سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: اے این آر ایف کے تحت تحقیق اور منصوبے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAR 2026 4:06PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 10 ستمبر 2024 کو انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کے گورننگ بورڈ کی پہلی میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں ہندوستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے اور تحقیق و ترقی کے پروگراموں کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

بورڈ نے اے این آر ایف کی اسٹریٹجک مداخلتوں کے کئی اہم شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا، جن میں کلیدی شعبوں میں ہندوستان کی بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط بنانا، تحقیق و ترقی کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، جامع ترقی کو فروغ دینا، صلاحیت سازی، سائنسی پیش رفت اور اختراعی ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانا، نیز تعلیمی تحقیق اور صنعتی اطلاق کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا شامل ہے۔

اے این آر ایف کے قیام کے بعد شروع کیے گئے بڑے پروگرام درج ذیل ہیں:

اے این آر ایف کا مشن فار ایڈوانسمنٹ اِن ہائی امپیکٹ ایریاز (ایم اے ایچ اے) پروگرام
یہ پروگرام مشن موڈ میں ترجیحی بنیادوں پر چلنے والی، حل پر مبنی تحقیق پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد سائنسی چیلنجوں سے نمٹنا اور اہم سائنسی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی سرحدوں کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے لیے کثیر ادارہ جاتی، کثیر شعبہ جاتی اور متعدد محققین کے باہمی تعاون کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اب تک اے این آر ایف نے مہا پروگرام کے تحت ترجیحی شعبوں کے طور پر الیکٹرک وہیکل (ای وی) مشن، 2 ڈی انوویشن ہب، میڈ ٹیک مشن، اے آئی فار سائنس اینڈ انجینئرنگ، اور سی آر ایم ریسرچ پروگرام کی نشاندہی کر کے انہیں شروع کیا ہے۔

تحقیقی گرانٹس کے پروگرام
ملک بھر میں سائنس اور انجینئرنگ کے جدید اور سرحدی شعبوں میں تحقیق کے لیے معاون ماحول فراہم کرنے کی غرض سے اے این آر ایف نے تعلیمی اداروں کے محققین اور سائنسدانوں کو مالی مدد دینے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان میں ایڈوانسڈ ریسرچ گرانٹ (اے آر جی)، پرائم منسٹر ارلی کیریئر ریسرچ گرانٹ (پی ایم ای سی آر جی) اور انکلوسیویٹی ریسرچ گرانٹ (آئی آر جی) شامل ہیں۔

کنورجنس ریسرچ سینٹرز آف ایکسی لینس (سی او ای)
سائنس، ٹیکنالوجی، ہیومینٹیز، سوشل سائنسز اور سماج کے باہمی تعلق کے میدان میں جدید اور اثر انگیز تحقیق کے فروغ کے لیے اے این آر ایف نے کنورجنس ریسرچ سینٹرز آف ایکسی لینس (سی او ای) کے قیام کا آغاز کیا ہے۔ یہ مراکز ایسے پیچیدہ سماجی مسائل سے نمٹنے میں مدد دیں گے جن کے حل کے لیے تکنیکی علوم کے ساتھ ساتھ سماجی علوم اور ہیومینٹیز کے مربوط نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

سینٹر آف ایکسی لینس فار سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن انڈیکیٹرز اینڈ اینالیٹکس (سی او ای-ایس ٹی آئی آئی اے)
اے این آر ایف نے اس مرکز کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد ایس ٹی آئی اشاروں کے لیے ایک جامع نظام کے ذریعے ادارہ جاتی طریقۂ کار کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق اشاریوں کے معیار، ان کی سیاق و سباق سے مطابقت اور ان کے عملی اطلاق کو بہتر بنانا ہے، نیز ان کے تجزیے، تشریح اور پالیسی و پروگرام کی منصوبہ بندی کی مختلف سطحوں پر معلومات اور بصیرت کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو بین الاقوامی اشاریاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کر کے عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنا بھی اس کا ہدف ہے۔

پی اے آئی آر پروگرام (پارٹنرشپ فار ایکسلریٹڈ انوویشن اینڈ ریسرچ)
اے این آر ایف نے یہ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ ریاستی یونیورسٹیوں سمیت ان اداروں کی تحقیقی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے جہاں تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مگر بہتر کارکردگی کی صلاحیت موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے انہیں ایک ہب اینڈ اسپوک فریم ورک کے تحت اعلیٰ درجے کے مستحکم تحقیقی اداروں کے ساتھ سرپرستی کے انداز میں منسلک کیا جاتا ہے۔

