PIB Headquarters
خواتین کا بین الاقوامی دن 2026
ناری شکتی (خواتین کی طاقت): وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کی بنیاد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 MAR 2026 10:03AM by PIB Delhi
|
کلیدی نکات
|
- خواتین کا بین الاقوامی دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ سال 2026 کا موضوع "حقوق اور انصاف کے ساتھ ہر عورت اور ہر لڑکی کو بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات" پر مرکوز ہے۔
- دنیا بھر میں جاری "گیو ٹو گین" مہم صنفی مساوات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون، اشتراک اور فراخدلی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
- ہندوستان اب صرف "خواتین کے لیے فلاحی اسکیموں" تک محدود نہیں رہا بلکہ "خواتین کی قیادت میں ترقی" کے تصور کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ خواتین ہی معیشت اور معاشرے کی ترقی کی اصل محرک قوت ہیں۔
- مساوات کے حق اور آئین کی جانب سے دی گئی عالمگیر بالغ حق رائے دہی نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ خواتین کو نہ صرف ہندوستانی جمہوریت میں مساوی حیثیت حاصل ہو بلکہ نظامِ حکمرانی میں بھی ان کی مؤثر اور باوقار شرکت ممکن ہو۔
- تعلیم، صحت، مالی شمولیت اور تحفظ کے شعبوں میں مختلف حکومتی اقدامات خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں۔
- مزید برآں، سیلف ہیلپ گروپس، کاروباری مواقع کی فراہمی اور ہنر مندی کے فروغ کے پروگرام خواتین کی معاشی شرکت کو وسعت دینے اور انہیں خود مختار کاروباری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
|
اجتماعی عزم سے عالمی پہچان تک
تبدیلی شاذ و نادر ہی کسی تماشے یا شور و غوغا کے ساتھ آتی ہے۔ اکثر یہ ایک خاموش مگر مضبوط عزم کے طور پر جنم لیتی ہے،ایسا عزم جو حالات کی طرف سے عائد کی گئی حدود کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ خواتین کے حقوق کی جدوجہد بھی اسی انداز میں سامنے آئی۔ فیکٹریوں کے فرش سے لے کر کمیونٹی کے اجتماعات اور عوامی فورمز تک بلند ہونے والی آوازیں محض احتجاج کی آوازیں نہیں تھیں بلکہ امید اور ایک بہتر مستقبل کے عزم کی ترجمان تھیں۔
ہر سال 8 مارچ کو منایا جانے والا خواتین کا بین الاقوامی دن، خواتین کے حقوق اور مساوات کے حصول کے لیے طے کیے گئے طویل اور جدوجہد بھرے سفر کی یاد دلاتا ہے۔
مزدور تحریکوں اور حقِ رائے دہی کی مہمات سے لے کر عالمی سطح کے حقوقی کنونشنوں تک، خواتین کی اجتماعی جدوجہد نے اداروں کو نئی جہت دی اور سماجی ترقی کی رفتار کو تیز کیا۔ 1977 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے خواتین کا بین الاقوامی دن کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جانا دراصل اس تحریک کا اعتراف تھا جو پہلے ہی دنیا بھر کے معاشروں میں مثبت تبدیلیاں لا رہی تھی۔
|
خواتین کا بین الاقوامی دن 8 مارچ کو کیوں منایا جاتا ہے؟
خواتین کے عالمی دن کی جڑیں بیسویں صدی کے اوائل میں شمالی امریکہ اور یورپ کی مزدور تحریکوں میں پیوست ہیں۔ اسے 1977 میں اقوامِ متحدہ نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ 8 مارچ کی تاریخ خاص طور پر 1917 کے ایک اہم واقعے سے منسلک ہے، جب روسی خواتین نے "روٹی اور امن" کا مطالبہ کرتے ہوئے تاریخی ہڑتال کی تھی۔ یہ تحریک اُس وقت کے جولین کیلنڈر کے مطابق 23 فروری کو شروع ہوئی تھی، جو بین الاقوامی طور پر مستعمل گریگورین کیلنڈر کے مطابق 8 مارچ کے برابر ہے۔
آج دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن سماجی، معاشی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جہاں سے خواتین کے حقوق اور ان کی مساوی شرکت کے لیے دنیا بھر میں حمایت کو مزید تقویت ملتی ہے۔
|
آج ،خواتین کا بین الاقوامی دن نہ صرف ماضی کی جدوجہد کو یاد کرنے کا موقع ہے بلکہ یہ عمل کی ایک واضح دعوت بھی ہے۔ یہ دنیا بھر کے ممالک اور اداروں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ محض علامتی تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ انصاف، مساوات اور قیادت کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
خواتین کا بین الاقوامی دن 2026 کی تھیم
اقوامِ متحدہ نے خواتین کا بین الاقوامی دن 2026 کے لیے ایک واضح پیغام پیش کیا ہے، "ہر عورت اور ہر لڑکی کو بااختیار بنانے کے لیے حقیقی اقدامات، جن میں حقوق اور انصاف کا حصول شامل ہو۔" یہ تھیم محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک پختہ عزم کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ علامتی اقدامات سے آگے بڑھ کر خواتین کو بااختیار بنایا جائے اور انصاف کو ان کی دسترس میں لایا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں اس موقع پر مختلف تقریبات اور مباحثوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اسی نوعیت کی کوششیں ڈبلیو ایچ او کے یورپ کے علاقائی دفتر کے ذریعے بھی جاری ہیں، جہاں پالیسی ساز، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے خواتین کے حقوق اور ان کی مؤثر شرکت کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔
|
گلوبل گیو ٹو گین مہم
