بھاری صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

برقی گاڑیوں کا استعمال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 MAR 2026 4:16PM by PIB Delhi

مالی سال 2019-20 سے 2024-25 کے درمیان الیکٹرک گاڑیوں (ای وی ایس) کے سال بہ سال (وائی او وائی) استعمال کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے۔

(تعداد لاکھ میں)

مالی سال

20-2019

21-2020

22-2021

2022-23

2023-24

2024-25

رجسٹرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد (ای وی ایس)

1.74

1.43

4.59

11.83

16.81

19.68

ماخذ: وہان پورٹل

 

مزید برآں، بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے گھریلو مینوفیکچرنگ کے لیے سپلائی چین کی لچک کو مضبوط بنانے کے مقصد سے درج ذیل اسکیمیں شروع کی ہیں:

1۔ آٹوموبائل اور آٹو اجزاء کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی-آٹو):
حکومت نے 25,938 کروڑ روپے کے بجٹ اخراجات کے ساتھ ایڈوانسڈ آٹوموٹو ٹیکنالوجی (اے اے ٹی) مصنوعات کے لیے ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے 15.09.2021 کو پی ایل آئی-آٹو اسکیم کو منظوری دی۔ اس اسکیم میں کم از کم 50 فیصد گھریلو ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) کے ساتھ اے اے ٹی مصنوعات کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور آٹوموٹو مینوفیکچرنگ ویلیو چین میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مالی مراعات فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

2۔ ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج پر قومی پروگرام کے لیے پروڈکشن سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم:
حکومت نے 12.05.2021 کو 18,100 کروڑ روپے کے بجٹ اخراجات کے ساتھ ملک میں اے سی سی کی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے پی ایل آئی-اے سی سی اسکیم کو منظوری دی۔ اس اسکیم کے تحت 50 جی ڈبلیو ایچ کی مجموعی اے سی سی بیٹری مینوفیکچرنگ صلاحیت قائم کرنے کا تصور کیا گیا ہے۔

3۔ پی ایم الیکٹرک ڈرائیو انقلاب انوویٹیو وہیکل انہانسمنٹ (پی ایم ای-ڈرائیو) اسکیم:
پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کو 29.09.2024 کو نوٹیفائی کیا گیا۔ اس اسکیم پر 01.04.2024 سے 31.03.2028 تک چار سال کی مدت کے دوران 10,900 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے (سوائے ای-2 ڈبلیو اور ای-3 ڈبلیو کے، جن کی آخری تاریخ 31.03.2026 ہے)۔ اس اسکیم کا مقصد ای-2 ڈبلیو، ای-3 ڈبلیو، ای-ایمبولینس، ای-ٹرک اور ای بسوں کی فروخت کو فروغ دینا ہے۔ یہ اسکیم چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی اور وہیکل ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگرام (پی ایم پی) مخصوص ای وی اجزاء کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو لازمی بناتا ہے۔

4۔ سنٹرڈ ریئر ارتھ پرمیننٹ میگنیٹ (آر ای پی ایم) کی تیاری کو فروغ دینے کی اسکیم:
ایم ایچ آئی نے 15.12.2025 کو 7,280 کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ سنٹرڈ ریئر ارتھ پرمیننٹ میگنیٹ (آر ای پی ایم) کی تیاری کو فروغ دینے کی اسکیم کو نوٹیفائی کیا۔ اس پہل کا مقصد ہندوستان میں 6000 میٹرک ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) کی صلاحیت کے ساتھ مربوط ریئر ارتھ پرمیننٹ میگنیٹ مینوفیکچرنگ قائم کرنا ہے، جس سے خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور ہندوستان کو عالمی آر ای پی ایم مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

5۔ پی ایم ای بس سیوا-پیمنٹ سیکورٹی میکانزم (پی ایس ایم) اسکیم:
یہ اسکیم 28.10.2024 کو نوٹیفائی کی گئی۔ اس کا تخمینہ 3,435.33 کروڑ روپے ہے اور اس کا مقصد 38,000 سے زائد الیکٹرک بسوں کی تعیناتی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (پی ٹی اے) کی جانب سے ڈیفالٹ کی صورت میں ای-بس آپریٹرز کو ادائیگی کا تحفظ فراہم کرنا ہے۔

6۔ بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے اسکیم (ایس پی ایم ای پی سی آئی):
الیکٹرک پیسنجر کارز کی پیداوار کے لیے یہ اسکیم 15.03.2024 کو نوٹیفائی کی گئی تھی۔ اس کے تحت درخواست دہندگان کو کم از کم 4,150 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور تیسرے سال کے اختتام تک کم از کم 25 فیصد ڈی وی اے جبکہ پانچویں سال کے اختتام تک 50 فیصد ڈی وی اے حاصل کرنا ہوگا۔

یہ معلومات بھاری صنعتوں کے وزیر مملکت، جناب بھوپتی راجو سرینواس ورما نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے دوران فراہم کیں۔

***

 

UR-3689

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2237758) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil