زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پی ایم کسان اسکیم کے آغاز کے بعد سے اب تک کسانوں کو 21 قسطوں کی صورت میں 4.09 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 MAR 2026 6:13PM by PIB Delhi
زراعت و کسان فلاح و بہبود کے وزیرِ مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں بتایا کہ پی ایم کسان اسکیم، ایک مرکزی حکومتی اسکیم ہے جسے فروری 2019 میں معزز وزیرِ اعظم کی جانب سے ان کسانوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا جو قابلِ کاشت زمین کے مالک ہیں۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو ہر سال 6,000 روپے کی مالی مدد تین برابراقسطوں میں براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ان کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔ پی ایم کسان اسکیم میں قابلِ کاشت زمین کا مالک ہونا فائدہ حاصل کرنے کے لیے بنیادی اہلیت کی شرط ہے، البتہ زیادہ معاشی حیثیت رکھنے والے بعض افراد اس سے مستثنیٰ ہیں۔
کسانوں کے لیے تیار کیے گئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اسکیم کے فوائد بغیر کسی بیچولیہ فرد کے ملک بھر کے تمام کسانوں تک پہنچیں۔ مستفید ہونے والوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کے عمل میں مکمل شفافیت برقرار رکھتے ہوئے، حکومتِ ہند نے اسکیم کے آغاز سے اب تک 21اقسطوں میں 4.09 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی ہے۔ کسان شناختی کارڈ کو صرف ان 19 ریاستوں میں پی ایم کسان اسکیم کے تحت نئے رجسٹریشن کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے جہاں کسان رجسٹریشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ جن ریاستوں میں ابھی یہ عمل شروع نہیں ہوا، وہاں کسان بغیر کسان شناختی کارڈ کے بھی رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔
طریقۂ کار میں فرق کی وجہ سے مختلف دستاویزات میں ناموں کی عدم مماثلت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جس کے باعث بعض کسانوں کو اسکیم کا فائدہ حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس مسئلے کے حل اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی اہل کسان محروم نہ رہے، حکومت نے موبائل اور ویب ایپلیکیشنز کے ذریعے خود رجسٹریشن سمیت کسان رجسٹریشن کے متعدد ذرائع فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک شکایت ازالہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے کسان زمینی یا نام میں عدم مماثلت سے متعلق مسائل اٹھا سکتے ہیں اور کسان شناختی کارڈ کے لیے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔
جن کسانوں کے پاس موبائل فون دستیاب نہیں ہیں، انہیں بھی ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ پہنچانے کے لیے دیگر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایسے کسان کامن سروس سینٹر (سی ایس سی)اور بلاک و تحصیل سطح پر قائم ریاستی حکومت کے دفاتر جیسی موجودہ سہولیات سے رجوع کر کے خدمات اور فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
*****
ش ح۔ ع ح-رض
Uno-3627
(ریلیز آئی ڈی: 2237976)
وزیٹر کاؤنٹر : 8