وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی ثقافتی ورثے کا تحفظ اور فروغ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 MAR 2026 3:10PM by PIB Delhi

ملک بھر میں قبائلی فن کی شکلوں اور زبانی روایات سمیت لوک فن ، قبائلی ورثے کی مختلف شکلوں کے تحفظ ، دستاویز اور فروغ کے لیے ، حکومت ہند نے پٹیالہ ، ناگپور ، ادے پور ، پریاگ راج ، کولکاتہ ، دیما پور اور تنجاور میں صدر دفاتر کے ساتھ سات زونل کلچرل سینٹر (زیڈ سی سی) قائم کیے ہیں ۔ ان سات زیڈ سی سی کو ان کی رکن  ریاستوں کی جانب سے باقاعدگی سے مختلف ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں کے انعقاد کے لیے سالانہ گرانٹ ان ایڈ جاری کی جاتی ہے۔

قبائلی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے مختلف تہوار جیسے ہارن بل فیسٹیول، آکٹیو، قبائلی رقص فیسٹیول، آدی بمب، آدی سپت پلّو، آدی لوک رنگ، آدیواسی مہواتسوو وغیرہ وزارتِ ثقافت کے زونل کلچرل سینٹرز (زیڈ سی سی )  کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ منفرد لوک رقص، گانے، کھانے، نمائشیں اور روایتی ہنر جیسے مصوری، فن و دستکاری کی نمائش کی جا سکے۔

وزارتِ قبائلی امور، حکومتِ ہند ’’سپورٹ ٹو ٹرائبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹس اینڈ ٹرائبل ریسرچ، انفارمیشن، ایجوکیشن، کمیونی کیشن اینڈ ایونٹس‘‘کے تحت مختلف اسکیمیں نافذ کرتی ہے، جن کے تحت قبائلی ثقافت، آرکائیوز، نوادرات، رسم و رواج اور قبائلی کمیونٹیز کی روایات کو محفوظ اور فروغ دینے کے لیے مختلف سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔ ’’ ٹرائبل ریسرچ، انفارمیشن، ایجوکیشن، کمیونیکیشن اینڈ ایونٹس (ٹی آر آئی- ای سی ای)‘‘ اسکیم کے تحت معروف تحقیقی ادارے، تنظیمیں اور یونیورسٹیاں مختلف تحقیقی مطالعے، کتابوں کی اشاعت، دستاویزات بشمول آڈیو ویزوئل ڈاکومنٹریز وغیرہ انجام دے رہی ہیں۔

ساہتیہ اکادمی ہر سال بھاشا سمّان فراہم کرتی ہے جو قبائلی زبانوں اور زبانی روایات پر کام کرنے والے اسکالرز کو دیا جاتا ہے۔ اکادمی نے زبانی اور قبائلی ادب کی دستاویزی اور تحفظ کے لیے خصوصی پروگرامز اور مراکز بھی قائم کیے ہیں، جیسے کہ سینٹر فار اورل اینڈ ٹرائبل لٹریچر۔ اکادمی نے اگرتلہ میں نارتھ ایسٹ سینٹر فار اورل لٹریچر (این ای سی او ایل)  بھی قائم کیا ہے تاکہ خصوصی طور پر زبانی روایات سے متعلق زبانوں کی خدمت کی جا سکے۔ یہ مرکز متعلقہ اشاعتیں جاری کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً ان زبانوں میں سرگرمیاں اور پروگرام بھی منعقد کرتا ہے۔

وزارتِ ثقافت کے تحت ساہتیہ اکادمی نے ایک لینگویج ڈیولپمنٹ بورڈ قائم کیا ہے جو وقتاً فوقتاً لینگویج  کنونشن کا انعقاد کرتا ہے۔ بورڈ کے قیام کے بعد سے، اودھی، بنجارا، بُندیلی، چاکما، گڑھوالی، ہماچلی، کچھی، کوداوا، کوموونی، کرمالی، میسنگ، راجبانسی، ساورا، وارلی، رابھا، ساداری، کھریہ، بائیگانی، کورکو، کھریہ اور نیشی زبانوں میں کنونشن منعقد کیے جا چکے ہیں۔

