سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت-ڈیلاویئر بائیو مینوفیکچرنگ ورکنگ گروپ کی تجویز پیش کی


ہندوستان نے ڈیلاویئر ٹیک شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے اسٹارٹ اپ ، آر اینڈ ڈی روابط کی پیشکش کی

وزیرموصوف نے بھارت–امریکہ بایوٹیک مذاکرات میں سپلائی چین اور ضابطہ جاتی تعاون کے امور کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 MAR 2026 4:01PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کے روز کہا کہ بھارت اور امریکہ کو جدید بائیو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک منظم بھارت–ڈیلاویئر شراکت داری کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک چھوٹا ورکنگ گروپ قائم کیا جائے تاکہ جاری مباحثوں کو تحقیق، مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام میں ٹھوس تعاون میں تبدیل کیا جا سکے۔

یہ تجویز اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے آج یہاں سیوا تیرتھ میں ڈیلاویئر کے گورنر میٹ مائر کی قیادت میں آنے والے امریکی وفد سے ملاقات کی۔دونوں فریقین نے دواسازی، بائیوٹیکنالوجی، صاف توانائی اور جدت پر مبنی صنعتی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور بائیوٹیکنالوجی بھارت–امریکہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایسے امریکی ریاستوں کے ساتھ، جہاں مضبوط جدت پر مبنی ماحولیاتی نظام موجود ہے، مزید گہرے تعاون کے لیے’’ گہرے تعلقات کے لیےاچھی صلاحیت ‘‘ دیکھتا ہے۔انہوں نے بائیوٹیکنالوجی اور دواسازی کی جدت کے شعبے میں بھارت کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کو بھی اجاگر کیا، جہاں تحقیق و ترقی سے لے کر بڑے پیمانے پر، کم لاگت اور مؤثر مینوفیکچرنگ تک جامع صلاحیتیں موجود ہیں۔

حکومت ، تعلیمی اداروں ، صنعت اور اسٹارٹ اپس کو جوڑنے والے بھارت کے مربوط اختراعی ڈھانچے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) 37 لیبارٹریوں اور 7,500 سے زیادہ سائنسدانوں کے ساتھ ملک کی صنعتی تحقیق و ترقی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔  انہوں نے گرین ہائیڈروجن اور کوانٹم ٹیکنالوجیز سے لے کر بائیو سائنسز اور بائیو فارما تک کے قومی مشنوں میں سی ایس آئی آر کے کردار اور اہم دواؤں کی ترقی کے عمل میں اس کے تعاون کا ذکر کیا ۔

ڈیلاویئر کے بایو سائنس ماحولیاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اِنّوویشن اِن مینوفیکچرنگ بایوفارماسیوٹیکلز (این آئی آئی ایم بی ایل) بھی شامل ہے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جدید بائیو مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت سے مربوط عمل، تیز رفتار اسکیل اپ ٹیکنالوجیز اور اگلی نسل کے بائیولوجکس اور ویکسینز کے شعبوں میں تعاون کے لیے’’ مضبوط امکانات‘‘ موجود ہیں۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ کم لاگت اور مؤثر مینوفیکچرنگ میں بھارت کی مہارت، ڈیلاویئر کی بڑی امریکی دواساز کمپنیوں سے قربت کے ساتھ مل کر عالمی صحت کی ضروریات کے لیے سستی بائیولوجکس، بائیوسِملرز اور ویکسینز کی مشترکہ تیاری (کو-ڈیولپمنٹ) کو فروغ دے سکتی ہے۔

وزیر موصوف نے تعاون کے لیے مخصوص مواقع کا بھی خاکہ پیش کیا ، جن میں مشترکہ جدید بائیو مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم ، ہندوستانی اداروں اور ڈیلاویئر ریسرچ سینٹرز کو جوڑنے والے ٹرانسلیشنل ریسرچ برج ، اسٹارٹ اپ اور انکیوبیشن لنکیجز  اور جی ایم پی مینوفیکچرنگ ، ریگولیٹری سائنس اور کوالٹی سسٹم میں افرادی قوت کی مشترکہ تربیت شامل ہیں۔  اہم بائیوفارماسیوٹیکل ان پٹ کے لیے ریگولیٹری سائنس، معیارات کی صف بندی اور لچکدار سپلائی چین پر تعاون کو ایک اور ترجیحی شعبے کے طور پر شناخت کیا گیا  ہے۔

بات چیت کے دوران  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تبصرہ کیا کہ ہندوستان کی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تقریباً 150 انکیوبیٹرز کی براہ راست حمایت کرتی ہے اور حکومت نے نجی شعبے اور گہری ٹیک سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے1 لاکھ کروڑ روپے کا تحقیق ، ترقی اور اختراعی فنڈ قائم کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز کو ڈیلاویئر کی تحقیق ، مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کے ساتھ وابستگی کو گہرا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

گورنر میٹ مائر نے ڈیلاویئر کو ایک دیرینہ سائنس اور صنعتی ورثے والی ریاست کے طور پر بیان کیا اور اس کی بائیو فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ بیس ، بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور کاروبار کے موافق ماحول پر روشنی ڈالی۔  وفد کے ارکان ، جن میں حکومت، یونیورسٹیوں اور صنعت کے نمائندے شامل تھے، نے صاف ہائیڈروجن ، افرادی قوت کی ترقی، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور کارپوریٹ ان کارپوریشن فریم ورک میں مواقع پر تبادلہ خیال کیا ۔

میٹنگ کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک منظم ورکنگ گروپ میکانزم قائم کرنے سے جاری گفتگو کو عملی پروگراموں میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی، جن میں مشترکہ تحقیقی اعلانات، اسٹارٹ اپ تبادلے اور ادارہ جاتی شراکت داریاں شامل ہوں گی۔یہ پیش رفت وسیع تر بھارت–امریکہ اسٹریٹجک شراکت داری میں ریاستی سطح کی ایک نئی جہت کا اضافہ کرتی ہے، جہاں بائیوٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ آئندہ مرحلے کے تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

 

****

ش ح۔ش ت۔  ش ت  

U NO:-3274


(ریلیز آئی ڈی: 2234561) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil , Telugu