قانون اور انصاف کی وزارت
ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 12:53PM by PIB Delhi
عدالتی نظام میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کو پورے ملک میں مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے ۔ پہلا مرحلہ (2011-2015) بنیادی طور پر عدالتوں میں بنیادی کمپیوٹرائزیشن اور اندرونی رابطے پر مرکوز تھا ۔ اس کے نتیجے میں 14,249 عدالتوں کو کمپیوٹرائز کیا گیا اور 13,683 عدالتوں میں لوکل ایریا نیٹ ورک (ایل اے این) نصب کیا گیا ۔
ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ (2015–2023) شہریوں کو عدالتی خدمات فراہم کرنے کے لیے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو فروغ دینے پر مرکوز تھا۔ اس مرحلے کے اہم اجزاء میں کمپیوٹر ہارڈویئر کی فراہمی، ڈسٹرکٹ اسٹیٹ لیگل اتھارٹی (ڈی ایس ایل اے)/اور تعلقہ لیگل سروسز کمیٹیوں (ٹی ایل ایس سی) کی کمپیوٹرائزیشن، وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این) کنیکٹیویٹی، متعلقہ شراکت داروں کی تربیت اور ای-سیوا کیندر کا قیام وغیرہ شامل تھے۔اس کے علاوہ ایک جدیدسی آئی ایس سافٹ ویئر، نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) اور ڈیجیٹل فائلنگ اور آن لائن ادائیگی کے نظام تیار کیے گئے، جنہوں نے عوام کے لیے عدلیہ کی فراہم کردہ خدمات تک رسائی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔
ای-کورٹس پروجیکٹ اس وقت تیسرے مرحلے (2023-2027) میں ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ای-کورٹس پروجیکٹ میں مسلسل پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جس میں ای-فائلنگ اور ای-ادائیگیوں کی توسیع، ورچوئل اور ہائبرڈ سماعتوں کے استعمال میں اضافہ، عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، کیس انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانا اور نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) کے ذریعے عوام کو مقدمات سے متعلق معلومات تک مزید بہتر رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔
31 جنوری 2026 تک ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت چند اہم اقدامات اور کامیابیاں درج ذیل ہیں:
۱۔عدالتوں میں موجود ریکارڈ، بشمول پرانے (لیگیسی) ریکارڈ، کے 660.36 کروڑ سے زائد صفحات کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جا چکا ہے تاکہ ریکارڈ کی تیز تر بازیابی، محفوظ ذخیرہ اور بغیر رکاوٹ کے ڈیجیٹل طریقۂ کار کو یقینی بنایا جا سکے۔
۲۔ٹریفک چالان کے آن لائن فیصلے کو ممکن بنانے کے لیے 30 ورچوئل عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان ورچوئل عدالتوں کو اب تک 10.13 کروڑ چالان موصول ہوئے ہیں، جن میں سے 9.05 کروڑ چالانوں کا تصفیہ کیا جا چکا ہے، جبکہ 97.72 لاکھ چالانوں کی ادائیگی کی گئی ہے جس کی مجموعی رقم 1002.73 کروڑ روپے بنتی ہے۔
۳۔تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے قواعد نافذ کیے گئے ہیں ۔
۴۔ویڈیو کانفرنسنگ (وی سی) کی سہولیات کو 3,240 عدالتی کمپلیکس اور 1,272 جیلوں تک توسیع دی گئی ہے۔ عدالتوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 3.97 کروڑ سے زائد سماعتیں کی ہیں، جس کے ذریعے زیرِ سماعت قیدیوں، گواہوں اور وکلا کی دور سے سماعت ممکن بنائی گئی ہے۔
۵۔عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ 11 ہائی کورٹس میں فعال ہے۔
۶۔ای-فائلنگ اور ای-پیمنٹس کے نظام نافذ کیے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی آن لائن فائلنگ اور عدالتی فیس و جرمانوں کی ڈیجیٹل ادائیگی ممکن بنایا جا سکے۔ ای-فائلنگ پلیٹ فارم کے ذریعے تقریباً 1.07 کروڑ مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ای-پیمنٹس نظام کے تحت عدالتی فیس کی مد میں 1,404 کروڑ روپے اور جرمانوں کی مد میں 75 کروڑ روپے کے لین دین انجام دیے جا چکے ہیں۔
۷۔نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) ملک بھر کی عدالتوں کے مقدمات کے اعداد و شمار تک عوامی رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسے ایک بہتر ڈیش بورڈ کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے جو نگرانی کے آلے کے طور پر کام کرتا ہے، تاکہ مقدمات کے التوا کی نشاندہی، ان کا نظم و نسق اور ان میں کمی لائی جا سکے۔
۸۔کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) 4.0 تمام عدالتوں میں نافذ کر دیا گیا ہے، جس میں استعمال میں آسانی، رازداری کے تحفظات اور قومی پلیٹ فارمز جیسے نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی)، ای-فائلنگ، ورچوئل کورٹس اور انٹرآپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) کے ساتھ انضمام کو بہتر بنایا گیا ہے۔
۹۔ایس 3 ڈبلیو اے اے ایس (سیکیور ، اسکیل ایبل اینڈ سوگامیا ویب سائٹ ایز اے سروس) پلیٹ فارم 730 ڈسٹرکٹ کورٹ ویب سائٹس کی میزبانی کرتا ہے ، جو محفوظ اور قابل رسائی ویب انفراسٹرکچر کو یقینی بناتا ہے ۔
۱۰۔ایس ایم ایس پش اینڈ پل (روزانہ 4 لاکھ سے زیادہ ایس ایم ایس بھیجے جاتے ہیں) ای میل (روزانہ 6 لاکھ سے زیادہ بھیجے جاتے ہیں) اور کثیر لسانی ای-کورٹس سروسز پورٹل (روزانہ 35 لاکھ ہٹ کے ساتھ) کے ذریعے وکلاء اور فریقین کو کیس اپ ڈیٹس بھیجے جانے کے ساتھ ریئل ٹائم ڈیجیٹل خدمات میں نمایاں توسیع ہوئی ہے ۔
۱۱۔ای-کورٹس سروسز موبائل ایپ (3.59 کروڑ ڈاؤن لوڈ) وکلاء اور مدعیوں کو کیس کی صورتحال ، کاز لسٹ وغیرہ کے بارے میں متعلقہ معلومات فراہم کرتی ہے ۔
۱۲۔جسٹ آئی ایس ایپ (22,133 ڈاؤن لوڈ) ججوں کے لیے ایک انتظامی ٹول ہے جو انہیں اپنے عدالتی کاروبار کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے اور نگرانی کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
۱۳۔تمام ہائی کورٹس میں 48 ای-سیوا کیندر فعال ہیں، جبکہ ضلعی عدالتوں میں 2,396 ای-سیوا کیندر کام کر رہے ہیں۔
۱۴۔نیشنل سروس اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانک پروسیسز (این ایس ٹی ای پی) نظام کو موبائل پر مبنی اور جی پی ایس سے لیس ترسیلی طریقۂ کار کے ذریعے سمن اور نوٹس کی الیکٹرانک ترسیل اور نگرانی کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت عدالتوں نے 7.29 کروڑ ای-پروسیسز پر کارروائی کی ہے، جن میں سے 2.11 کروڑ ای-پروسیسز کامیابی کے ساتھ پہنچائے جا چکے ہیں۔
۱۵۔ڈیجیٹل کورٹس 2.1 ایک مخصوص ایپلی کیشن ہے جو کاغذ کے بغیر عدالتوں کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ترجمہ اور ٹرانسکرپشن(تحریری نقل ) کی سہولت موجود ہے۔ یہ ججوں کو مقدمات سے متعلق تمام دستاویزات، عرضداشتیں اور شواہد تک ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتی ہے، جو کاغذ سے پاک عدالتی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ملک میں فعال ای-کورٹس کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
اڈیشہ، راجستھان اور کرناٹک میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔
ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت مرحلہ دوم اور مرحلہ سوم کے لیے جاری اور استعمال کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، ہائی کورٹ وار اور سال وار، بالترتیب ضمیمہ-III اور ضمیمہ-IV میں دی گئی ہیں۔ مرحلہ اوّل کے دوران عمل درآمد کرنے والی ایجنسی این آئی سی ۰نیشنل انفارمیٹکس سینٹر)تھی، اس لیے اس مرحلے میں ہائی کورٹس کو فنڈز جاری نہیں کیے گئے تھے۔
*******
ضمیمہ-I
ملک میں فعال ای-کورٹس کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
S No
|
State
|
Total Districts
|
Total Court Complexes
|
Total Establishments
|
|
1
|
Andaman and Nicobar
|
4
|
4
|
4
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
13
|
195
|
368
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
28
|
28
|
28
|
|
4
|
Assam
|
34
|
80
|
201
|
|
5
|
Bihar
|
38
|
83
|
268
|
|
6
|
Chandigarh
|
1
|
1
|
3
|
|
7
|
Chhattisgarh
|
25
|
93
|
204
|
|
8
|
Delhi
|
11
|
12
|
51
|
|
9
|
Goa
|
2
|
16
|
15
|
|
10
|
Gujarat
|
33
|
338
|
467
|
|
11
|
Haryana
|
22
|
61
|
158
|
|
12
|
Himachal Pradesh
|
11
|
53
|
127
|
|
13
|
Jammu and Kashmir
|
20
|
83
|
169
|
|
14
|
Jharkhand
|
24
|
24
|
132
|
|
15
|
Karnataka
|
31
|
206
|
547
|
|
16
|
Kerala
|
14
|
192
|
600
|
|
17
|
Ladakh
|
2
|
6
|
10
|
|
18
|
Lakshadweep
|
1
|
3
|
6
|
|
19
|
Madhya Pradesh
|
51
|
237
|
277
|
|
20
|
Maharashtra
|
41
|
510
|
721
|
|
21
|
Manipur
|
9
|
22
|
39
|
|
22
|
Meghalaya
|
14
|
18
|
61
|
|
23
|
Mizoram
|
3
|
12
|
26
|
|
24
|
Nagaland
|
11
|
12
|
34
|
|
25
|
Odisha
|
30
|
155
|
316
|
|
26
|
Puducherry
|
4
|
4
|
15
|
|
27
|
Punjab
|
22
|
68
|
200
|
|
28
|
Rajasthan
|
44
|
336
|
1098
|
|
29
|
Sikkim
|
6
|
11
|
34
|
|
30
|
Tamil Nadu
|
38
|
277
|
832
|
|
31
|
Telangana
|
33
|
125
|
263
|
|
32
|
The Dadra And Nagar Haveli And Daman And Diu
|
3
|
4
|
3
|
|
33
|
Tripura
|
8
|
21
|
68
|
|
34
|
Uttarakhand
|
13
|
92
|
190
|
|
35
|
Uttar Pradesh
|
74
|
224
|
584
|
|
36
|
West Bengal
|
23
|
92
|
277
|
|
Total
|
741
|
3,698
|
8,396
|
(Source: eCommittee, SCI)
ضمیمہ-II
اڈیشہ میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
S No
|
District
|
Total Establishment
|
|
1
|
Anugul
|
13
|
|
2
|
Balangir
|
15
|
|
3
|
Balasore
|
15
|
|
4
|
Bargarh
|
13
|
|
5
|
Bhadrak
|
7
|
|
6
|
Boudh
|
6
|
|
7
|
Cuttack
|
21
|
|
8
|
Deogarh
|
4
|
|
9
|
Dhenkanal
|
12
|
|
10
|
Gajapati
|
5
|