خواتین کا بین الاقوامی دن 2026 کے لیے عالمی مہم کا تھیم "گیو ٹو گین" اس بات پر زور دیتا ہے کہ باہمی تعاون کے ذریعے صنفی مساوات کی راہ کیسے ہموار کی جا سکتی ہے۔ یہ مہم ہر فرد اور ہر تنظیم کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ اپنا وقت، وسائل اور رہنمائی فراہم کریں تاکہ خواتین نہ صرف آگے بڑھ سکیں بلکہ اپنے مقاصد بھی حاصل کر سکیں۔
یہ تصور بظاہر سادہ لیکن نہایت بامعنی ہے،جب ہم خواتین کے خوابوں اور کامیابیوں میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو اس کے فوائد صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح ہماری کمیونٹیز بااختیار بنتی ہیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو ہر طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ جامع اور مضبوط ہوتا ہے۔
|

ناری شکتی (خواتین کی طاقت )- ہندوستان کی ترقی کا سنگ بنیاد
ہندوستان بھر میں تبدیلی اکثر ایسی جگہوں سے شروع ہوتی ہے جو شاذ و نادر ہی سرخیوں میں آتی ہیں،کسی گاؤں کی پنچایت میں جہاں ایک عورت پہلی بار اپنی آواز بلند کرتی ہے، کسی چھوٹے سے کاروبار میں جو باورچی خانے سے شروع ہو کر بازار تک پہنچتا ہے، یا کسی کلاس روم میں جہاں ایک لڑکی یہ عزم کرتی ہے کہ اس کا مستقبل اس کے ماضی جیسا نہیں ہوگا۔ انفرادی طور پر یہ لمحات معمولی محسوس ہو سکتے ہیں، مگر جب یہ سب ایک ساتھ جڑتے ہیں تو ہندوستان کی ترقی کی داستان میں ایک تاریخی تبدیلی کو جنم دیتے ہیں۔
کئی دہائیوں تک ہماری توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ خواتین کو خوراک، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہو۔ ان کوششوں نے بااختیار بنانے کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ مگر آج کہانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب ہم محض خواتین کی ترقی نہیں بلکہ خواتین کی زیرِ قیادت ترقی کی بات کر رہے ہیں۔ آج ہندوستان خواتین کو صرف حکومتی اسکیموں کے مستفیدین کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ انہیں ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کو آگے بڑھانے والی ایک مؤثر قوت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
اس تبدیلی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک میں مواقع کا ایک وسیع نیٹ ورک ابھر رہا ہے۔ آسان قرضوں کی فراہمی، سیلف ہیلپ گروپس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تعلیم کے نئے مواقع اور مضبوط حفاظتی اقدامات،یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ خواتین نہ صرف فعال طور پر حصہ لے رہی ہیں بلکہ ہندوستان کی ترقی کے عمل کو شکل دینے اور اس کی قیادت کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
خواتین کا بین الاقوامی دن کے موقع پر ہماری توجہ صرف اب تک کی پیش رفت کا جشن منانے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں رونما ہونے والی ان گہری تبدیلیوں کو تسلیم کرنے پر بھی ہے۔ آج بڑی صنعتوں سے لے کر کھیتوں تک، کلاس رومز سے لے کر نظامِ حکمرانی کے مختلف پلیٹ فارمز تک،خواتین ہندوستان کے ترقیاتی سفر کو نئی سمت دے رہی ہیں۔
خواتین کا بین الاقوامی دن 2026 نئی دہلی میں منایا جائے گا
خواتین کا بین الاقوامی دن 2026 کے ملک گیر جشن کے ایک حصے کے طور پر نئی دہلی میں تقریبات کا ایک سلسلہ منعقد کیا جائے گا۔
پروگرام کے اہم نکات ذیل میں تفصیل کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں:
|
خواتین کا بین الاقوامی دن 2026
8 مارچ 2026 | نئی دہلی
شکتی واک – #SheLeadsBharat
سفر کا راستہ: کرتویہ پتھ (انڈیا گیٹ سے وجے چوک تک)
'شکتی واک' ہمارے ادارہ جاتی اور سماجی ماحولیاتی نظام کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گی۔ ہندوستانی خواتین کے ایک علامتی مارچ کے طور پر تصور کی جانے والی یہ واک خواتین کی زیرِ قیادت ترقی کے فروغ اور افرادی قوت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کے اس تاریخی عشرے کا جشن منائے گی۔
|
|
خواتین کا بین الاقوامی دن کی تقریب
مقام: مانیکشا سینٹر آڈیٹوریم
عزت مآب صدرِ جمہوریہ کی موجودگی میں منعقد ہونے والی یہ تقریب گورننس، سائنس، کاروبار، سکیورٹی، فنون اور نچلی سطح کی قیادت میں خواتین کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کرے گی۔ یہ تقریب 2047 تک وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کے وژن کو آگے بڑھانے میں خواتین کی قوت کے مرکزی کردار کو نمایاں کرے گی۔
|

حقوق کو یقینی بنانا
|
قومی کمیشن برائے خواتین
جنوری 1992 میں حکومت نے ایک مخصوص مینڈیٹ کے ساتھ اس قانونی ادارے کو قائم کیا، جس کا مقصد خواتین کے لیے فراہم کردہ تمام آئینی اور قانونی تحفظات کا مطالعہ اور نگرانی کرنا، موجودہ قوانین کا جائزہ لینا اور جہاں ضروری ہو وہاں ترامیم کی سفارش کرنا تھا۔
|
صنفی مساوات کے لیے ہندوستان کی وابستگی اس کے آئینی ڈھانچے میں گہرائی سے پیوست ہے، جو قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے اور صنف کی بنیاد پر ہر قسم کے امتیاز کو ختم کرنے کا عہد کرتا ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد سے اس سمت میں بتدریج مگر فیصلہ کن تبدیلی آئی ہے۔ اب خواتین کو محض حفاظتی پالیسیوں کے مستفیدین کے طور پر نہیں بلکہ ترقی کے عمل میں کلیدی شراکت داروں (اسٹیک ہولڈرز) کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
