مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
محکمہ ڈاک (ڈی او پی) کی جانب سے پارسل اور ای-کامرس کے شعبے میں متعدد اقدامات کیے گئے ہیں
پوسٹل چینل کے ذریعے ممنوعہ اشیا کی ترسیل کو روکنے اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات نافذ کیے گئے ہیں
میکنائزڈ اور مخصوص پارسل ترسیل کے لیے نوڈل ڈلیوری سینٹروں کے قیام کے ذریعے آخری مرحلے کی ترسیل کو مضبوط بنایا گیا ہے
پارسل اور ای-کامرس کے شعبے میں محکمہ ڈاک کی اصلاحات کے بعد محکمے کی پارسل آمدنی میں اضافہ ہوا ہے
محکمہ ڈاک مختلف سرکاری وزارتوں کے لیے پارسل کی ترسیلی خدمات بھی فراہم کرتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 5:37PM by PIB Delhi
مواصلات اور دیہی ترقی کے وزیر مملکت، ڈاکٹر پیماسانی چندر شیکھر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ محکمہ ڈاک (ڈی او پی) نے پارسل اور ای-کامرس کے شعبے میں متعدد اقدامات کیے ہیں تاکہ اسے ایک بڑے عوامی لاجسٹک ادارے میں تبدیل کیا جا سکے اور ملک بھر میں خدمات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان اقدامات میں پارسل کی پروسیسنگ اور ترسیل کے نظام کی جدید کاری شامل ہے، جس کا مقصد پورے ملک میں معیاری نظام کے ذریعے رفتار، قابل اعتماد خدمات اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔
آخری مرحلے کی ترسیل (لاسٹ مائل ڈلیوری) کو نوڈل ڈلیوری سینٹروں کے ذریعے مضبوط بنایا گیا ہے، جہاں میکانائزڈ اور مخصوص پارسل ترسیل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ایڈوانسڈ پوسٹل ٹیکنالوجی (اے پی ٹی) 2.0 منصوبے کے تحت ریئل ٹائم ڈلیوری اپڈیٹ، ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) پر مبنی ترسیل اور ای-کامرس شراکت داروں کے ساتھ ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) انضمام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میل اینڈ پارسل آپٹیمائزیشن پروجیکٹ (ایم پی او پی) کے ذریعے معیاری ورک فلو اور ریئل ٹائم ٹریکنگ کے ذریعہ ابتدا سے اختتام تک عمل کو بہتر بنایا گیا ہے۔
محکم ڈاک نے بڑی ای-کامرس اور لاجسٹک کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بھی قائم کی ہے اور کئی سرکاری وزارتوں کے لیے پارسل ترسیل کی خدمات فراہم کر رہا ہے، جن میں بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کی وزارت بھی شامل ہے۔ ڈاک نریات کیندر (ڈی این کے) قائم کیے گئے ہیں تاکہ ایم ایس ایم ای، دستکاروں، سیلف ہیلپ گروپ اور چھوٹے کاروباروں کو برآمدات میں مدد فراہم کی جا سکے، خصوصاً دیہی اور نیم شہری علاقوں میں۔ اس کے علاوہ محکمہ ڈاک نے بڑی ای-کامرس کمپنیوں جیسے ایمیزون، شپ راکٹ، ڈیکاتھلون اور او این ڈی سی وغیرہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریاں بھی قائم کی ہیں۔
محکمۂ ڈاک کی جانب سے پارسل اور ای-کامرس کے شعبے میں کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں پارسل آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ تین برسوں (2023-24 سے 2025-26، فروری تک) کے دوران 755.47 کروڑ روپے سے بڑھ کر 802.11 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
میل اینڈ پارسل آپٹیمائزیشن پروجیکٹ (ایم پی او پی) کے تحت بزنس پروسیس ری انجینئرنگ (بی پی آر) مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ورک فلو کو ازسر نو ڈیزائن کیا جا سکے اور کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔ ملک بھر میں پارسل ہب نیٹ ورک، ڈلیوری سینٹر اور سڑک کے ذریعے ترسیل کے نیٹ ورک کی عقلی تنظیم نو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے، جو بڑھتی ہوئی پارسل اور ای-کامرس صنعت کے مطابق ہے۔ اس نظام کو اے پی ٹی 2.0 کے ذریعے ریئل ٹائم ٹریکنگ اور ڈیجیٹل انضمام کی سہولت حاصل ہے۔ یہ اقدامات پورے بھارت میں نافذ ہیں، جن میں بنگلورو بھی شامل ہے۔
پوسٹل چینلوں کے ذریعے ممنوعہ اشیا کی ترسیل کو روکنے اور سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں رہنما ہدایات جاری کرنا، عملے کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کرنا اور ڈاک خانوں میں ممنوعہ اشیا کی فہرست آویزاں کرنا شامل ہے۔ محکمہ نے کے وائی سی (کے وائی سی) سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں اور بین الاقوامی ڈاک کے لیے خود تصدیق شدہ شناختی ثبوت کو لازمی قرار دیا ہے۔ ملک کے اندر پارسل بھیجنے کے لیے صارف کے اعلامیہ فارم جبکہ بین الاقوامی پارسل کے لیے کسٹمز اعلامیہ فارم اور کے وائی سی لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ اب سبھی پارسل کو اکاؤنٹیبل میل کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے تاکہ ان کی ٹریکنگ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
*************
ش ح۔ ف ش ع
U: 3812
(ریلیز آئی ڈی: 2238571)
وزیٹر کاؤنٹر : 4