ارضیاتی سائنس کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لکشدیپ میں مجوزہ ’اوشن تھرمل انرجی کنورژن‘ (او ٹی ای سی) منصوبے کا معائنہ کیا، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے
یہ منصوبہ بیک وقت پانی اور توانائی کی پائیدارفراہمی کو یقینی بنانے کے مقصد سے شروع کیا جا رہا ہے
وزیر موصوف نے جزیرہ نماں علاقوں کی بجلی کی ضروریات کو خود کفیل اور صاف ستھری توانائی کے ذرائع کے ذریعے پورا کرنے کے لیے سمندری توانائی کے استعمال کی وکالت کی
لکشدیپ میں او ٹی ای سی منصوبے کا مقصد ماحولیاتی مطابقت کے ساتھ رہن سہن میں آسانی کو فروغ دینا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 MAR 2026 7:56PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے ارضیاتی سائنس اور سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعہ کے روز لکشدیپ کے کَوَرَتّی کے دورے کے دوران اوشن تھرمل انرجی کنورژن (او ٹی ای سی) منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا، کیونکہ حکومت جزیرہ نماں علاقوں میں میٹھے پانی کی دستیابی اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو مضبوط بنانے کی سمت میں اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر موصوف نے او ٹی ای سی پر مبنی ڈی سیلینیشن (نمکین پانی کو قابلِ استعمال بنانے) مرکز پر جاری کام کا معائنہ کیا۔ یہ منصوبہ سمندر کے گرم سطحی پانی اور گہرے سمندر کے ٹھنڈے پانی کے درمیان درجۂ حرارت کے فرق کو استعمال کرتے ہوئے توانائی پیدا کرتا ہے اور اسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جزائر میں رہنے والی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی مستحکم اور پائیدار فراہمی یقینی بنانا ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد لکشدیپ میں میٹھے پانی کے دیرینہ مسائل کو حل کرنا ہے، جہاں محدود زیرِ زمین پانی، نمکیات کے مل جانے اور موسمی بارشوں پر انحصار نے پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی کو محدود کر رکھا ہے۔
دورے کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پلانٹ کی فزیکل اور تکنیکی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اہم اجزاء جیسے سمندری پانی کی داخلی نظام، گہرے سمندر کے ٹھنڈے پانی کی پائپ لائن، ٹربائن-جنریٹر یونٹ اور ڈی سیلینیشن ماڈیولز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدانوں، انجینئروں اور عملے سے بات چیت بھی کی اور کمیشننگ کے شیڈول کے ساتھ ماحولیاتی تحفظات کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے انہیں ڈیپ اوشن مشن کے تحت آف شور او ٹی ای سی ڈیمونسٹریشن پروجیکٹ کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔
منصوبے کے عہدیداروں کے مطابق، لکشدیپ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو علاقے کی سمندر کی تہہ کی صور تحال کی وجہ سے لوجسٹک اور انجینئرنگ چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں مرجان کی چٹانیں، پتھریلی تہیں اور گہری کھائی شامل ہیں۔ کام پر مانسون کے مہینوں میں محدود آپریشنل وقت اور سمندر کی سخت صورتحال بھی اثر انداز ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی ڈیزائن اور تنصیب کے طریقے درکار ہیں۔
او ٹی ای سی پر مبنی نظام کو ایک مسلسل قابلِ تجدید توانائی کے ماخذ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو سورج یا ہوا کی طاقت کی طرح موسم کی صورتحال پر منحصر نہیں ہوتا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ بالآخر ڈیزل پر چلنے والے ڈی سیلینیشن یونٹس پر انحصار کو کم کر سکتا ہے، جس سے ایندھن کی نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے، اخراجات میں کمی آئے گی اور جزائر کے لیے پانی کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
عالمی سطح پر، بھارت دنیا میں او ٹی ای سی سہولیات تیار کرنے والا پہلا ملک ہے، حالانکہ جاپان اور امریکہ میں بھی منصوبے موجود ہیں۔ کووَرَتّی پلانٹ کیے آغاز کے ساتھ، بھارت اس گروپ میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو دیگر گرم مرطوب جزائر اور ساحلی علاقوں میں استعمال کرنے کے امکانات بھی دریافت کر رہا ہے۔
دورے کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جزیرہ نماں علاقے پانی کی دستیابی اور توانائی کی یقینی فراہمی کے حوالے سے منفرد چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور سمندری قابلِ تجدید توانائی کو ڈی سیلینیشن کے ساتھ ضم کرنے سے ایسے مقامات میں پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی حل فراہم کیا جا سکتا ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ یہ منصوبہ حکومت کے بلیو اکانومی فریم ورک کے تحت سمندری ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے اور جزیرہ نماں علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ، توانائی کی یقینی فراہمی اور موسمیاتی مضبوطی کو مستحکم بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔



****
ش ح۔ا ع خ ۔ ش ت
U NO:-3556
(ریلیز آئی ڈی: 2236941)
وزیٹر کاؤنٹر : 7