|
صنفی مساوات کی حمایت کرنے والی اہم (کلیدی) آئینی دفعات
صنفی مساوات کا اصول ہندوستانی آئین کی تمہید، بنیادی حقوق، بنیادی فرائض اور ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں میں شامل ہے۔
• آرٹیکل 15: یہ مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے اور ریاست کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ خواتین اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے مساوات کے فروغ کی غرض سے خصوصی اقدامات کرے۔
• آرٹیکل 16: یہ عوامی ملازمت میں مواقع کی مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے تحت تمام شہریوں کو مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر سرکاری عہدوں تک مساوی رسائی حاصل ہوتی ہے۔
• آرٹیکل 39: یہ ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے یکساں ذرائعِ معاش کے مواقع کو یقینی بنائے۔
• آرٹیکل 42: یہ زچگی کی سہولت اور کام کے انسانی اور مناسب حالات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔
• آرٹیکل 243: اس کے تحت پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں تمام براہِ راست منتخب نشستوں اور چیئرپرسنز کے عہدوں کا ایک تہائی (1/3) حصہ خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جس میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ نشستیں حلقوں کے درمیان گردشی بنیادوں پر مختص کی جاتی ہیں اور ریاستی قوانین کے مطابق درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے بھی ریزرویشن فراہم کیا جاتا ہے۔
|
خواتین کی قیادت اس وقت زیادہ مضبوط اور مؤثر بنتی ہے جب ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور زندگی کے ہر مرحلے پر ان کے لیے مواقع کو وسعت دی جائے۔ ہندوستان میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، صحت، تحفظ اور باعزت زندگی تک مساوی رسائی فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ کوششیں خواتین کی زیرِ قیادت ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔
- ہندوستان کی جمہوریت میں خواتین کے لیے مساوی آواز:
آزادی کے وقت ہندوستان نے عالمی بالغ رائے دہی کا اصول اختیار کیا، جس کے نتیجے میں جمہوریہ کے قیام کے ساتھ ہی خواتین اور مردوں کو یکساں ووٹنگ کے حقوق حاصل ہو گئے۔ ایسے دور میں جب دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک خواتین کے حقِ رائے دہی پر بحث کر رہے تھے، ہندوستان کے آئین نے خواتین کو جمہوری عمل میں برابر کا شریک تسلیم کیا۔
- تعلیم اور مواقع: بااختیار بنانے کا پہلا قدم
خواتین کو بااختیار بنانے کا آغاز تعلیم سے ہوتا ہے۔ سمگر شکشا ابھیان (ایس ایس اے) کے تحت مفت یونیفارم، نصابی کتب، بہتر تعلیمی ڈھانچہ اور خواتین اساتذہ کی بھرتی کے ذریعے صنفی حساس تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کستوربا گاندھی بالیکا (گرلس )ودیالیہ (کے جی بی وی) پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے رہائشی تعلیم فراہم کرتے ہیں، جبکہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) جیسے اداروں میں اضافی نشستوں کی فراہمی جیسے اقدامات خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
- ان کوششوں کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم میں خواتین کا داخلہ 2014–15 میں 15.7 ملین سے بڑھ کر 2022–23 میں تقریباً 21.8 ملین تک پہنچ گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران خواتین کا مجموعی اندراج تناسب (جی ای آر)،جو 18 سے 23 سال کی عمر کی خواتین میں اعلیٰ تعلیم کے داخلے کی شرح کو ظاہر کرتا ہے،22.9 سے بڑھ کر 30.2 ہو گیا ہے، جو خواتین کی اعلیٰ تعلیم تک بہتر رسائی اور بڑھتی ہوئی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔
- مزید برآں، مالی سال 2024–25 میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں یو جی سی نیٹ–جے آر ایف اسکالرز میں خواتین کا حصہ 53 فیصد سے زیادہ رہا، جو جدید تحقیق اور اختراع کے میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سکّنیا سمرِدّھی یوجنا: بیٹیوں کے روشن مستقبل کی بنیاد
تعلیم کی اس بنیاد کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سکّنیا سمرِدّھی یوجنا (ایس ایس وائی) خاندانوں کو اپنی بیٹیوں کے طویل مدتی مستقبل میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی ہے۔ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کے ایک حصے کے طور پر 22 جنوری 2015 کو شروع کی گئی یہ چھوٹی بچت اسکیم لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی مستقبل کی امنگوں کے لیے ایک محفوظ مالی راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت جمع شدہ رقوم پر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرح کے مطابق سود ملتا ہے، جو اس وقت 8.2 فیصد ہے۔ اس اسکیم کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے؛ دسمبر 2025 تک اس کے تحت 4.53 کروڑ سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں اور 3.33 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع ہو چکی ہے۔ لڑکیوں کے نام پر بچت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایس ایس وائی نہ صرف مالی تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ بیٹیوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
خواتین کے لیے صحت، غذائیت اور وقار
خواتین کی فلاح و بہبود خاندان اور معاشرے کی مجموعی خوش حالی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم خواتین کو درپیش بہت سے مسائل اکثر نظر نہیں آتے۔ صحت کے مسائل کے علاوہ روزمرہ کی ذمہ داریاں،جیسے پانی لانے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا، دھوئیں سے بھرے چولہوں پر کھانا پکانا یا صفائی ستھرائی کی بنیادی ضروریات کا انتظام کرنا،اکثر ان پر ایک غیر محسوس جسمانی اور ذہنی بوجھ ڈال دیتی ہیں۔ اسی لیے ان عملی اور روزمرہ مسائل کا حل فراہم کرنا حکومتی پالیسیوں کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے۔
زچگی کی صحت اور غذائیت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) کے تحت 20,060 کروڑ روپے سے زائد کی رقم 4.26 کروڑ مستفیدین کو منتقل کی جا چکی ہے، جس سے بچے کی پیدائش کے دوران مالی مدد فراہم ہوتی ہے۔ پردھان منتری سورکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) اور پوشن ابھیان جیسے اقدامات ملک بھر میں زچگی کی دیکھ بھال اور غذائیت کی خدمات کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان میں زچگی کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 2014–16 میں 130 سے کم ہو کر 2021–23 میں 88 تک پہنچ گئی ہے۔
صاف توانائی اور بنیادی گھریلو سہولیات تک رسائی نے بھی خواتین کی صحت اور وقار میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے تحت معاشی طور پر کمزور گھرانوں کی خواتین کو 10.56 کروڑ سے زیادہ ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف گھروں کے اندر فضائی آلودگی کے خطرات کو کم کیا ہے بلکہ روزمرہ کی مشقت اور کھانا پکانے سے وابستہ مشکلات میں بھی کمی لائی ہے۔
اسی طرح پانی اور صفائی کی بہتر سہولیات خواتین کی روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلی لا رہی ہیں۔ جل جیون مشن (ہر گھر جل) کے آغاز (اگست 2019) کے بعد سے دیہی علاقوں میں نلکے کے پانی کی فراہمی 16.72 فیصد سے بڑھ کر 81.57 فیصد گھرانوں تک پہنچ چکی ہے، جس سے خواتین کے پانی لانے میں لگنے والے وقت اور محنت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم) کے تحت 12 کروڑ سے زائد بیت الخلا تعمیر کیے گئے ہیں، جس سے صفائی کے معیار میں بہتری آئی ہے، خواتین کی رازداری اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اور صحتِ عامہ کے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
|
جنوری 2026 تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,153 کم عمر شادیوں کو روکا جا چکا ہے، جبکہ 60,262 چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز تعینات کیے جا چکے ہیں۔
|
•عوامی اور پیشہ ورانہ مقامات پر تحفظ اور انصاف
تحفظ کے بغیر بااختیاریت ممکن نہیں۔ مشن شکتی (ایم ایس) کے تحت ادارہ جاتی نظام،جیسے ون اسٹاپ سینٹرز (او ایس سی)، خواتین ہیلپ لائنز اور ایس ایچ ای-باکس (ایس ایچ ای-باکس)،مشکل حالات سے دوچار خواتین کو طبی، قانونی اور مشاورتی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی (روک تھام، ممانعت اور ازالہ) ایکٹ، 2013 (پی او ایس ایچ ایکٹ) سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں محفوظ اور باوقار کام کے ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ کام کی جگہوں پر اندرونی شکایتی کمیٹیوں (آئی سی) کے قیام کو لازمی قرار دینے اور ایس ایچ ای-باکس نیشنل پورٹل کے ذریعے شکایات کے مؤثر ازالے کو ممکن بنانے سے یہ قانون جوابدہی کو مضبوط بناتا ہے اور کام کے مقام پر خواتین کے وقار کے حق کو تسلیم اور محفوظ کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات ایک ایسے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں جو خواتین کو تعلیم تک رسائی حاصل کرنے، افرادی قوت میں فعال کردار ادا کرنے اور ملک بھر میں کاروباری اداروں اور مختلف تنظیموں کی قیادت کرنے کے قابل بناتا ہے۔
انصاف: مساوی آواز، مساوی طاقت
خواتین کے لیے انصاف صرف قانونی تحفظات تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کا حقیقی احساس اس وقت ہوتا ہے جب خواتین قوانین، پالیسیوں اور عوامی ترجیحات کی تشکیل میں مکمل اور مؤثر طور پر حصہ لیتی ہیں۔ فیصلہ سازی کے مراکز میں نمائندگی اس وعدے کی تکمیل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران پارلیمنٹ اور انتخابی سیاست میں خواتین کی موجودگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو سیاسی شرکت میں بتدریج مگر معنی خیز تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ جمہوریہ کے ابتدائی برسوں میں محدود نمائندگی سے آگے بڑھتے ہوئے آج خواتین کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور مختلف ریاستی مقننہ میں قابلِ ذکر موجودگی ہے۔
