زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان  نے چنئی میں ناریل  کے کاشتکاروں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مابعد بجٹ تبادلہ  خیال کا اہتمام کیا


کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے کے لیے پیداوار، پروسیسنگ اور مخلوط کاشت پر زور دینے کی ضرورت ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

مرکزی وزیر زراعت نے ناریل کے شعبے میں چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے کاشتکاروں، سائنس دانوں اور ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAR 2026 6:11PM by PIB Delhi

زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج چنئی میں ناریل کی کاشت کرنے والے کسانوں، سائنس دانوں، زرعی ماہرین اور ناریل کے شعبے سے وابستہ کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مابعد بجٹ کے ایک اہم تبادلہ خیال میں حصہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ناریل کے شعبے کی ترقی، پیداوار بڑھانے اور کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اپنے خطاب میں جناب چوہان نے کہا کہ وہ جب بھی تمل ناڈو کی مقدس سرزمین پر جاتے ہیں تو ان کا دل خوشی اور جوش سے بھر جاتا ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کے عظیم لوگوں، یہاں کی بھرپور ثقافت، روایات اور نامور شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ملک کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ تمل ناڈو ملک میں ناریل کی پیداوار کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان بھر میں تقریباً 1.25 کروڑ کاشتکار ناریل کی کاشت سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریباً 3 کروڑ لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار ناریل کے شعبے پر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ناریل کے کاشتکاروں کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جو اس شعبے کی پیداواریت اور پائیداری کو متاثر کر رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ملک میں ناریل کے بہت سے باغات لگ بھگ 60 سال پرانے ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ روٹ وِلٹ اور سفید مکھی جیسی بیماریاں بھی ناریل کی پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجوں کے لیے مربوط کوششوں اور اختراعی حل کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسان پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے اور اپنی آمدنی کی سطح کو بہتر بنانے کے قابل ہوں۔

جناب چوہان نے کہا کہ ان چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے حکومت ناریل کی نئی، ترقی یافتہ اور بیماریوں سے مزاحم اقسام کی ترقی پر خصوصی زور دے گی۔ اس کا مقصد ناریل کی پیداوار اور معیار دونوں کو بڑھانا ہے تاکہ ہندوستان عالمی ناریل برآمدی منڈی میں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کر سکے۔

انہوں نے اجتماع کو بتایا کہ کسانوں، سائنسدانوں اور ماہرین کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ اجتماعی طور پر عملی اور موثر حل نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق، یہ مشاورت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی اقدامات کسانوں کے حقیقی تجربات اور ضروریات پر مبنی رہیں۔

مرکزی وزیر جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے اعلان کردہ ناریل کو فروغ دینے کی اسکیم کے ذریعے حکومت پیداوار، پروسیسنگ اور مخلوط کاشت کو فروغ دے گی، جس سے ناریل کے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ناریل کی کاشت کے ساتھ ساتھ بین فصلوں کی حوصلہ افزائی کرنے سے ناریل کے فارموں کی معاشی استحکام میں نمایاں بہتری آسکتی ہے اور کسانوں کو آمدنی کے اضافی ذرائع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

جناب چوہان نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ناریل کے کاشتکاروں کو بہتر سہولیات اور مضبوط ادارہ جاتی مدد ملے۔ اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر کئی اہم اقدامات کیے جائیں گے۔ ان میں پرانے اور غیر پیداواری باغات کی جگہ نئے باغات کا قیام، اعلیٰ معیار کی نرسریوں کی ترقی، پراسیسنگ کی جدید سہولیات کی دستیابی اور ناریل پر مبنی مصنوعات کی قدر میں اضافے پر زیادہ زور دینا شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ناریل پروموشن اسکیم کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے کسانوں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ یہ بات چیت مکمل ہونے کے بعد، کوکونٹ پروموشن بورڈ سے متعلق ایک جامع فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا۔ اس فریم ورک کا مقصد ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جو آنے والے برسوں میں ناریل کے شعبے کی ترقی میں رہنمائی اور معاونت کر سکے۔ جناب چوہان نے یقین ظاہر کیا کہ یہ پہل ملک بھر میں ناریل کے کاشتکاروں کو اہم فوائد فراہم کرے گی۔ خاص طور پر، انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں تقریباً 28 فیصد کاشتکاروں کو ناریل کی ترقی سے متعلق مجوزہ پہل قدمیوں اور اقدامات کے نفاذ سے فائدہ اٹھانے کی امید ہے۔

پروگرام کے دوران، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستان کے لسانی تنوع کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی علاقائی زبانیں انتہائی امیر اور خوبصورت ہیں اور یہ ملک کے ثقافتی ورثے اور تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس طرح کے مباحثوں میں حصہ لینے والے اپنی اپنی مادری زبانوں میں بات چیت کر سکتے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو مترجمین کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کا نقطہ نظر نہ صرف شرکاء کے لیے مواصلات کو آسان اور زیادہ آرام دہ بنائے گا بلکہ یہ ملک کے ثقافتی تنوع اور قومی اتحاد کے منفرد امتزاج کو بھی ظاہر کرے گا۔

***

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:3508


(ریلیز آئی ڈی: 2236468) وزیٹر کاؤنٹر : 12