اکیڈمی ہر سال 9 اگست کو قبائلی برادریوں کو شامل کرنے کے لیے کل ہند قبائلی مصنفین کی میٹنگ کا انعقاد کرکے دنیا کے مقامی لوگوں کا بین الاقوامی دن مناتی ہے ۔

آرکائیوز آف انڈین لٹریچر نامی اپنے پروجیکٹ کے ذریعے اکیڈمی مصنفین اور ادب سے منسلک قیمتی مواد جیسے مخطوطات ، تصاویر ، آڈیو ریکارڈنگ ، ویڈیو ریکارڈنگ اور پورٹریٹ وغیرہ کو جمع اور محفوظ کرتی ہے ، جس میں قبائلی مصنفین بھی شامل ہیں ۔

فنکاروں کو قبائلی علاقوں کے زیڈ سی سی کے ذریعے ان زیڈ سی سی کے زیر اہتمام مختلف ثقافتی پروگراموں/سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے جس کے لیے انہیں اعزازیہ ، ڈی اے/ٹی اے ، رہائش وغیرہ ادا کیا جاتا ہے۔ سال 2025 کے دوران 6476 کمیونٹیز/فنکاروں/ثقافتی پریکٹیشنرز کو اس طرح مدد فراہم کی گئی ہے ۔

ورثے کے تحفظ ، نمائش اور ثقافتی ترسیل میں قبائلی برادریوں کو براہ راست شامل کرنے کے لیے ، تمام زیڈ سی سی اپنی رکن ریاستوں  کے بھرپور اور روشن قبائلی ثقافتی ورثے کو ظاہر کرنے کے لیے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں ، قبائلی برادریوں کی معدوم اور معدوم ہونے والی آرٹ کی شکلوں کو فروغ دینے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کرتے ہیں ، قبائلی رقص ، پینٹنگز ، موسیقی وغیرہ سمیت آرٹ کی شکلوں کی دستاویزات کرتے ہیں ۔  گرو شیشہء پرمپرا اسکیم کے تحت نوجوان نسل کو ہندوستانی قبائلی فن کی شکلوں سے متعلق تربیت دی جاتی ہے ۔

قبائلی ملبوسات ، موسیقی کے آلات ، روزمرہ استعمال کے برتن ، قبائلی برادریوں کے دیوتا وغیرہ ۔ سیاحوں اورانہیں دیکھنے آنے والوں  کو ریاستوں کی قبائلی ثقافت سے روسناش کرانے کے لیے زیڈ سی سی کے ذریعے نمائش کی جاتی ہے ۔  

بھارت کے قبائلی ورثے کے تحفظ اور اس کے مظاہرے کے لیے، زونل کلچرل سینٹرز ( زیڈ سی سی ) نے لوک اور قبائلی فنون جیسے رقص، موسیقی، فنونِ لطیفہ اور پرفارمنگ آرٹس کے تحفظ اور فروغ کی ذمہ داریاں بخوبی انجام دی ہیں۔زیڈ سی سی  نے نئی نسل کے شائقین اور فنکاروں کے درمیان ہمارے لوک اور قبائلی فنون کی حرکیات کو محفوظ کرنے، دستاویزی شکل دینے اور عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید برآں، ریسرچ اینڈ ڈاکیومنٹیشن اسکیم کم ہوتی ہوئی ویزوئل اور پرفارمنگ آرٹس کے تحفظ اور فروغ کی حمایت کرتی ہے، جس میں موسیقی، رقص، تھیٹر، ادب اور فنونِ لطیفہ جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس اقدام کے تحت ان روایات کو پرنٹ اور آڈیو ویزوئل دونوں شکلوں میں دستاویزی شکل دی جاتی ہے اور فنونِ لطیفہ کے انتخاب میں ریاستی ثقافتی محکموں سے مشاورت کی جاتی ہے۔ یہ زیڈ سی سی کم مقبول ہوتے جارہے لوک/قبائلی فنون کی ریکارڈنگ اور دستاویز سازی میں بھی شامل ہیں اور لوک کہانیوں اور زبانی تاریخ سے متعلق کتابیں، رپورٹس اور کہانیاں شائع کرتے ہیں۔

یہ معلومات ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔

****

ش ح۔ا ع خ ۔  ش ت  

U NO:-3562


(ریلیز آئی ڈی: 2236985) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil