نگرانی اور جانچ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی تجربہ گاہوں کا قیام اور ان کی مضبوطی، آلات، مشینری، کیمیائی مواد، شیشے کے برتن اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری، ماہر افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنا، کمیونٹی کے ذریعے فیلڈ ٹیسٹ کٹس کی مدد سے نگرانی، عوامی بیداری، پانی کے معیار سے متعلق تعلیمی پروگرام، تجربہ گاہوں کی منظوری یا شناخت وغیرہ شامل ہیں۔
مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد دیہی گھرانوں کو فراہم کیے جانے والے پائپ کے پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے ایک مختصر رہنما کتابچہ دسمبر 2024 میں جاری کیا گیا۔ اس کتابچے میں سفارش کی گئی ہے کہ پینے کے پانی کے نمونوں کی جامع جانچ مختلف مقامات پر کی جائے، جیسے پانی کے ماخذ (سطحی اور زیر زمین دونوں)، صفائی کے پلانٹ، ذخیرہ گاہوں اور تقسیم کے مقامات پر، اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ گھرانوں کو فراہم کیا جانے والا پانی مقررہ معیار کے مطابق ہو۔
مزید برآں جل جیون مشن کے تحت محکمہ اس مشن کے ذریعے فراہم کیے گئے گھریلو نل کے پانی کے کنکشن کی فعالیت کا جائزہ ایک آزاد تیسرے فریق کی ایجنسی کے ذریعے لیتا ہے، جس کا انتخاب معیاری شماریاتی نمونے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ فعالیت کے جائزے 2024 کے دوران معلوم ہوا کہ سروے کیے گئے دیہات میں 98.1 فیصد گھرانوں کے پاس نل کے پانی کے کنکشن موجود تھے۔ نل کے کنکشن رکھنے والے 87 فیصد گھرانوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ ہفتے کے دوران پانی ملا، جو مجموعی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح 84 فیصد گھرانوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق پانی ملتا ہے، 80 فیصد گھرانوں کو کم از کم 55 لیٹر فی فرد یومیہ پانی مل رہا ہے، 76 فیصد گھرانے جرثومی آلودگی سے پاک پائے گئے اور 81 فیصد سپلائی ذرائع کی جانچ میں کیمیائی آلودگی سے پاک پائے گئے۔ مقدار، معیار اور باقاعدگی کے معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے 76 فیصد گھریلو نل کے کنکشن مؤثر طور پر فعال پائے گئے۔
یہ معلومات آبی وسائل کے وزیر مملکت جناب وی سومنا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
ANNEXURE
Status of tap water supply across the country as on 03.03.2026
|
Sl. No.
|
State/ UT
|
Total rural HHs as on date
|
Rural HHs with tap water supply
|
Rural HHs without tap water supply
|
|
In No.
|
%
|
In No.
|
%
|
-
|
A&N Islands
|
0.62
|
0.62
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Andhra Pradesh
|
95.53
|
71.71
|
75.06
|
23.82
|
24.94
|
-
|
Arunachal Pradesh
|
2.29
|
2.29
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Assam
|
72.24
|
59.03
|
81.71
|
13.22
|
18.29
|
-
|
Bihar
|
167.55
|
160.36
|
95.71
|
7.19
|
4.29
|
-
|
Chhattisgarh
|
49.97
|
41.20
|
82.44
|
8.77
|
17.56
|
-
|
DNH & DD
|
0.85
|
0.85
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Goa
|
2.64
|
2.64
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Gujarat
|
91.18
|
91.18
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Haryana
|
30.41
|
30.41
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Himachal Pradesh
|
17.09
|
17.09
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Jammu & Kashmir
|
19.26
|
15.64
|
81.23
|
3.61
|
18.77
|
-
|
Jharkhand
|
62.53
|
34.51
|
55.18
|
28.03
|
44.82
|
-
|
Karnataka
|
101.31
|
87.83
|
86.70
|
13.48
|
13.30
|
-
|
Kerala
|
70.77
|
38.84
|
54.88
|
31.93
|
45.12
|
-
|
Ladakh
|
0.41
|
0.40
|
97.97
|
0.01
|
2.03
|
-
|
Madhya Pradesh
|
0.13
|
0.12
|
91.45
|
0.01
|
8.55
|
-
|
Maharashtra
|
111.29
|
82.27
|
73.92
|
29.02
|
26.08
|
-
|
Manipur
|
146.78
|
132.75
|
90.44
|
14.02
|
9.56
|
-
|
Meghalaya
|
4.52
|
3.59
|
79.60
|
0.92
|
20.40
|
-
|
Mizoram
|
6.51
|
5.43
|
83.47
|
1.08
|
16.53
|
-
|
Nagaland
|
1.33
|
1.33
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Odisha
|
3.64
|
3.44
|
94.47
|
0.20
|
5.53
|
-
|
Puducherry
|
88.64
|
68.48
|
77.25
|
20.17
|
22.75
|
-
|
Punjab
|
1.15
|
1.15
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Rajasthan
|
34.27
|
34.27
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Sikkim
|
107.69
|
63.00
|
58.50
|
44.69
|
41.50
|
-
|
Tamil Nadu
|
1.33
|
1.22
|
92.09
|
0.11
|
7.91
|
-
|
Telangana
|
125.26
|
112.20
|
89.57
|
13.06
|
10.43
|
-
|
Tripura
|
53.98
|
53.98
|
100.00
|
-
|
-
|
-
|
Uttar Pradesh
|
7.51
|
6.48
|
86.33
|
1.03
|
13.67
|
-
|
Uttarakhand
|
267.20
|
243.72
|
91.21
|
23.48
|
8.79
|
-
|
West Bengal
|
14.48
|
14.19
|
97.97
|
0.29
|
2.03
|
|
Total
|
19,35.87
|
15,81.70
|
81.71
|
3,54.17
|
18.29
|
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :3900 )
(ریلیز آئی ڈی: 2239173)
وزیٹر کاؤنٹر : 6