قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAR 2026 12:53PM by PIB Delhi

عدالتی نظام میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کو پورے ملک میں مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے ۔  پہلا مرحلہ (2011-2015) بنیادی طور پر عدالتوں میں بنیادی کمپیوٹرائزیشن اور اندرونی رابطے پر مرکوز تھا ۔  اس کے نتیجے میں 14,249 عدالتوں کو کمپیوٹرائز کیا گیا اور 13,683 عدالتوں میں لوکل ایریا نیٹ ورک (ایل اے این) نصب کیا گیا ۔

ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ (2015–2023) شہریوں کو عدالتی خدمات فراہم کرنے کے لیے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو فروغ دینے پر مرکوز تھا۔ اس مرحلے کے اہم اجزاء میں کمپیوٹر ہارڈویئر کی فراہمی، ڈسٹرکٹ اسٹیٹ لیگل اتھارٹی (ڈی ایس ایل اے)/اور تعلقہ لیگل سروسز کمیٹیوں (ٹی ایل ایس سی) کی کمپیوٹرائزیشن، وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این) کنیکٹیویٹی، متعلقہ شراکت داروں  کی تربیت اور ای-سیوا کیندر کا قیام وغیرہ شامل تھے۔اس کے علاوہ ایک جدیدسی آئی ایس سافٹ ویئر، نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) اور ڈیجیٹل فائلنگ اور آن لائن ادائیگی کے نظام تیار کیے گئے، جنہوں نے عوام کے لیے عدلیہ کی فراہم کردہ خدمات تک رسائی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔

ای-کورٹس پروجیکٹ اس وقت تیسرے مرحلے (2023-2027) میں ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ای-کورٹس پروجیکٹ میں مسلسل پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جس میں ای-فائلنگ اور ای-ادائیگیوں کی توسیع، ورچوئل اور ہائبرڈ سماعتوں کے استعمال میں اضافہ، عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، کیس انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانا اور نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) کے ذریعے عوام کو مقدمات سے متعلق معلومات تک مزید بہتر رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔

31 جنوری 2026 تک ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت چند اہم اقدامات اور کامیابیاں درج ذیل ہیں:

۱۔عدالتوں میں موجود ریکارڈ، بشمول پرانے (لیگیسی) ریکارڈ، کے 660.36 کروڑ سے زائد صفحات کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جا چکا ہے تاکہ ریکارڈ کی تیز تر بازیابی، محفوظ ذخیرہ اور بغیر رکاوٹ کے ڈیجیٹل طریقۂ کار کو یقینی بنایا جا سکے۔

۲۔ٹریفک چالان کے آن لائن فیصلے کو ممکن بنانے کے لیے 30 ورچوئل عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان ورچوئل عدالتوں کو اب تک 10.13 کروڑ چالان موصول ہوئے ہیں، جن میں سے 9.05 کروڑ چالانوں کا تصفیہ کیا جا چکا ہے، جبکہ 97.72 لاکھ چالانوں کی ادائیگی کی گئی ہے جس کی مجموعی رقم 1002.73 کروڑ روپے بنتی ہے۔

۳۔تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے قواعد نافذ کیے گئے ہیں ۔

۴۔ویڈیو کانفرنسنگ (وی سی) کی سہولیات کو 3,240 عدالتی کمپلیکس اور 1,272 جیلوں تک توسیع دی گئی ہے۔ عدالتوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 3.97 کروڑ سے زائد سماعتیں کی ہیں، جس کے ذریعے زیرِ سماعت قیدیوں، گواہوں اور وکلا کی دور سے سماعت ممکن بنائی گئی ہے۔

۵۔عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ 11 ہائی کورٹس میں فعال ہے۔

۶۔ای-فائلنگ اور ای-پیمنٹس کے نظام نافذ کیے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی آن لائن فائلنگ اور عدالتی فیس و جرمانوں کی ڈیجیٹل ادائیگی ممکن بنایا جا سکے۔ ای-فائلنگ پلیٹ فارم کے ذریعے تقریباً 1.07 کروڑ مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ای-پیمنٹس نظام کے تحت عدالتی فیس کی مد میں 1,404 کروڑ روپے اور جرمانوں کی مد میں 75 کروڑ روپے کے لین دین انجام دیے جا چکے ہیں۔

۷۔نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) ملک بھر کی عدالتوں کے مقدمات کے اعداد و شمار تک عوامی رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسے ایک بہتر ڈیش بورڈ کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے جو نگرانی کے آلے کے طور پر کام کرتا ہے، تاکہ مقدمات کے التوا کی نشاندہی، ان کا نظم و نسق اور ان میں کمی لائی جا سکے۔

۸۔کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) 4.0 تمام عدالتوں میں نافذ کر دیا گیا ہے، جس میں استعمال میں آسانی، رازداری کے تحفظات اور قومی پلیٹ فارمز جیسے نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی)، ای-فائلنگ، ورچوئل کورٹس اور انٹرآپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) کے ساتھ انضمام کو بہتر بنایا گیا ہے۔

۹۔ایس 3 ڈبلیو اے اے ایس (سیکیور ، اسکیل ایبل اینڈ سوگامیا ویب سائٹ ایز اے سروس) پلیٹ فارم 730 ڈسٹرکٹ کورٹ ویب سائٹس کی میزبانی کرتا ہے ، جو محفوظ اور قابل رسائی ویب انفراسٹرکچر کو یقینی بناتا ہے ۔

۱۰۔ایس ایم ایس پش اینڈ پل (روزانہ 4 لاکھ سے زیادہ ایس ایم ایس بھیجے جاتے ہیں) ای میل (روزانہ 6 لاکھ سے زیادہ بھیجے جاتے ہیں) اور کثیر لسانی ای-کورٹس سروسز پورٹل (روزانہ 35 لاکھ ہٹ کے ساتھ) کے ذریعے وکلاء اور فریقین کو کیس اپ ڈیٹس بھیجے جانے کے ساتھ ریئل ٹائم ڈیجیٹل خدمات میں نمایاں توسیع ہوئی ہے ۔

۱۱۔ای-کورٹس سروسز موبائل ایپ (3.59 کروڑ ڈاؤن لوڈ) وکلاء اور مدعیوں کو کیس کی صورتحال ، کاز لسٹ وغیرہ کے بارے میں متعلقہ معلومات فراہم کرتی ہے ۔

۱۲۔جسٹ آئی ایس ایپ (22,133 ڈاؤن لوڈ) ججوں کے لیے ایک انتظامی ٹول ہے جو انہیں اپنے عدالتی کاروبار کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے اور نگرانی کرنے میں مدد کرتا ہے ۔

۱۳۔تمام ہائی کورٹس میں 48 ای-سیوا کیندر فعال ہیں، جبکہ ضلعی عدالتوں میں 2,396 ای-سیوا کیندر کام کر رہے ہیں۔

۱۴۔نیشنل سروس اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانک پروسیسز (این ایس ٹی ای پی) نظام کو موبائل پر مبنی اور جی پی ایس سے لیس ترسیلی طریقۂ کار کے ذریعے سمن اور نوٹس کی الیکٹرانک ترسیل اور نگرانی کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت عدالتوں نے 7.29 کروڑ ای-پروسیسز پر کارروائی کی ہے، جن میں سے 2.11 کروڑ ای-پروسیسز کامیابی کے ساتھ پہنچائے جا چکے ہیں۔

۱۵۔ڈیجیٹل کورٹس 2.1 ایک مخصوص ایپلی کیشن ہے جو کاغذ کے بغیر عدالتوں کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ترجمہ اور ٹرانسکرپشن(تحریری نقل ) کی سہولت موجود ہے۔ یہ ججوں کو مقدمات سے متعلق تمام دستاویزات، عرضداشتیں اور شواہد تک ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتی ہے، جو کاغذ سے پاک عدالتی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ملک میں فعال ای-کورٹس کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

اڈیشہ، راجستھان اور کرناٹک میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔

ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت مرحلہ دوم اور مرحلہ سوم کے لیے جاری اور استعمال کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، ہائی کورٹ وار اور سال وار، بالترتیب ضمیمہ-III اور ضمیمہ-IV میں دی گئی ہیں۔ مرحلہ اوّل کے دوران عمل درآمد کرنے والی ایجنسی این آئی سی ۰نیشنل انفارمیٹکس سینٹر)تھی، اس لیے اس مرحلے میں ہائی کورٹس کو فنڈز جاری نہیں کیے گئے تھے۔

*******

ضمیمہ-I

ملک میں فعال ای-کورٹس کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں:

S No

State

Total Districts

Total Court Complexes

Total Establishments

1

Andaman and Nicobar

4

4

4

2

Andhra Pradesh

13

195

368

3

Arunachal Pradesh

28

28

28

4

Assam

34

80

201

5

Bihar

38

83

268

6

Chandigarh

1

1

3

7

Chhattisgarh

25

93

204

8

Delhi

11

12

51

9

Goa

2

16

15

10

Gujarat

33

338

467

11

Haryana

22

61

158

12

Himachal Pradesh

11

53

127

13

Jammu and Kashmir

20

83

169

14

Jharkhand

24

24

132

15

Karnataka

31

206

547

16

Kerala

14

192

600

17

Ladakh

2

6

10

18

Lakshadweep

1

3

6

19

Madhya Pradesh

51

237

277

20

Maharashtra

41

510

721

21

Manipur

9

22

39

22

Meghalaya

14

18

61

23

Mizoram

3

12

26

24

Nagaland

11

12

34

25

Odisha

30

155

316

26

Puducherry

4

4

15

27

Punjab

22

68

200

28

Rajasthan

44

336

1098

29

Sikkim

6

11

34

30

Tamil Nadu

38

277

832

31

Telangana

33

125

263

32

The Dadra And Nagar Haveli And Daman And Diu

3

4

3

33

Tripura

8

21

68

34

Uttarakhand

13

92

190

35

Uttar Pradesh

74

224

584

36

West Bengal

23

92

277

Total

741

3,698

8,396

 

(Source: eCommittee, SCI)

ضمیمہ-II

اڈیشہ میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:

S No

District

Total Establishment

1

Anugul

13

2

Balangir

15

3

Balasore

15

4

Bargarh

13

5

Bhadrak

7

6

Boudh

6

7

Cuttack

21

8

Deogarh

4

9

Dhenkanal

12

10

Gajapati

5

11

Ganjam

32

12

Jagatsinghpur

6

13

Jajpur

9

14

Jharsuguda

5

15

Kalahandi

12

16

Kandhamal

8

17

Kendrapada

8

18

Keonjhar

11

19

Khurda

11

20

Koraput

9

21

Malkangiri

5

22

Mayurbhanj

13

23

Nabarangpur

5

24

Nayagarh

12

25

Nuapada

9

26

Puri

10

27

Rayagada

10

28

Sambalpur

9

29

Sonepur

10

30

Sundargarh

11

 

Total

316

(Source: eCommittee, SCI)

راجستھان میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:

S No

District

Total Establishment

1

Ajmer

36

2

Alwar

39

3

Balotra

11

4

Banswara

22

5

Baran

25

6

Barmer

14

7

Beawer

15

8

Bharatpur

30

9

Bhilwara

41

10

Bikaner

27

11

Bundi

26

12

Chittorgarh

38

13

Churu

27

14

Dausa

24

15

Deeg

20

16

Dholpur

24

17

Didwana Kuchaman

20

18

Dungarpur

17

19

Ganganagar

41

20

Hanumangarh

32

21

Jaipur District

33

22

Jaipur Metro I

30

23

Jaipur Metro Ii

25

24

Jaisalmer

14

25

Jalore

19

26

Jhalawar

28

27

Jhunjhunu

30

28

Jodhpur District

20

29

Jodhpur Metro

18

30

Karauli

22

31

Khairtal Tijara

23

32

Kota

32

33

Kotputli Behror

16

34

Merta Nagaur

19

35

Pali

33

36

Phalodi

10

37

Pratapgarh

18

38

Rajsamand

24

39

Salumber

7

40

Sawai Madhopur

22

41

Sikar

36

42

Sirohi

21

43

Tonk

31

44

Udaipur

38

 