|
11
|
Ganjam
|
32
|
|
12
|
Jagatsinghpur
|
6
|
|
13
|
Jajpur
|
9
|
|
14
|
Jharsuguda
|
5
|
|
15
|
Kalahandi
|
12
|
|
16
|
Kandhamal
|
8
|
|
17
|
Kendrapada
|
8
|
|
18
|
Keonjhar
|
11
|
|
19
|
Khurda
|
11
|
|
20
|
Koraput
|
9
|
|
21
|
Malkangiri
|
5
|
|
22
|
Mayurbhanj
|
13
|
|
23
|
Nabarangpur
|
5
|
|
24
|
Nayagarh
|
12
|
|
25
|
Nuapada
|
9
|
|
26
|
Puri
|
10
|
|
27
|
Rayagada
|
10
|
|
28
|
Sambalpur
|
9
|
|
29
|
Sonepur
|
10
|
|
30
|
Sundargarh
|
11
|
|
|
Total
|
316
|
(Source: eCommittee, SCI)
راجستھان میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
S No
|
District
|
Total Establishment
|
|
1
|
Ajmer
|
36
|
|
2
|
Alwar
|
39
|
|
3
|
Balotra
|
11
|
|
4
|
Banswara
|
22
|
|
5
|
Baran
|
25
|
|
6
|
Barmer
|
14
|
|
7
|
Beawer
|
15
|
|
8
|
Bharatpur
|
30
|
|
9
|
Bhilwara
|
41
|
|
10
|
Bikaner
|
27
|
|
11
|
Bundi
|
26
|
|
12
|
Chittorgarh
|
38
|
|
13
|
Churu
|
27
|
|
14
|
Dausa
|
24
|
|
15
|
Deeg
|
20
|
|
16
|
Dholpur
|
24
|
|
17
|
Didwana Kuchaman
|
20
|
|
18
|
Dungarpur
|
17
|
|
19
|
Ganganagar
|
41
|
|
20
|
Hanumangarh
|
32
|
|
21
|
Jaipur District
|
33
|
|
22
|
Jaipur Metro I
|
30
|
|
23
|
Jaipur Metro Ii
|
25
|
|
24
|
Jaisalmer
|
14
|
|
25
|
Jalore
|
19
|
|
26
|
Jhalawar
|
28
|
|
27
|
Jhunjhunu
|
30
|
|
28
|
Jodhpur District
|
20
|
|
29
|
Jodhpur Metro
|
18
|
|
30
|
Karauli
|
22
|
|
31
|
Khairtal Tijara
|
23
|
|
32
|
Kota
|
32
|
|
33
|
Kotputli Behror
|
16
|
|
34
|
Merta Nagaur
|
19
|
|
35
|
Pali
|
33
|
|
36
|
Phalodi
|
10
|
|
37
|
Pratapgarh
|
18
|
|
38
|
Rajsamand
|
24
|
|
39
|
Salumber
|
7
|
|
40
|
Sawai Madhopur
|
22
|
|
41
|
Sikar
|
36
|
|
42
|
Sirohi
|
21
|
|
43
|
Tonk
|
31
|
|
44
|
Udaipur
|
38
|
|
|
Total
|
1098
|
(Source: eCommittee, SCI)
کرناٹک میں فعال ای-کورٹس کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
S No
|
District
|
Total Establishment
|
|
1
|
Bagalkot
|
19
|
|
2
|
Ballari
|
12
|
|
3
|
Belagavi
|
41
|
|
4
|
Bengaluru
|
22
|
|
5
|
Bengaluru Rural
|
21
|
|
6
|
Bidar
|
14
|
|
7
|
Chamrajnagar
|
10
|
|
8
|
Chikkaballapur
|
14
|
|
9
|
Chikkamagaluru
|
16
|
|
10
|
Chitradurga
|
14
|
|
11
|
Dakshina Kannada
|
26
|
|
12
|
Davangere
|
14
|
|
13
|
Dharwad
|
23
|
|
14
|
Gadag
|
13
|
|
15
|
Hassan
|
21
|
|
16
|
Haveri
|
17
|
|
17
|
Kalaburagi
|
19
|
|
18
|
Kodagu
|
13
|
|
19
|
Kolar
|
13
|
|
20
|
Koppal
|
12
|
|
21
|
Mandya
|
20
|
|
22
|
Mysuru
|
28
|
|
23
|
Raichur
|
14
|
|
24
|
Ramanagara
|
12
|
|
25
|
Shivamogga
|
22
|
|
26
|
Tumakuru
|
25
|
|
27
|
Udupi
|
13
|
|
28
|
Uttara Kannada
|
22
|
|
29
|
Vijayanagar
|
13
|
|
30
|
Vijayapura
|
15
|
|
31
|
Yadgir
|
9
|
|
|
Total
|
547
|
(Source: eCommittee, SCI)
ضمیمہ-III
ای-کورٹس پروجیکٹ کے مرحلہ دوم کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، ہائی کورٹ وار اور سال وار درج ذیل ہیں:
(روپے کروڑ میں )