اے این آر ایف ٹرانسلیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن (اے ٹی آر آئی) پہل
یہ پہل اہم شراکت داروں کو یکجا کر کے مہارت اور وسائل کو بروئے کار لانے کے ذریعے اختراعی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اس کے تحت اے این آر ایف ٹی آر ایل 4 سے ٹی آر ایل 7 تک ممکنہ ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے مخصوص معاونت فراہم کرنے کی غرض سے اے ٹی آر آئی مراکز قائم کرے گا، جس سے لیب سے مارکیٹ تک اختراعات کے سلسلے کو مضبوطی ملے گی۔

نیشنل پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ (این پی ڈی ایف) اور رامانوجن فیلوشپ
اے این آر ایف نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد نوجوان محققین کی معاونت کے لیے نیشنل پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ (این پی ڈی ایف) پروگرام شروع کیا ہے تاکہ انہیں ملک میں تحقیق جاری رکھنے کی ترغیب دی جا سکے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک کام کرنے والے ہندوستانی نژاد ممتاز سائنسدانوں اور انجینئروں کو واپس لا کر ہندوستان میں تحقیقی عہدوں پر فائز کرنے کے لیے رامانوجن فیلوشپ کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

سینئر سائنسدانوں کے لیے اعزازات اور پروگرام
اے این آر ایف نے ممتاز سینئر سائنسدانوں کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں خدمات کے اعتراف کے لیے نیشنل سائنس چیئر، جے سی بوس گرانٹ اور پرائم منسٹر پروفیسر شپ پروگرام جیسے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد معروف تعلیمی اداروں، تحقیقی لیبارٹریوں اور صنعت سے وابستہ سائنسدانوں اور اساتذہ کی مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھانا بھی ہے۔

زیادہ اثر والے شعبوں میں دی جانے والی گرانٹس کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:

شمار نمبر

پروجیکٹ کا عنوان

انسٹی ٹیوٹ کا نام

کل لاگت
(کروڑ روپے میں )

1

اشنکٹبندیی بیٹریوں کے لیے مواد اور فیبریکیشن ٹیکنالوجیز کی ترقی اور مظاہرہ

انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سنٹر فار پاؤڈر میٹلرجی اینڈ نیو میٹریلز (آرکی)، حیدرآباد

68.38

2

ٹی ای-موبکس (Te-MobiX): ٹراپیکل ای۔موبلٹی ایکسیلنس کے لیے مؤثر چارجنگ کے ساتھ محفوظ اور انحطاط پر قابو پانے والی بیٹریاں

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (بنارس ہندو یونیورسٹی)، وارانسی

47.77

3

ای وی کے لیے گرڈ کی تیاری: قابل بنانے والے عوامل اور تکنیکی ترقی (جی آر ای ای ٹی – GREET)

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور

47.45

4

ای۔رائیڈز (E-RIDES): ای وی ذیلی نظاموں کی مقامی ترقی میں تحقیق کو بااختیار بنانا

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی

56.56

5

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ہائی پاور، گرڈ سے ہم آہنگ کنڈکٹو اور ساکن وائرلیس چارجرز کی ترقی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگپور

18.37

6

نایاب ارضی مقناطیس سے پاک محوری فلوکس سنکرونس اور ریڈیل فلوکس سوئچڈ ریلکٹنس موٹرز، نیز ای وی ایپلی کیشنز کے لیے ان کے کنٹرولرز کی ترقی

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کرناٹک، سورتھکل

7.76

7

الیکٹرک وہیکل کے لیے وسیع بینڈ گیپ سیمی کنڈکٹرز پر مبنی انتہائی مؤثر پاور الیکٹرانکس سسٹم کی ترقی۔

سی ایس آئی آر – سینٹرل الیکٹرانکس انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر–سیری)، پیلانی

18.41

حال ہی میں قائم کی گئی انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کا مقصد تعلیمی اداروں، صنعتوں اور حکومت کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر اور اعلیٰ اثرات والی تحقیق اور اختراعی اقدامات کی حمایت کے ذریعے قومی تحقیق اور اختراع کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

فاؤنڈیشن نے اے این آر ایف کی ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری سے ترجیحی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اعلیٰ اثرات، حل پر مبنی اور اطلاقی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے کئی مشن موڈ پروگرام بھی شروع کیے ہیں۔ ان میں ڈرون، واٹر، 6 جی اور لیپ فروگ ڈیمانسٹریٹرز جیسے پروگرام شامل ہیں۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

*****

UR-3907

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2239129) وزیٹر کاؤنٹر : 19
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी