شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
صلاحیت سازی کی (سی ڈی) اسکیم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 3:17PM by PIB Delhi
وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) نے صلاحیت سازی اسکیم کے تحت بھارت کے شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ اس کے ذریعے ڈیٹا کے معیار، بروقت دستیابی اور ڈیجیٹل ذرائع سے اس کی ترسیل میں بہتری لائی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت حاصل کی گئی اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:
سروے کے طریقۂ کار کو جدید بنانے کے لیے کمپیوٹر اسسٹڈ پرسنل انٹرویو (سی اے پی آئی) کا استعمال شروع کیا گیا ہے، جسے ای-سگما پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس نظام میں خودکار جانچ کے انتظامات، مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ، اور کثیر لسانی انٹرفیس شامل ہیں، جس کے نتیجے میں سروے کے نتائج پہلے سے زیادہ تیزی سے جاری کیے جا رہے ہیں۔ اہم سرویز جیسے پیریاڈک لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) اور اینول سروے آف اَن اِنکارپوریٹڈ سیکٹر انٹرپرائزز (اے ایس یو ایس ای) کے نمونہ جاتی ڈیزائن کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ ماہانہ اور سہ ماہی تخمینے تیار کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ بڑے معاشی اشاریوں یعنی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) اور کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے بنیادی سال کو بھی نظرِ ثانی کر کے تبدیل کیا گیا ہے۔
مزید برآں، ڈیٹا کی ترسیل اور اس تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایم او ایس پی آئی کی نئی ویب سائٹ، جی او آئی اسٹیٹس موبائل ایپلیکیشن، ای-سنکھیکی پورٹل، مائیکروڈیٹا پورٹل اور ڈیٹا کے تبادلے کے لیے اے پی آئیز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے ایک نیا ویب پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم پیمانہ (پی اے آئی ایم اے این اے) بھی شروع کیا ہے، جس کا مکمل نام (پروجیکٹ اسسمنٹ انفراسٹرکچر مانیٹرینگ اینڈ اینالیٹکس فور نیشن بلڈنگ) ہے۔ اس نظام کے ذریعے 150 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت کے جاری مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ڈیٹا استعمال کرنے والوں کی کانفرنسیں، مشاورتی نشستیں، ورک شاپس اور فیڈ بیک کے نظام کے ذریعے متعلقہ فریقوں کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ ( ایم او ایس پی آئی) نے ڈیٹا کے ہم آہنگی اور معیاری بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نیشنل میٹا ڈیٹا اسٹرکچر (این ایم ڈی ایس 2.0) کو اختیار کرنا، شماریاتی معیار کے جائزے کا فریم ورک (ایس کیو اے ایف) متعارف کرانا اور قومی و بین الاقوامی درجہ بندی کے معیارات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ نیشنل اسٹیٹسٹیکل سسٹمز ٹریننگ اکیڈمی (این ایس ایس ٹی اے)، جو وزارت کے تحت ایک ممتاز مرکزی تربیتی ادارہ ہے، باقاعدگی سے “سرکاری شماریات اور اس سے متعلق شعبوں” میں مختلف تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے۔ ان پروگراموں میں ڈیجیٹل آلات، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیٹا گورننس جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں، جن کا مقصد مرکزی اور ریاستی/مرکزی زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے شماریاتی عملے کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ فیلڈسے بہتر اور معیاری ڈیٹا جمع کیا جا سکے۔
“سپورٹ فار اسٹیٹسٹیکل اسٹرینتھنگ (ایس ایس ایس)” ذیلی اسکیم کے تحت وزارت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے، تاکہ ریاستی شماریاتی نظام کی صلاحیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور ڈیٹا کے جمع کرنے، مرتب کرنے اور اس کی ترسیل کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ، وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ ثقافت کے وزیرِ مملکت راؤ اندر جیت سنگھ نے فراہم کیں۔
********************
(ش ح ۔ ا ع خ ۔ ت ع)
Urdu No. 3773
(ریلیز آئی ڈی: 2238281)
وزیٹر کاؤنٹر : 8