|
S. No.
|
High Court
|
2015-16
|
2016-17
|
2017-18
|
2018-19
|
2019-20
|
2020-21
|
2021-22
|
Total
|
|
1
|
Allahabad
|
31.14
|
20.88
|
20.57
|
8.07
|
15.04
|
13.79
|
0.00
|
109.48
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
1.96
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
1.96
|
|
3
|
Bombay
|
30.39
|
38.25
|
47.22
|
0.52
|
0.00
|
8.86
|
0.00
|
125.24
|
|
4
|
Calcutta
|
12.14
|
9.17
|
10.72
|
0.13
|
0.00
|
4.93
|
0.00
|
37.09
|
|
5
|
Chhattisgarh
|
3.82
|
6.03
|
9.34
|
1.33
|
4.44
|
2.34
|
0.00
|
27.31
|
|
6
|
Delhi
|
5.87
|
5.41
|
8.97
|
3.54
|
0.00
|
3.00
|
0.00
|
26.80
|
|
7
|
Gauhati (Arunachal Pradesh)
|
0.59
|
4.33
|
1.37
|
2.85
|
0.98
|
1.52
|
1.26
|
12.90
|
|
8
|
Gauhati (Assam)
|
5.19
|
25.47
|
8.13
|
8.70
|
13.68
|
6.11
|
3.49
|
70.77
|
|
9
|
Gauhati (Mizoram)
|
0.71
|
3.01
|
2.47
|
0.15
|
0.51
|
0.72
|
0.30
|
7.87
|
|
10
|
Gauhati (Nagaland)
|
0.77
|
2.31
|
1.83
|
0.71
|
0.70
|
0.83
|
0.84
|
7.99
|
|
11
|
Gujarat*
|
11.23
|
18.32
|
29.06
|
10.73
|
0.00
|
3.48
|
0.00
|
72.82
|
|
12
|
Himachal Pradesh
|
1.79
|
3.21
|
4.05
|
0.13
|
0.00
|
2.00
|
0.00
|
11.19
|
|
13
|
Jammu & Kashmir and Ladakh
|
1.84
|
5.29
|
10.59
|
0.26
|
0.00
|
1.00
|
0.00
|
18.98
|
|
14
|
Jharkhand
|
3.20
|
5.09
|
2.92
|
4.53
|
5.53
|
2.98
|
0.00
|
24.25
|
|
15
|
Karnataka
|
11.86
|
17.43
|
22.04
|
0.61
|
9.15
|
4.29
|
0.00
|
65.38
|
|
16
|
Kerala
|
5.53
|
8.32
|
14.73
|
4.61
|
0.00
|
2.83
|
1.58
|
37.61
|
|
17
|
Madhya Pradesh
|
9.73
|
23.93
|
22.51
|
0.39
|
11.21
|
6.28
|
0.00
|
74.05
|
|
18
|
Madras
|
10.24
|
24.62
|
25.45
|
5.11
|
0.00
|
4.73
|
0.00
|
70.15
|
|
19
|
Manipur
|
0.53
|
4.24
|
1.19
|
0.65
|
0.61
|
1.30
|
0.76
|
9.27
|
|
20
|
Meghalaya
|
0.19
|
3.26
|
3.65
|
0.62
|
0.92
|
2.32
|
2.23
|
13.17
|
|
21
|
Orissa
|
7.57
|
7.71
|
12.70
|
1.59
|
13.46
|
3.37
|
0.00
|
46.41
|
|
22
|
Patna
|
8.04
|
26.41
|
8.72
|
0.13
|
7.08
|
5.44
|
0.00
|
55.82
|
|
23
|
Punjab & Haryana
|
11.63
|
17.92
|
11.54
|
8.49
|
0.00
|
4.55
|
0.00
|
54.13
|
|
24
|
Rajasthan
|
9.97
|
23.04
|
25.05
|
3.01
|
1.29
|
10.58
|
1.62
|
74.56
|
|
25
|
Sikkim
|
0.18
|
1.80
|
1.40
|
0.80
|
1.61
|
1.01
|
0.77
|
7.58
|
|
26
|
Telangana & Andhra Pradesh**
|
13.90
|
14.31
|
33.95
|
8.13
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
70.29
|
|
27
|
Telangana
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
0.00
|
1.79
|
0.00
|
1.79
|
|
28
|
Tripura
|
1.20
|
4.38
|
2.86
|
1.77
|
2.24
|
4.44
|
0.96
|
17.86
|
|
29
|
Uttarakhand
|
2.98
|
2.66
|
4.60
|
0.13
|
0.00
|
1.28
|
0.00
|
11.65
|
|
Total (in Cr.)
|
202.23
|
326.79
|
347.65
|
77.71
|
88.44
|
107.74
|
13.81
|
1164.37
|
*گجرات ہائی کورٹ نے 13.12 کروڑ روپے کی رقم واپس کر دی۔ کل استعمال شدہ رقم میں واپس کی گئی رقم بھی شامل ہے۔
**فنڈز سابقہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ ہائی کورٹ کو جاری کیے گئے،جنہیں بالترتیب 58:42 کے تناسب سے تقسیم کیا گیا۔
نوٹ: ہائی کورٹس کو جاری کیے گئے فنڈز کے علاوہ، 180.57 کروڑ روپے این آئی سی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے، 293.68 کروڑ روپے بی ایس این ایل کو وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این ) کنیکٹیویٹی کے لیے، 13.50 کروڑ روپے ای-کمیٹی، سی ایس آئی کو چینج مینجمنٹ کے تحت، اور 16.31 کروڑ روپے متفرق اخراجات (تنخواہیں، دفتری اخراجات، تشہیر وغیرہ) کے لیے جاری کیے گئے۔
ضمیمہ-IV
ای-کورٹس پروجیکٹ کے مرحلہ سوم کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات، ہائی کورٹ وار اور سال وار درج ذیل ہیں:
(روپے کڑور میں)
|
S. No.
|
High Court
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
1
|
Allahabad
|
95.87
|
51.78
|
119.92
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
25.44
|
31.74
|
18
|
|
3
|
Bombay
|
69.54
|
83.19
|
104.32
|
|
4
|
Calcutta
|
16.73
|
27.65
|
9.50
|
|
5
|
Chhattisgarh
|
16.27
|
24.17
|
49.74
|
|
6
|
Delhi
|
17.89
|
48.19
|
17.90
|
|
7
|
Gauhati (Arunachal Pradesh)
|
2.03
|
9.76
|
2.26
|
|
8
|
Gauhati (Assam)
|
24.97
|
33.85
|
3.65
|
|
9
|
Gauhati (Mizoram)
|
3.12
|
6.22
|
2.48
|
|
10
|
Gauhati, Kohima (Nagaland)
|
1.79
|
3.91
|
3.41
|
|
11
|
Gujarat
|
27.72
|
73.21
|
48.89
|
|
12
|
Himachal Pradesh
|
6.06
|
6.89
|
7.63
|
|
13
|
Jammu & Kashmir and Ladakh
|
6.52
|
14.53
|
14.48
|
|
14
|
Jharkhand
|
10.59
|
29.22
|
7.65
|
|
15
|
Karnataka
|
32.37
|
67.40
|
48.22
|
|
16
|
Kerala
|
15.40
|
32.62
|
51.60
|
|
17
|
Madhya Pradesh
|
22.90
|
77.31
|
59.14
|
|
18
|
Madras
|
90.69
|
91.75
|
113.20
|
|
19
|
Manipur
|
11.12
|
7.54
|
2.16
|
|
20
|
Meghalaya
|
3.33
|
8.50
|
3.83
|
|
21
|
Orissa
|
6.77
|
53.24
|
16.09
|
|
22
|
Patna
|
32.43
|
89.55
|
57.61
|
|
23
|
Punjab And Haryana
|
14.58
|
26.01
|
18.95
|
|
24
|
Rajasthan
|
19.80
|
34.72
|
60.88
|
|
25
|
Sikkim
|
1.71
|
8.98
|
2.51
|
|
26
|
Telangana
|
22.03
|
28.57
|
29.44
|
|
27
|
Tripura
|
0.53
|
7.05
|
8.79
|
|
28
|
Uttarakhand
|
13.68
|
19.95
|
29.57
|
|
|
Total
|
611.88
|
997.49
|
911.82*
|
03.03.2026تک
نوٹ: ہائی کورٹس کو جاری کیے گئے فنڈز کے علاوہ، 185.06 کروڑ روپے این آئی سی کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے، 54.79 کروڑ روپے بی ایس این ایل کو وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این) کنیکٹیویٹی کے لیے، 7.51 کروڑ روپے ای-کمیٹی، SCI کو چینج مینجمنٹ کے تحت، 0.28 کروڑ روپے آئی آئی ٹی مدراس کو ای-لرننگ پلیٹ فارم کی تیاری کے لیے، اور 9.60 کروڑ روپے متفرق اخراجات (تنخواہیں، دفتری اخراجات، تشہیر وغیرہ) کے لیے جاری کیے گئے۔
یہ معلومات وزارت قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارت پارلیمنٹ کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
***
ش ح۔ ش آ۔ن ع
Uno-3865
(ریلیز آئی ڈی: 2238847)
وزیٹر کاؤنٹر : 4