یہ تبدیلی نچلی سطح پر اور بھی زیادہ نمایاں اور مؤثر انداز میں نظر آتی ہے۔ پنچایتی راج اداروں میں منتخب نمائندوں میں سے تقریباً نصف (50 فیصد) خواتین ہیں، جس کے نتیجے میں آج ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ منتخب خواتین رہنماؤں والا ملک بن چکا ہے۔ ان کی قیادت نے مقامی حکومت کی ترجیحات کو ازسرِنو تشکیل دیا ہے، جہاں پینے کے پانی، صفائی، صحت کی خدمات، تعلیم اور سماجی بہبود کی فراہمی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
- 73واں آئینی ترمیمی ایکٹ، 1992 ، دیہی حکمرانی میں خواتین
اس ترمیم کے ذریعے پنچایتی راج نظام کو آئینی درجہ دیا گیا اور آئین میں حصہ IX اور گیارہواں شیڈول شامل کیا گیا، جس میں 29 موضوعات درج کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی باقاعدہ انتخابات اور تین سطحی ڈھانچے (گرام پنچایت، پنچایت سمیتی اور ضلع پریشد) کو یقینی بنایا گیا۔ اس ترمیم کے تحت خواتین کے لیے کم از کم ایک تہائی (1/3) نشستوں اور قیادتی عہدوں کا تاریخی ریزرویشن فراہم کیا گیا۔ اس اقدام نے نچلی سطح کی حکمرانی میں خواتین کی شرکت کو نمایاں طور پر بڑھایا اور دیہی ہندوستان میں جمہوری وکندریقرت کو مضبوط بنایا۔
- 74واں آئینی ترمیمی ایکٹ، 1992 ، شہری مقامی حکمرانی میں خواتین
اس ترمیم کے ذریعے آئین میں حصہ IX-A اور بارہواں شیڈول (جس میں 18 موضوعات شامل ہیں) کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت شہری بلدیاتی اداروں،جیسے ٹاؤن پنچایتیں، میونسپل کونسلیں اور میونسپل کارپوریشنیں،کو آئینی درجہ دیا گیا۔ اس قانون نے خواتین کے لیے کم از کم ایک تہائی (1/3) نشستوں کے ریزرویشن کو لازمی قرار دیا، جس کے نتیجے میں شہری مقامی حکومت اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی اور قیادت کے لیے نئی راہیں کھلیں۔
- 106واں آئینی ترمیمی ایکٹ (ناری شکتی وندن ایکٹ)، 2023
ایک اہم سنگِ میل کے طور پر 106واں آئینی ترمیمی ایکٹ، 2023 (ناری شکتی وندن ایکٹ) نافذ کیا گیا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی (33 فیصد) نشستوں کا ریزرویشن فراہم کیا گیا ہے۔ یہ آئینی ضمانت صنفی توازن پر مبنی جمہوریت کی بنیاد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
|
اس تناظر میں انصاف کا مطلب محض نمائندگی تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مطلب حقوق کا تحفظ بھی ہے اور مؤثر اثر و رسوخ بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین نہ صرف انتخابات میں ووٹ ڈال رہی ہیں بلکہ ان اداروں کی تشکیل میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں جو ہندوستان کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔

عمل: عزم کو تبدیلی میں بدلنا
|
عہد: ہر عورت اور ہر بیٹی کے لیے
تین طلاق کا خاتمہ
تین طلاق کا خاتمہ ایک تاریخی اصلاح ہے جس کا مقصد لاکھوں مسلم خواتین کے لیے وقار، مساوات اور حقیقی بااختیاریت کو یقینی بنانا ہے۔ تین طلاق ایکٹ فوری طلاق کے عمل کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیتا ہے اور مسلم خواتین کو قانونی تحفظ اور زیادہ مساوات فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام انہیں دیرینہ گھریلو ناانصافی اور امتیازی سلوک سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
|
جب پالیسی کے وعدے عملی معاشی مواقع میں تبدیل ہوتے ہیں تو خواتین کی زیرِ قیادت ترقی کو حقیقی تقویت ملتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان نے سرمایہ کاری، مالیاتی رسائی اور مہارت کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین کو معیشت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے، کاروباری ادارے قائم کرنے اور مختلف اداروں کی قیادت کرنے کے بہتر مواقع میسر آئے ہیں۔
• صنفی لحاظ سے ذمہ دار عوامی سرمایہ کاری:
ہندوستان نے مالی سال 2025–26 میں صنفی بجٹ سازی کے میدان میں ایک تاریخی پیش رفت حاصل کی ہے، جہاں مرکزی بجٹ کا 9.37 فیصد حصہ صنفی مساوات کو فروغ دینے والے پروگراموں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مختلف شعبوں میں 53 وزارتوں/محکموں اور 5 مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مجموعی طور پر 5.01 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ یہ اقدام محض علامتی شمولیت سے آگے بڑھ کر خواتین کی ترقی میں مستقل اور بامعنی سرمایہ کاری کی طرف ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
• دیہی معیشت کی تعمیر میں خواتین کا کردار
دین دیال انتیودیا یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (ڈی اے وائی–این آر ایل ایم) کے تحت لاکھوں خواتین بلا معاوضہ یا غیر منظم مزدوری سے نکل کر منظم کاروباری سرگرمیوں کی طرف منتقل ہوئی ہیں۔ آج 10.05 کروڑ دیہی گھرانے تقریباً 90.90 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) میں منظم ہو چکے ہیں، جنہوں نے 2013–14 کے بعد سے 12.18 لاکھ کروڑ روپے کے ادارہ جاتی قرض تک رسائی حاصل کی ہے۔
لکھ پتی دیدی جیسے پروگرام دیہی خواتین کو پائیدار معاش کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک 3,07,33,820 سے زائد خواتین لکھ پتی دیدی بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔
• ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے مواقع
نئے اقدامات خواتین کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی روزگار کی نئی راہیں بھی کھول رہے ہیں۔ نمو ڈرون دیدی اسکیم (این ڈی ڈی ایس) کے تحت سیلف ہیلپ گروپس کو زرعی ڈرون چلانے کی تربیت اور سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈرون کی خریداری کے لیے 80 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے اور 15,000 سیلف ہیلپ گروپس کو ہدف بناتے ہوئے 1,261 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف دیہی خواتین کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے بلکہ وہ ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کا بھی فعال حصہ بن سکیں گی۔
|
سیلف ہیلپ گروپ کے ممبر سے انٹرپرینیور تک: بداشیشا ڈکھر کا متاثر کن سفر
میگھالیہ کے مشرقی جینتیا ہلز ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں تلوہ کی رہنے والی بداشیشا ڈکھر کی کہانی کسی خواب سے کم نہیں۔ جب اس نے 2019 میں ایک سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) میں شمولیت اختیار کی تو اس کا مقصد بہت سادہ تھا،وہ صرف اپنے گاؤں کی دوسری خواتین کے ساتھ جڑنا اور ان کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہونا چاہتی تھی۔ اس وقت اسے یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ معاشرے سے جڑنے کی یہی چھوٹی سی خواہش ایک دن اس کی زندگی کی سمت اور حالات دونوں کو بدل دے گی۔
نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن (این آر ایل ایم) نے اس کی زندگی میں امید کی ایک نئی روشنی پیدا کی۔ اس پروگرام نے نہ صرف اسے مالی معاونت فراہم کی بلکہ اسے نئی تکنیکی مہارتیں سیکھنے کا موقع بھی دیا۔ اس کے سفر کا اصل آغاز 2020 میں فوڈ پروسیسنگ کی تربیت سے ہوا، جس کے دوران اس نے شیلانگ میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔
اس اعتماد کے ساتھ اس نے 2024 میں 2.5 لاکھ روپے کا بینک قرض حاصل کیا اور اپنی ذاتی بچت کے ساتھ اسے امپلانگ میں جوس پروسیسنگ کا ایک مائیکرو انٹرپرائز قائم کرنے میں سرمایہ کاری کی۔
2024 ہی میں اس کی محنت کو ایک نئی پہچان اس وقت ملی جب اس کی مصنوعات کو دہلی ہاٹ میں منعقدہ (پائن ایپل فیسٹیول)انناس فیسٹیول میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا۔ جو سفر کبھی ایک سادہ سماجی میل جول سے شروع ہوا تھا، وہ اب ایک ترقی پذیر کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آج بداشیشا تقریباً 1.8 لاکھ روپے سالانہ آمدنی حاصل کر رہی ہے۔
جو راستہ ابتدا میں محض گفتگو اور سماجی روابط سے شروع ہوا تھا، وہ بالآخر خود انحصاری کی ایک روشن مثال بن گیا۔ بداشیشا کی زندگی کا سفر اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ کس طرح اجتماعی تعاون، قرض تک آسان رسائی اور مہارتوں کی ترقی دیہی خواتین کی زندگی بدل سکتی ہے۔ آج وہ صرف ایک نام نہیں بلکہ ان لاکھوں پراعتماد خواتین کاروباریوں کی نمائندہ آواز ہیں جو اپنی محنت اور عزم کے بل بوتے پر اپنا روشن مستقبل خود رقم کر رہی ہیں۔
|
• کاروباری سرگرمیوں کے لیے مالیاتی بااختیاریت:
مالی شمولیت کے فروغ نے خواتین کو نہ صرف اپنا کاروبار قائم کرنے بلکہ بچت کی مضبوط عادتیں اپنانے میں بھی مدد دی ہے۔ 2015 سے اب تک پردھان منتری مدرا یوجنا (مدرا) کے تحت 32.61 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 52 کروڑ سے زیادہ قرضے منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 68 فیصد مستفیدین خواتین ہیں۔
اسی طرح پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت کھولے گئے بینک کھاتوں میں تقریباً 56 فیصد کھاتے خواتین کے نام پر ہیں، جبکہ اسٹینڈ اپ انڈیا پروگرام کے ذریعے 2.01 لاکھ سے زیادہ خواتین کاروباریوں کو گرین فیلڈ انٹرپرائزز (نئے کاروبار) قائم کرنے میں مدد فراہم کی گئی ہے۔
مالی امداد کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر وومانیہ جیسے اقدامات خواتین کاروباریوں اور سیلف ہیلپ گروپس کو براہِ راست سرکاری خریداری کے نظام سے جوڑ رہے ہیں۔ اس وقت دو لاکھ سے زیادہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے مائیکرو اور چھوٹے کاروباری ادارے جی ای ایم پر رجسٹرڈ ہیں، جنہیں اب تک 80 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے سرکاری خریداری کے آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔ اس عمل نے نہ صرف ان کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھولے ہیں بلکہ ان کے کاروبار کو مزید مضبوطی بھی بخشی ہے۔
• ہنر مندی اور اختراعی ماحولیاتی نظام:
مہارتوں کی وسیع تربیت اور فروغ پاتے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے باعث خواتین اب تیزی سے جدید اور نئے دور کے شعبوں میں قدم رکھ رہی ہیں۔ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت تربیت حاصل کرنے والوں میں تقریباً 45 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ اسٹارٹ اپ انڈیا کے تحت 75 ہزار سے زیادہ خواتین کی قیادت میں قائم اسٹارٹ اپس کو فروغ دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نویا 2025 (این اے وی وائی اے 2025)جیسے پروگرام آرزومند مند اضلاع میں نوعمر لڑکیوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کر کے انہیں بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