Total

1098

(Source: eCommittee, SCI)

کرناٹک میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:

S No

District

Total Establishment

1

Bagalkot

19

2

Ballari

12

3

Belagavi

41

4

Bengaluru

22

5

Bengaluru Rural

21

6

Bidar

14

7

Chamrajnagar

10

8

Chikkaballapur

14

9

Chikkamagaluru

16

10

Chitradurga

14

11

Dakshina Kannada

26

12

Davangere

14

13

Dharwad

23

14

Gadag

13

15

Hassan

21

16

Haveri

17

17

Kalaburagi

19

18

Kodagu

13

19

Kolar

13

20

Koppal

12

21

Mandya

20

22

Mysuru

28

23

Raichur

14

24

Ramanagara

12

25

Shivamogga

22

26

Tumakuru

25

27

Udupi

13

28

Uttara Kannada

22

29

Vijayanagar

13

30

Vijayapura

15

31

Yadgir

9

 

Total

547

(Source: eCommittee, SCI)

ضمیمہ-III

ای-کورٹس پروجیکٹ کے مرحلہ دوم کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، ہائی کورٹ وار اور سال وار درج ذیل ہیں:

(روپے کروڑ میں )

S. No.

High Court

2015-16

2016-17

2017-18

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

Total

1

Allahabad

31.14

20.88

20.57

8.07

15.04

13.79

0.00

109.48

2

Andhra Pradesh

1.96

0.00

0.00

0.00

0.00

0.00

0.00

1.96

3

Bombay

30.39

38.25

47.22

0.52

0.00

8.86

0.00

125.24

4

Calcutta

12.14

9.17

10.72

0.13

0.00

4.93

0.00

37.09

5

Chhattisgarh

3.82

6.03

9.34

1.33

4.44

2.34

0.00

27.31

6

Delhi

5.87

5.41

8.97

3.54

0.00

3.00

0.00

26.80

7

Gauhati (Arunachal Pradesh)

0.59

4.33

1.37

2.85

0.98

1.52

1.26

12.90

8

Gauhati (Assam)

5.19

25.47

8.13

8.70

13.68

6.11

3.49

70.77

9

Gauhati (Mizoram)

0.71

3.01

2.47

0.15

0.51

0.72

0.30

7.87

10

Gauhati (Nagaland)

0.77

2.31

1.83

0.71

0.70

0.83

0.84

7.99

11

Gujarat*

11.23

18.32

29.06

10.73

0.00

3.48

0.00

72.82

12

Himachal Pradesh

1.79

3.21

4.05

0.13

0.00

2.00

0.00

11.19

13

Jammu & Kashmir and Ladakh

1.84

5.29

10.59

0.26

0.00

1.00

0.00

18.98

14

Jharkhand

3.20

5.09

2.92

4.53

5.53

2.98

0.00

24.25

15

Karnataka

11.86

17.43

22.04

0.61

9.15

4.29

0.00

65.38

16

Kerala

5.53

8.32

14.73

4.61

0.00

2.83

1.58

37.61

17

Madhya Pradesh

9.73

23.93

22.51

0.39

11.21

6.28

0.00

74.05

18

Madras

10.24

24.62

25.45

5.11

0.00

4.73

0.00

70.15

19

Manipur

0.53

4.24

1.19

0.65

0.61

1.30

0.76

9.27

20

Meghalaya

0.19

3.26

3.65

0.62

0.92

2.32

2.23

13.17

21

Orissa

7.57

7.71

12.70

1.59

13.46

3.37

0.00

46.41

22

Patna

8.04

26.41

8.72

0.13

7.08

5.44

0.00

55.82

23

Punjab & Haryana

11.63

17.92

11.54

8.49

0.00

4.55

0.00

54.13

24

Rajasthan

9.97

23.04

25.05

3.01

1.29

10.58

1.62

74.56

25

Sikkim

0.18

1.80

1.40

0.80

1.61

1.01

0.77

7.58

26

Telangana & Andhra Pradesh**

13.90

14.31

33.95

8.13

0.00

0.00

0.00

70.29

27

Telangana

0.00

0.00

0.00

0.00

0.00

1.79

0.00

1.79

28

Tripura

1.20

4.38

2.86

1.77

2.24

4.44

0.96

17.86

29

Uttarakhand

2.98

2.66

4.60

0.13

0.00

1.28

0.00

11.65

Total (in Cr.)

202.23

326.79

347.65

77.71

88.44

107.74

13.81

1164.37

 

*گجرات ہائی کورٹ نے 13.12 کروڑ روپے کی رقم واپس کر دی۔ کل استعمال شدہ رقم میں واپس کی گئی رقم بھی شامل ہے۔

**فنڈز سابقہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ ہائی کورٹ کو جاری کیے گئے،جنہیں بالترتیب 58:42 کے تناسب سے تقسیم کیا گیا۔

نوٹ: ہائی کورٹس کو جاری کیے گئے فنڈز کے علاوہ، 180.57 کروڑ روپے این آئی سی  کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے، 293.68 کروڑ روپے بی ایس این ایل کو وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این ) کنیکٹیویٹی کے لیے، 13.50 کروڑ روپے ای-کمیٹی، سی ایس آئی  کو چینج مینجمنٹ کے تحت، اور 16.31 کروڑ روپے متفرق اخراجات (تنخواہیں، دفتری اخراجات، تشہیر وغیرہ) کے لیے جاری کیے گئے۔

ضمیمہ-IV

ای-کورٹس پروجیکٹ کے مرحلہ سوم کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، ہائی کورٹ وار اور سال وار درج ذیل ہیں:

(روپے کڑور میں)

S. No.

High Court

2023-24

2024-25

2025-26

1

Allahabad

95.87

51.78

119.92

2

Andhra Pradesh

25.44

31.74

18

3

Bombay

69.54

83.19

104.32

4

Calcutta

16.73

27.65

9.50

5

Chhattisgarh

16.27

24.17

49.74

6

Delhi

17.89

48.19

17.90

7

Gauhati (Arunachal Pradesh)

2.03

9.76

2.26

8

Gauhati (Assam)

24.97

33.85

3.65

9

Gauhati (Mizoram)

3.12

6.22

2.48

10

Gauhati, Kohima (Nagaland)

1.79

3.91

3.41

11

Gujarat

27.72

73.21

48.89

12

Himachal Pradesh

6.06

6.89

7.63

13

Jammu & Kashmir and Ladakh

6.52

14.53

14.48

14

Jharkhand

10.59

29.22

7.65

15

Karnataka

32.37

67.40

48.22

16

Kerala

15.40

32.62

51.60

17

Madhya Pradesh

22.90

77.31

59.14

18

Madras

90.69

91.75

113.20

19

Manipur

11.12

7.54

2.16

20

Meghalaya

3.33

8.50

3.83

21

Orissa

6.77

53.24

16.09

22

Patna

32.43

89.55

57.61

23

Punjab And Haryana

14.58

26.01

18.95

24

Rajasthan

19.80

34.72

60.88

25

Sikkim

1.71

8.98

2.51

26

Telangana

22.03

28.57

29.44

27

Tripura

0.53

7.05

8.79

28

Uttarakhand

13.68

19.95

29.57

 

Total

611.88

997.49

911.82*

 

03.03.2026تک

نوٹ: ہائی کورٹس کو جاری کیے گئے فنڈز کے علاوہ، 185.06 کروڑ روپے این آئی سی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے، 54.79 کروڑ روپے بی ایس این ایل کو وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این) کنیکٹیویٹی کے لیے، 7.51 کروڑ روپے ای-کمیٹی، SCI کو چینج مینجمنٹ کے تحت، 0.28 کروڑ روپے آئی آئی ٹی مدراس کو ای-لرننگ پلیٹ فارم کی تیاری کے لیے، اور 9.60 کروڑ روپے متفرق اخراجات (تنخواہیں، دفتری اخراجات، تشہیر وغیرہ) کے لیے جاری کیے گئے۔

یہ معلومات وزارت قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارت پارلیمنٹ کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔

***

ش ح۔ ش آ۔ن ع

Uno-3865


(ریلیز آئی ڈی: 2238847) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , Tamil