PIB Headquarters
بھارت کی تجارتی شراکت داریاں عالمی یکجہتی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے رہی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 FEB 2026 12:27PM by PIB Delhi
|
اہم نکات
- یو این سی ٹی اے ڈی ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ2025 کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان عالمی جنوبی معیشتوں میں تجارتی شراکت داری کی تنوع کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔
- ‘‘مدر آف آل ڈیلز’’ بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے جنوری 2026 میں مکمل ہوا۔
- مالی سال 2025-26 میں ، ہندوستان نے برطانیہ (یوکے) عمان اور نیوزی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے مکمل کیے ۔
- ہندوستان نے اسرائیل ایف ٹی اے کا پہلا دور مکمل کیا اور فروری 2026 میں جی سی سی کے ساتھ باضابطہ طور پر تجارتی مذاکرات کا آغاز کیا ۔
- بھارت آسیان ، میکسیکو اور کناڈا کے ساتھ اپنے تجارتی مذاکرات کے ایجنڈے کو بڑھا رہا ہے۔
|
تعارف
بھارت کا عالمی تجارت میں کردار اور حصہ وکست بھارتکے ہدف اور سفر کے مطابق ایک بڑی چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران بھارت نے عالمی منڈیوں کے ساتھ اپنے انضمام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔یہ پیش رفت مضبوط برآمدی کارکردگی، خدمات کی تجارت میں استحکام، اور تجارتی شراکت داریوں کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ یہ عوامل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت کی معیشت عالمی مانگ میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی بڑھتی ہوئی مسابقتی صلاحیت اور لچک رکھتی ہے۔

ملک نے نہ صرف عالمی تجارت میں اپنے حصے میں اضافہ کیا ہے بلکہ اپنی تجارتی شراکت داریوں کو بھی متنوع بنایا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ2025 کی رپورٹ کے مطابق تجارتی شراکت داریوں کے تنوع کے اشاریے کے لحاظ سے بھارت جنوبی دنیا کی معیشتوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ایسے اشاریاتی نمبر کے ساتھ جو شمالی دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہے، بھارت کا تجارتی نظام محصولات سے متعلق غیریقینی صورتِ حال اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے باوجود مضبوطی اور لچک کی علامت ہے۔
آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ذریعے ہند کی تجارتی حکمت عملی کو تقویت ملتی ہے اور قابل اعتماد مارکیٹ تک رسائی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ معاہدے ملک کی عالمی تجارتی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں، جس سے برآمدات پر مرکوز کمپنیوں کو پیداوار میں توسیع کرنے اور عالمی قیمت کی زنجیروں میں مزید گہرائی سے شامل ہونے کا موقع ملتا ہے۔
سال 2026 میں بھارت کی تجارتی شراکت داریوں کا نیا مرحلہ
دو طرفہ اور کثیر طرفہ آزاد تجارتی معاہدے بھارت کی تجارتی حکمتِ عملی کا ایک بنیادی ستون ہیں۔ ان کا مقصد منڈیوں تک بہتر رسائی، خدمات کی تجارت میں اضافہ، غیر محصولی رکاوٹوں میں کمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی و فنی تعاون کے استحکام کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینا ہے۔ تجارتی ہم آہنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ معاہدے برآمدات کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں، صنعت اور کسانوں کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں اور مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
بھارت-یورپی اتحاد آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)
“مدر آف آل ڈیلز’’ قرار دیا جانے والا بھارت اور یورپی اتحاد کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا اختتام جنوری 2026 میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کی سب سے اہم معاشی شراکت داریوں میں سے ایک کی نمایاں پیش رفت کی علامت ہے۔ ضابطوں پر مبنی ایک جدید تجارتی نظام کے طور پر ترتیب دیا گیا یہ معاہدہ موجودہ عالمی معاشی چیلنجوں سے نمٹنے اور دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان منڈیوں کے گہرے انضمام کو ممکن بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔
مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ:یہ معاہدہ یورپی اتحاد کی محصولی درجہ بندی کی 97 فیصد اقسام میں ترجیحی رسائی فراہم کرتا ہے، جو تجارت کی مجموعی قدر کے 99.5 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ حساس شعبوں کے لیے پالیسی میں لچک برقرار رکھی گئی ہے اور بھارت کی ترقیاتی ترجیحات کو بھی سہارا دیا گیا ہے۔
فوری محصولاتی خاتمہ: محصولی درجہ بندی کی 70.4 فیصد اقسام، جو بھارت کی برآمدات کے 90.7 فیصد حصے کی نمائندگی کرتی ہیں، ان پر محصولات فوراً ختم کر دیے جائیں گے۔ اس سے محنت پر مبنی شعبوں جیسے کپڑا سازی، چمڑا اور جوتا سازی، چائے، کافی، مصالحہ جات، کھیلوں کا سامان، کھلونے، قیمتی پتھر اور زیورات، اور بعض سمندری مصنوعات کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔
مرحلہ وار محصولاتی خاتمہ اور ترجیحی رسائی:تین سے پانچ برس کے دوران 20.3 فیصد محصولی اقسام پر محصولات صفر کر دیے جائیں گے، جو برآمدات کے 2.9 فیصد حصے پر مشتمل ہیں۔ جبکہ 6.1 فیصد محصولی اقسام، جو برآمدات کے 6 فیصد حصے کی نمائندگی کرتی ہیں، ان کے لیے محصولات میں کمی یا محدود مقدار کے کوٹے کے ذریعے ترجیحی رسائی فراہم کی جائے گی۔ ان میں تیار شدہ غذائیں، محفوظ کی گئی سبزیاں، بیکری کی اشیا، گاڑیاں، فولاد، اور جھینگا و جھینگے کی بعض اقسام شامل ہیں۔
محنت کش صنعتوں کو فروغ:محنت پر مبنی صنعتیں جیسے کپڑا سازی اور ملبوسات، سمندری مصنوعات، چمڑا اور جوتا سازی، کیمیائی مصنوعات، پلاسٹک اور ربڑ، کھیلوں کا سامان، کھلونے، قیمتی پتھر اور زیورات جن کی برآمدات کی مالیت 2.87 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔اس معاہدے کے نتیجے میں عالمی مسابقت میں مضبوط ہوں گی، یورپی ویلیو چین میں زیادہ گہرائی سے شامل ہوں گی اور محصولات صفر ہونے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
خدمات میں مارکیٹ تک رسائی:یورپی یونین نے 144 ذیلی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں طے کی ہیں، جن میں معلوماتی ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، تعلیمی خدمات اور کاروباری خدمات شامل ہیں۔ اس سے بھارتی خدمات فراہم کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے ایک مستحکم ماحول میسر آئے گا اور دونوں معیشتوں میں اختراع، پیداواریت اور کاروباری ترقی کو فروغ ملے گا۔
دیگر کلیدی شراکت داریوں کے ساتھ تجارتی تعاون کو آگے بڑھانا
مالی سال 2025-26 میں بھارت نے برطانیہ، عمان اور نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے مکمل کر کے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھایا۔ یہ معاہدے دنیا کی اہم منڈیوں میں بھارت کی معاشی شراکت داریوں کے نمایاں پھیلاؤ کی علامت ہیں۔ ان نئے معاہدوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت نے کئی بڑے تجارتی معاہدوں کو عملی شکل بھی دی ہے، جو بدستور برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تقویت دے رہے ہیں۔
بھارت-عمان جامع معاشی شراکت داری کا معاہدہ
بھارت نے دسمبر 2025 میں عمان کے ساتھ جامع معاشی شراکت داری کا معاہدہ طے کیا، جو خلیجی خطے کے ساتھ معاشی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے بھارت کے محنت پر مبنی شعبوں جیسے زراعت، کپڑا سازی، چمڑا سازی، قیمتی پتھر اور زیورات، انجینئرنگ مصنوعات، ادویہ سازی اور گاڑی سازی کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور دستکاروں، خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی تقویت ملے گی۔
اشیا کے لیے مارکیٹ تک رسائی:اس معاہدے کے تحت بھارتی مصنوعات کو عمان کی منڈی میں غیر معمولی رسائی حاصل ہوگی۔ عمان کی محصولی درجہ بندی کی 98.08 فیصد اقسام پر محصولات صفر کر دیے جائیں گے، جو مجموعی طور پر مالیت کے لحاظ سے بھارت کی 99.38 فیصد برآمدات کا احاطہ کرتی ہیں۔

|
روایتی ادویات اور آیوش کے لیے عالمی اعتراف اور منڈی تک رسائی
یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ پہلی بار کسی ملک نے روایتی طب کے شعبے میں خدمات کی فراہمی کے تمام طریقوں کے تحت باضابطہ عہد و پیمان کیے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں بھارت کے فلاح و بہبود اور آیوش کے شعبوں کے لیے نمایاں مواقع پیدا ہوں گے۔ مزید برآں، روایتی طب کی سرپرستی کے لیے ایک منظم اداراتی ڈھانچے کی تشکیل بھی کی گئی ہے، جو اس شعبے کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کی ترویج میں مددگار ثابت ہوگی۔
|
خدمات اور نقل و حرکت کے وعدے:عمان نے پہلی بار اہم طریقہ کار 4 کیٹیگریزمیں عہد و پیمان پیش کیے ہیں، جس سے کمپنیوں کے اندر منتقلی کرنے والے ملازمین، معاہداتی خدمات فراہم کنندگان، کاروباری زائرین اور آزاد پیشہ ور افراد کے لیے عارضی آمد و قیام کے اعلیٰ معیار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)
2025 میں طے پانے والا بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ بھارت کے تیزی سے مکمل ہونے والے تجارتی معاہدوں میں نمایاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے نیوزی لینڈ میں منڈی تک رسائی اور محصولی مراعات میں اضافہ کرتا ہے اور اس شراکت داری کو وسیع اوشینیا اور بحرالکاہل کی منڈیوں تک پہنچنے کا دروازہ بھی بناتا ہے۔
معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ نے 100 فیصد محصولی اقسام پر محصولات ختم کر دیے ہیں، جس سے تمام بھارتی برآمدات کو معاہدے کے نفاذ کی تاریخ سے فوری صفر محصولات کی رسائی حاصل ہوگی۔
· معاہدے کے ذریعے کسانوں کی مدد، پیداواریت میں بہتری اور انہیں عالمی ویلیو چین میں شامل کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
· یہ معاہدہ محنت پر مبنی شعبوں جیسے کپڑا سازی، ملبوسات، چمڑا اور جوتا سازی، قیمتی پتھر اور زیورات، انجینئرنگ مصنوعات اور تیار شدہ غذاؤں کے لیے صفر محصولات کی رسائی فراہم کر کے ایم ایس ایم ای کو تقویت دیتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔
سرمایہ کاری اور ورک فورس کے مواقع:معاہدے کے تحت اگلے 15 سالوں میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد شامل ہے، جو طویل مدتی معاشی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط کرے گا۔
· یہ معاہدہ بھارت کو ماہر ورک فورس فراہم کرنے والے اہم ملک کے طور پر ابھارنے کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے، ساتھ ہی آیوش، خدمات جیسے یوگا انسٹرکٹرز، بھارتی شیف اور موسیقی کے اساتذہ، اور ترجیحی شعبے جیسے آئی ٹی، انجینئرنگ، صحت، تعلیم اور تعمیرات میں مستقبل کے تعاون کے امکانات فراہم کرتا ہے۔ اس تعاون سے پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
بھارت-برطانیہ جامع معاشی اور تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے)
بھارت اور برطانیہ نے 2025 میں جامع معاشی اور تجارتی معاہدے پر دستخط کیے، جو دونوں کے طویل المدتی معاشی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت پہلے ہی 56 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور دونوں جانب سے اس رقم کو 2030 تک دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس معاہدے سے بھارت کی زرعی مصنوعات اور تیار شدہ غذاؤں کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو اگلے تین سالوں میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
سی ای ٹی اے بھارتی برآمدات کے لیے برطانیہ میں بے مثال صفر محصولات کی رسائی فراہم کرتا ہے، جو تقریباً 99 فیصد برآمدات اور تجارت کی تقریباً 100 فیصد مالیت کو شامل کرتا ہے۔ اس سے اہم شعبے جیسے کپڑا سازی، چمڑا، سمندری مصنوعات، قیمتی پتھر اور زیورات، انجینئرنگ مصنوعات، کیمیائی مصنوعات، اور گاڑی کے پرزے خاص فائدہ اٹھائیں گے۔
|
برطانیہ میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے نقل و حرکت میں آسانی
برطانیہ کی جانب سے پہلی بار کیے جانے والے اس منفرد انتظام کے تحت معاہدہ آئی ٹی، صحت، مالیات اور تعلیم جیسے شعبوں میں پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے۔ اس کے ذریعے معاہداتی خدمات فراہم کرنے والے، کاروباری زائرین، کمپنیوں کے اندر منتقلی کرنے والے ملازمین اور آزاد پیشہ ور افراد کے لیے داخلہ اور قیام کے عمل کو ہموار کیا گیا ہے۔
|
سماجی تحفظ کے فوائد:معاہدے کے تحت ایک اور اہم کامیابی دوہری شراکت کنونشن ہے، جو برطانیہ میں کام کرنے والے بھارتی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے دوہری سماجی تحفظ کی شراکت کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔ اس سے تخمینی طور پر 4,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوگی۔
توقع ہے کہ اس معاہدے کی جامع دفعات سے مارکیٹ تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا ، برآمدات اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور آنے والے سالوں میں ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو تقویت ملے گی ۔

ہندوستان-یورپی آزاد تجارتی ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹی ای پی اے)
یہ معاہدہ 2024 میں طے پایا اور اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہوا، جو بھارت کا پہلا آزاد تجارتی معاہدہ ہے جس میں براہِ راست سرمایہ کاری کے بہاؤ اور روزگار کے مواقع سے متعلق عہد و پیمان شامل کیے گئے ہیں۔
ای ایف ٹی اے ممالک نے تجارتی اشیا کی منڈی تک رسائی فراہم کی ہے جو 92.2 فیصد محصولی اقسام پر محیط ہے، جو بھارت کی برآمدات کے 99.6 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس میں غیر زرعی مصنوعات کی 100 فیصد کوریج اور تیار شدہ زرعی مصنوعات (پی ای پی ) پر محصولی مراعات بھی شامل ہیں۔
معاہدہ خدمات کے شعبے میں تعاون کو بھی مضبوط بنائے گا، جس سے بھارتی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ شعبے آئی ٹی، کاروباری خدمات، تعلیم، ثقافتی اور تفریحی خدمات، اور آڈیو ویزوئل خدمات شامل ہیں۔
معاہدے کی ایک نمایاں خصوصیت سرمایہ کاری سے متعلق عہد ہے، جس کے تحت معاہدے کے نافذ ہونے کے دس سال کے اندر بھارت میں 50 ارب امریکی ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) لانے کا ہدف ہے، اور اگلے پانچ سالوں میں مزید 50 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ، جس سے کل 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پندرہ سال میں متوقع ہے۔
· ان سرمایہ کاریوں سے ہند میں تقریباً 10 لاکھ براہِ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ وعدہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (ایف پی آئی) کو شامل نہیں کرتا، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ سرمایہ کاری کے بہاؤ طویل مدتی پیداواری سرمایہ کاری کی جانب جائیں جو ملکی صلاحیت کی تعمیر کو فروغ دیں۔
منڈی تک بڑھتی ہوئی رسائی، خدمات میں مضبوط تعاون، اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے عہد کے ذریعے ٹی ای پی اے سے توقع کی جاتی ہے کہ بھارت کے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو ای ایف ٹی اے کی معیشتوں کے ساتھ نمایاں طور پر گہرا کرے گا اور برآمد کنندگان، کاروباری اداروں اور مزدوروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
بھارت-متحدہ عرب امارات جامع معاشی شراکت داری کا معاہدہ (بھارت-متحدہ عرب امارات سی ای پی اے)
2022 میں دستخط ہونے والا بھارت-متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) ہند کا مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (ایم ای این اے) خطے میں پہلا ایسا معاہدہ تھا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز کیا۔ یہ معاہدہ دو طرفہ تجارت کو پانچ سال کے دوران 100 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ دونوں معیشتوں میں نمایاں روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرتا ہے۔
معاہدے کے اثرات پہلے ہی تجارتی نتائج میں دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ مالی سال 2024-25 میں دوطرفہ تجارت نے 100 ارب امریکی ڈالر کی حد عبور کر لی ہے، جس سے مضبوط ترقی کا رجحان ظاہر ہوتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی بھارت کے اہم تجارتی شراکت داروں میں موجودگی کو مزید مستحکم کیا گیا ہے۔
· بھارت کی غیر تیل برآمدات مالی سال 2023-24 میں 27.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے سی ای پی اے کے نفاذ کے بعد سے اوسطاً 25.6 فیصد سالانہ نمو ریکارڈ کی گئی۔
· صنعتی سطح پر، برقی مشینری اور آلات، ہلکی اور درمیانی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات جیسے بوائلرز، جنریٹرز اور رییکٹرز، اور نامیاتی و غیر نامیاتی کیمیکلز اہم کامیاب شعبے رہے ہیں
· اسمارٹ فونز بھی ایک اہم برآمدی شے کے طور پر ابھری ہیں، جن کی مالیت 2.57 ارب امریکی ڈالر رہی، جو مالی سال 2023-24 میں متحدہ عرب امارات کے لیے بھیجی گئی۔
سی ای پی اے نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری اور سفارتی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ اس سے چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای) کو تقویت ملی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے اور نئے کاروباری مواقع کھلے۔ دونوں ممالک عزم رکھتے ہیں کہ اپنی معاشی شراکت داری کو مزید مضبوط کریں اور معاہدے کو استعمال کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کی مزید صلاحیتیں کھولیں۔
بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ (بھارت-آسٹریلیا ای سی ٹی اے)
یہ معاہدہ اپریل 2022 میں طے پایا اور یہ بھارت کا ایک دہائی کے بعد ترقی یافتہ معیشت کے ساتھ پہلا تجارتی معاہدہ ہے، جو جدید منڈیوں کے ساتھ شراکت داری کو بڑھانے کی نئی رفتار کا عندیہ دیتا ہے۔ ایک اہم سنگِ میل نامیاتی مصنوعات پر باہمی شناخت کے انتظام پر دستخط تھے، جس سے تجارتی عمل ہموار ہوا اور برآمد کنندگان کے لیے تعمیل کے اخراجات کم ہوئے۔
مارکیٹ تک رسائی اور محصولاتی لبرلائزیشن:یہ معاہدہ تقریباً تمام وہ محصولی اقسام شامل کرتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں آتی ہیں، اور بھارت کو آسٹریلیا کی 100 فیصد محصولی اقسام پر ترجیحی رسائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت نے آسٹریلیا کو اپنی 70 فیصد سے زائد محصولی اقسام پر ترجیحی رسائی فراہم کی، جس سے خاص طور پر کچے مال اور درمیانی مصنوعات جیسے کوئلہ اور معدنیات کی درآمدات کو فائدہ ہوا۔
خدمات کی مارکیٹ تک رسائی:خدمات کی تجارت میں، آسٹریلیا نے تقریباً 135 ذیلی شعبوں میں عہد و پیمان کیے اور 120 ذیلی شعبوں میں سب سے زیادہ مراعات یافتہ ملک (ایم ایف این) کا درجہ دیا۔ یہ شعبے جیسے آئی ٹی، آئی ٹی سے متعلق خدمات، کاروباری خدمات، صحت، تعلیم، اور آڈیو ویزوئل خدمات بھارت کے لیے خاص اہمیت کے حامل ہیں،۔
جنوری 2026 سے، بھارتی برآمدات کو آسٹریلیا کی تمام محصولی اقسام پر صفر محصولات کی رسائی حاصل ہوگی، جو خاص طور پر محنت پر مبنی شعبوں کے لیے نئے مواقع کھولے گی۔
تجارت اور برآمدی کارکردگی میں بہتری: پچھلے تین سالوں کے دوران، یہ معاہدہ مسلسل برآمدات میں اضافہ، بہتر مارکیٹ تک رسائی، اور مضبوط سپلائی چین کی مضبوطی فراہم کرتا رہا ہے، جس سے بھارتی برآمد کنندگان، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای)، کسانوں اور مزدوروں کو فائدہ پہنچا ہے۔۔
· مالی سال 2024-25 میں بھارت کی آسٹریلیا کو برآمدات 8 فیصد بڑھیں، جس سے دوطرفہ تجارتی توازن میں بہتری آئی۔ تمام شعبوں میں مضبوط اضافہ دیکھا گیا، جن میں صنعتی مصنوعات، کیمیائی مصنوعات، کپڑا سازی، پلاسٹک، ادویات، پیٹرولیم مصنوعات، اور قیمتی پتھر و زیورات شامل ہیں۔
· زرعی برآمدات میں بھی وسیع پیمانے پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جس میں پھل و سبزیاں، سمندری مصنوعات، مصالحہ جات، اور خاص طور پر کافی کی برآمدات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔۔
· قیمتی پتھر اور زیورات کی برآمدات اپنی بڑھتی ہوئی رفتار جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اپریل-نومبر 2025 کے دوران یہ 16 فیصد بڑھی۔
جیسے جیسے مذاکرات ایک جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ای سی ٹی اے بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعلقات کو ہند۔بحرالکاہل خطے میں مستحکم رکھنے کا ایک مضبوط ستون بنتا جا رہا ہے، جس سے بااعتماد تجارت اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ مل رہا ہے۔
بھارت-ماریشس جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کا معاہدہ
بھارت اور ماریشس نے 2021 میں جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کا معاہدہ طے کیا، جو بھارت کا افریقہ کے کسی ملک کے ساتھ پہلا تجارتی معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ دوطرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے اداراتی نظام قائم کرتا ہے۔
معاہدے کے تحت 300 سے زائد بھارتی برآمدی مصنوعات کو ترجیحی منڈی تک رسائی حاصل ہے، جن میں خوراک اور مشروبات، زرعی مصنوعات، کپڑا اور ٹیکسٹائل مصنوعات، بنیادی دھاتیں اور مصنوعات، برقی اور الیکٹرانک اشیاء، پلاسٹک اور کیمیکلز، اور لکڑی کی مصنوعات شامل ہیں۔یہ معاہدہ خدمات کے شعبے میں بھی اہم مواقع فراہم کرتا ہے، جس کے تحت بھارتی خدمات فراہم کرنے والوں کو تقریباً 115 ذیلی شعبوں میں رسائی دی گئی ہے، جو 11 وسیع خدماتی شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں پیشہ ورانہ خدمات، کمپیوٹر سے متعلق خدمات، تحقیق و ترقی، ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، تعلیم، مالی خدمات، سیاحت و سفر، یوگا، آڈیو ویزوئل خدمات، اور نقل و حمل شامل ہیں۔ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
|
ملکی اقدامات جو برآمدات کی مسابقت کو مضبوط کرتے ہیں
برآمداتی مسابقت میں اضافہ زیادہ تر اس بات پر منحصر ہے کہ برآمدات پر مرکوز کاروباروں کی نشوونما کے لیے درکار انفراسٹرکچر، ضابطہ جاتی وضاحت، اور انتظامی معاونت کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔
برآمد کنندگان کے لیے ڈیجیٹل اور پالیسی معاونت:برآمد کنندگان کو آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کے فوائد سے مستفید ہونے کے لیے، ٹیرِف ایکسپلورر سروس، جو ٹریڈ کنیکٹ ای پلیٹ فارم پر دستیاب ہے، برآمدات کے لیے دستیاب محصولی چھوٹ کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) ایک جامع، لچکدار اور ڈیجیٹل بنیادوں پر مبنی فریم ورک قائم کرتا ہے، جو برآمدی اقدامات کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
مالیاتی اور کریڈٹ سپورٹ اقدامات:حکومت نے کریڈٹ گارنٹی اسکیم برائے برآمد کنندگان بھی نافذ کی ہے، جو غیر یقینی حالات میں بھارتی برآمد کنندگان کو اضافی مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس سے نقد روانی برقرار رہتی ہے، کاروباری تسلسل یقینی ہوتا ہے، اور نئے منڈیوں میں داخل ہونے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
برآمد کنندگان کی حمایت میں ریزرو بینک آف انڈیا کے اقدامات: ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) کی مؤثریت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ریزرور بینک آف انڈیا کی جانب سے اضافی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
· ان اقدامات میں اہل قرض دہندگان کے لیے قسطوں کی ادائیگی پر موخر کرنا ، شپمنٹ سے پہلے اور بعد کے کریڈٹ کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ کی مدت میں 450 دن تک کی توسیع 31 مارچ 2026 تک ، اور مارجن کو کم کرکے یا ورکنگ کیپٹل کی حدود کا دوبارہ جائزہ لے کر لیکویڈیٹی کو برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹڈ اداروں کے لیے لچک شامل ہے ۔
فارن ایکسچینج مینجمنٹ (سامان اور خدمات کی برآمد) (دوسری ترمیم) ضابطے ، 2025 کے تحت ، برآمداتی آمدنی کی وصولی اور واپسی کی مدت نو ماہ سے بڑھا کر 15 ماہ کر دی گئی ہے ، اور پیشگی ادائیگیوں کے خلاف شپمنٹ کی مدت ایک سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی ہے ۔
مرکزی بجٹ 2026-27 کے تحت تعاون: مرکزی بجٹ 2026-27 میں متعدد اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد ہندوستان کی تجارتی مسابقت کو مزید بڑھانا ہے ۔
· کورئیر برآمدات کے لیے فی کنسائنمنٹ 10 لاکھ روپےکی موجودہ حد ختم کر دی گئی ہے، جس سے برآمدات کے عمل کو ہموار بنایا جا سکے گا۔
· مخصوص خام مال کی ڈیوٹی فری درآمدات کو چمڑے یا مصنوعی جوتوں اور برآمد کے لیے سمندری غذا کی مصنوعات کی پروسیسنگ میں استعمال ہونے والے خام مال تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
· حتمی مصنوعات کی برآمد کی وقت کی حد چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کر دی گئی ہے، جو چمڑا یا ٹیکسٹائل ملبوسات اور چمڑا و مصنوعی جوتوں کے برآمد کنندگان کے لیے زیادہ عملی لچک فراہم کرتی ہے۔
· مزید یہ کہ ایلیکٹرانک سیلنگ استعمال کرنے والی برآمدی مال برداری کو اب فیکٹری سے براہِ راست جہاز تک جانے(کلیئرنس) کی اجازت ہوگی، جس سے لاجسٹکس کے وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی۔
یہ تمام ضابطہ جاتی اور مالیاتی اقدامات مل کر برآمد کنندگان کو ایک مربوط معاونتی فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جس سے لیکویڈیٹی برقرار رہتی ہے، کریڈٹ کی پابندی کی حفاظت ہوتی ہے، اور ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) کے ہدف یعنی برآمداتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
|

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مذاکراتی سرگرمیاں
ان مکمل شدہ معاہدوں کے علاوہ، کئی بڑی معیشتیں اس وقت بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) اور جامع اقتصادی شراکت داریوں کے ذریعے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے فعال مذاکرات میں مصروف ہیں۔
· فروری 2026 میں، بھارت نے امریکہ کے ساتھ ایک عارضی معاہدے کے لیے فریم ورک سمجھوتہ حاصل کیا، جس کا مقصد باہمی اور باہمی فائدے والی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ یہ فریم ورک دونوں ممالک کی وسیع تر ہند-امریکہ دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) مذاکرات کے لیے عزم کو بھی دہراتا ہے، جس میں اضافی مارکیٹ تک رسائی کے وعدے شامل ہوں گے اور زیادہ مضبوط سپلائی چین کی حمایت کی جائے گی۔
- ہند اور اسرائیل نے نومبر 2025 میں آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے لیے شرائط حوالہ پر دستخط کیے۔ بعد ازاں، فروری 2026 میں ایف ٹی اے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوا، جس سے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے متعین شعبوں پر تبادلہ خیال کے لیے ایک منظم فریم ورک قائم ہوا۔ متوقع معاہدے سے فِن ٹیک، ایگریکلچر ٹیک، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، مشین لرننگ، دوا سازی، خلائی تحقیق، اور دفاع جیسے شعبوں میں تعاون گہرا ہونے کی توقع ہے۔
· ہند-آسیان برآمدات معاہدے (اے آئی ٹی آئی جی اے) کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں، جس میں رکن ممالک کی مکمل اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرنے اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔
· بھارت اور میکسیکو کے اجلاس دو طرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز رہے، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری میں توسیع، اقتصادی تعاون کو فروغ دینا، کاروباری شراکت داری کو فروغ دینا، اور مختلف شعبوں میں مواقع کا جائزہ لینا شامل ہے۔
· بھارت کینیڈا کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی حمایت متفقہ شرائط حوالہ سے حاصل ہے۔ مجوزہ معاہدے کا مقصد محصول میں کمی اور خدمات اور سرمایہ کاری کے لیے واضح فریم ورک کے ذریعے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو تقریباً 50 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانا ہے۔
· بھارت-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے لیے شرائط حوالہ (ٹی او آر) فروری 2026 میں دستخط کی گئیں، جس کے بعد ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے گئے جس نے باضابطہ طور پر جامع اور باہمی فائدے والا معاہدہ شروع کرنے والے مذاکرات کا آغاز کیا۔ یہ ایف ٹی اے اشیاء اور خدمات کے بہاؤ کو ہموار کرنے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے، اور خطے میں خوراک اور توانائی کی حفاظت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔۔
مکمل شدہ معاہدوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک اور جاری مذاکرات بھارت کی بین الاقوامی اقتصادی مصروفیت میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ شراکت داریاں مل کر بھارت کو اس مقام پر قائم کرتی ہیں جہاں وہ باہمی ترقی، مضبوطی، اور اسٹریٹجک اعتماد پر مبنی موجودہ تجارتی ڈھانچوں کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کر سکے۔
نتیجہ
بھارت کی تجارتی شراکت داریاں 2026 میں عالمی اقتصادی انضمام کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی کرتی ہی، جو جدید اور نتیجہ خیز تجارتی معاہدوں کے وسیع جال سے معاونت حاصل کرتی ہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ تاریخی معاہدے اور دیگر مضبوط شدہ شراکت داریاں مارکیٹ تک رسائی کو بڑھا رہی ہیں، برآمدات کو فروغ دے رہی ہیں، سرمایہ کاری کو راغب کر رہی ہیں، اور مختلف شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ملکی سطح پر نافذ کی گئی پالیسی، مالی اور ضابطہ جاتی( ریگولیٹری) اقدامات برآمد کنندگان کی مسابقت کو مضبوط کرتے ہوئے بھارت کے تجارتی ماحولیاتی نظام کو زیادہ مضبوط اور عالمی سطح پر مربوط بنا رہے ہیں۔
یہ تمام اقدامات مل کربھارت کو عالمی تجارت میں ایک قابلِ اعتماد اور متحرک شراکت دار کے طور پر مستحکم کرتے ہیں، جو آنے والے سالوں میں پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔
حوالہ جات:
وزارت خزانہ:
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/bh1.pdf
وزارت تجارت و صنعت:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224783®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219146®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157252&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219065®=3&lang=2
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/dec/doc20251218737701.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2207583®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2173138®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1799435®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2195127®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2104450®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1812730®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1708794®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223875®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2232327®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2233199®=3&lang=1
پارلیمنٹ کے جوابات:
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AS45_3nBiTI.pdf?source=pqals
دیگر:
https://x.com/PiyushGoyal/status/2005526081479356424
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
*************
ش ح ۔ ش آ۔ ص ج
U. No.3374
(ریلیز آئی ڈی: 2235500)
وزیٹر کاؤنٹر : 23