• بڑھتی ہوئی شرکت اور قیادت:
خواتین عوامی زندگی کے ہر شعبے میں اپنی موجودگی کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہیں۔ ہندوستان نے آزادی کے وقت ہی عالمی بالغ حقِ رائے دہی کو اپنایا تھا، اور آج خواتین ووٹرز جمہوری عمل میں ایک مضبوط اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ اس وقت 47 کروڑ سے زیادہ رجسٹرڈ خواتین ووٹرز فعال طور پر جمہوری عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔
خواتین کی یہ بڑھتی ہوئی شرکت ان شعبوں میں بھی نمایاں ہے جو کبھی ان کے لیے ناقابلِ رسائی سمجھے جاتے تھے۔ اس کی ایک نمایاں مثال 2025 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) سے خواتین کیڈٹس کے پہلے بیچ کی گریجویشن ہے۔ یہ تاریخی کامیابی قومی اداروں میں خواتین کی وسیع اور بااختیار شمولیت کی ایک اہم علامت ہے۔
مجموعی طور پر یہ تمام اقدامات ہندوستان کے ترقیاتی وژن میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں،جہاں اب توجہ صرف خواتین کی شرکت بڑھانے تک محدود نہیں رہی بلکہ انہیں قیادت کے کردار تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔ آج دیہی صنعتوں اور اسٹارٹ اپس سے لے کر ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور گورننس کے اداروں تک، خواتین کی زیرِ قیادت ترقی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
یہ تبدیلی نہ صرف جامع اور ہمہ گیر ترقی کی راہ ہموار کر رہی ہے بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کو ایک نئی، مضبوط اور پائیدار سمت بھی فراہم کر رہی ہے۔
خواتین کی قیادت
خواتین کی قیادت میں ترقی کی سب سے خوبصورت جھلک ان خواتین کی زندگیوں میں نظر آتی ہے جو مواقع کو ترقی میں بدلنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ حکومتی اسکیموں کی بدولت، جو کریڈٹ، ہنر، ٹیکنالوجی اور بازاروں تک ان کی رسائی کو بڑھاتی ہیں، بے شمار خواتین آج اپنے کاروبار قائم کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی روزی روٹی کو مضبوط بنا رہی ہیں بلکہ اپنی پوری کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بھی رکھ رہی ہیں۔
|
رینا کا عزمؔ: صحت بھی، طاقت بھی
54 سال کی عمر میں رینا اپنے کام کو محض ایک کاروبار نہیں سمجھتیں، بلکہ وہ اسے ایک "مشن" قرار دیتی ہیں،ایسا مشن جو معاشرے کی سوچ اور ذہنیت کو بدلنے کے لیے وقف ہے۔
اس سفر کا آغاز چند چھوٹے مگر معنی خیز اقدامات سے ہوا، جو آج نیچرل ہیلتھ سروسز کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک خواتین کی قیادت میں قائم ہیلتھ کوآپریٹو ہے، جس کا بنیادی مقصد معیشت کے غیر منظم شعبے میں کام کرنے والی خواتین کی خدمت اور مدد کرنا ہے۔ 1990 میں رجسٹر ہونے والا یہ کوآپریٹو آج 1,500 اراکین پر مشتمل ہے۔ یہ نہ صرف میڈیکل اسٹورز اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتا ہے بلکہ اس کا سالانہ کاروبار 60.25 ملین روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
اس خیال کی بنیاد نہایت سادہ مگر بے حد طاقتور تھی،اگر غیر منظم شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو سستا اور معیاری علاج میسر آ جائے تو وہ زیادہ صحت مند، زیادہ بااختیار اور کام کرنے کے قابل ہوں گی، اور یوں غربت کے چکر سے باہر نکل سکیں گی۔ تاہم اس پورے نظام کو قائم کرنا آسان نہیں تھا۔ اس کے لیے غیر متزلزل عزم، باہمی تعاون اور سب سے بڑھ کر مالی وسائل درکار تھے۔
وقت کے ساتھ اس کوآپریٹو سوسائٹی نے اپنی مضبوط ساکھ کی بنیاد پر نہ صرف بینکوں سے قرض حاصل کیے بلکہ ایک غیر بینکنگ مالیاتی کمپنی (این بی ایف سی) اور خواتین کی فیڈریشن کی مدد سے ورکنگ کیپیٹل بھی حاصل کیا۔ قرضوں کی بروقت ادائیگی اور پائیدار کاروباری ماڈل کے شاندار ریکارڈ کی بدولت یہ گروپ آج مالی طور پر مستحکم اور مزید سرمایہ حاصل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ سوسائٹی اب آیورویدک مصنوعات کے لیے اپنا مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کی غرض سے 5 سے 6 ملین روپے جمع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آج یہ منصوبہ 300 فعال اراکین کی روزی روٹی کا سہارا بن چکا ہے اور خواتین کے لیے قیادت اور خود مختاری کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ رینا اور ان کی ساتھیوں کے لیے مالی وسائل محض سرمایہ نہیں بلکہ اعتماد اور خود اعتمادی کی علامت تھے۔ جو سفر ایک چھوٹی سی اجتماعی کوشش کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ آج اجتماعی طاقت اور خواتین کی بااختیار قیادت کی روشن مثال بن چکا ہے۔
|
|
پریا: بامقصد اختراع کی ایک نئی مثال
35 سال کی عمر میں پریا صرف ایک کاروبار قائم نہیں کر رہی ہیں بلکہ وہ بڑھتی ہوئی گرمی سے دوچار دنیا کے لیے ٹھوس اور پائیدار حل تلاش کر رہی ہیں۔ پائیدار ترقی کے لیے اپنی مضبوط وابستگی کے تحت انہوں نے قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والی ڈرون ٹیکنالوجی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کمیونٹیز تک ضروری صحت کی سہولیات اور ادویات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جہاں رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کے طور پر شروع ہونے والا یہ منصوبہ آج ایک کامیاب کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس نے کم از کم قابلِ عمل پروڈکٹ (ایم وی پی) کی شکل اختیار کر لی ہے، جو گزشتہ دو برسوں سے کامیابی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ آج اس کا شہری بنیادوں پر قائم منصوبہ 12 ملین روپے کی سالانہ آمدنی پیدا کر رہا ہے اور 10 افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔
ابتدا میں پریا نے روایتی بینک قرضوں پر انحصار کیا، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ اثر انگیز سرمایہ کاروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی گرانٹس اور ایکویٹی سرمایہ کاری ان کے موسمیاتی ٹیکنالوجی کے وژن کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اپنی متاثر کن ترقی کے ریکارڈ اور قابلِ توسیع کاروباری ماڈل کے باعث وہ اب توسیع کے ایک نئے مرحلے کے لیے تیار ہیں۔ اب وہ ایسے مالی شراکت داروں کی تلاش میں ہیں جو نہ صرف ان کے بلند اہداف کو سمجھیں بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں عملی تعاون بھی فراہم کریں۔
|
نتیجہ
ہندوستان میں خواتین کی زیرِ قیادت ترقی کی کہانی ملک بھر کی خواتین کی روزمرہ کی چھوٹی اور بڑی کامیابیوں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ یہ تبدیلی آج واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے،چاہے وہ کوآپریٹیوز کو مؤثر انداز میں چلانا ہو، نئے اداروں کی بنیاد رکھنا ہو، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو یا مقامی طرزِ حکمرانی میں فعال کردار ادا کرنا ہو۔ مجموعی طور پر یہ سفر ہندوستان کے ترقیاتی منظرنامے میں ایک گہری اور بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔
آج خواتین کے حقوق نے نہ صرف ان کے وقار کو مضبوط کیا ہے بلکہ انہیں تحفظ کی ایک مضبوط ڈھال بھی فراہم کی ہے۔ انصاف تک بہتر رسائی نے ان کی آواز کو تقویت دی ہے اور پالیسی سازی کے عمل میں ان کی نمائندگی کو وسعت دی ہے۔ اس سمت میں مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس سے معاشی اور سماجی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی فعال اور مؤثر شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
آج لاکھوں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کی فعال رکن ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد منتخب بلدیاتی اداروں میں عوامی نمائندوں کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رسمی مالیاتی نظاموں اور کاروباری مواقع تک خواتین کی رسائی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ بنیادی تبدیلیاں بتدریج خواتین کے لیے صرف شرکت ہی نہیں بلکہ قیادت کے نئے دروازے بھی کھول رہی ہیں۔
جیسے جیسے ہندوستان اپنے ترقی کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، خواتین نہ صرف خاندانوں اور برادریوں کی تعمیر میں بلکہ ملک کے مستقبل کی تشکیل میں بھی ایک کلیدی اور مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
حوالہ جات
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2150216®=3&lang=2
https://www.pmuy.gov.in/index.aspx
فیکٹ شیٹ اور تفصیلات:
https://www.ncw.gov.in/publications/women-centric-schemes-by-different-ministries-of-government-of-india-goi/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2212747®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224413®=3&lang=1
https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://www.mospi.gov.in/sites/default/files/reports_and_publication/statistical_publication/Women_Men/mw24/CompetePublication_WM2024.pdf&ved=2ahUKEwiEm6eZ4PiSAxWNzzgGHd8GFFsQFnoECBwQAQ&usg=AOvVaw1lAW-MvaorEWlxPV8CllFk
https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://dge.gov.in/dge/sites/default/files/2023-05/Female_Labour_Utilization_in_India_April_2023_final__1_-pages-1-2-merged__1_.pdf&ved=2ahUKEwiEm6eZ4PiSAxWNzzgGHd8GFFsQFnoECBsQAQ&usg=AOvVaw0MQe7HiDC_bkmGSzao8qKl
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2160547®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220140®=3&lang=2
https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://dge.gov.in/dge/sites/default/files/2026-01/1365_e.pdf&ved=2ahUKEwimgpTBrICTAxVjXWwGHWliJ-EQFnoECBgQAQ&usg=AOvVaw1g5i6K5OCe10zgRTHDd5lp
https://www.facebook.com/unwomenindia/posts/india-has-recorded-its-highest-ever-gender-budget-allocation-in-fy26-with-937-of/1339258624889378/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2178389®=3&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-3484
(ریلیز آئی ڈی: 2236373)
وزیٹر کاؤنٹر : 28