قانون اور انصاف کی وزارت
حکومت ہند کی جانب سے مقدمات کے مؤثر اور نتیجہ خیز انتظام پر کانفرنس
کانفرنس کا موضوع ہے: “وکست بھارت @2047 کے لیے ادارہ جاتی مقدمات سے متعلق نظم و نسق کو مضبوط بنانا”
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 FEB 2026 8:54PM by PIB Delhi
“ سرکاری مقدمات کے مؤثر اور نتیجہ خیز انتظام” کے موضوع پر مرکزی سیکریٹریوں اور معزز قانون افسران کی قومی کانفرنس 28 فروری 2026 کو نئی دہلی واقع بھارت منڈپم میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں مختلف وزارتوں کے سیکریٹریوں، سینئر سرکاری عہدیداروں، معزز قانون افسران اور محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی اور مقدمات سے متعلق طریقۂ کار کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری پر غور و خوض کیا۔
تقریب میں جن معزز شخصیات نے شرکت کی اُن میں جناب ارجن رام میگھوال، وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزارت قانون و انصاف؛ ڈاکٹر ٹی وی سومناتھن، کابینہ سیکریٹری؛ جناب آر وینکٹ رمنی، اٹارنی جنرل برائے ہند؛ جناب تشار مہتا، سالیسٹر جنرل برائے ہند؛ ڈاکٹر نیرج ورما، سیکریٹری محکمۂ انصاف اور ڈاکٹر راجیو مانی، سیکریٹری محکمۂ قانونی امور شامل تھے۔
کانفرنس میں چار بڑے موضوعات (۱) خدمات، پنشن اور ملازمت سے متعلق امور (۲) بنیادی ڈھانچہ، معاوضہ اور معاہداتی تنازعات؛ (۳) مالیاتی، ٹیکس اور محصولات سے متعلق مقدمات؛ اور (۴) ضابطہ کاری، نفاذ اور تعمیل سے جڑے مقدمات کے تحت مقدمات کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس امر کی نشاندہی کی کہ غیر یکساں نفاذ کے باعث خدمات سے متعلق مقدمات کی تکرار، جوابی حلف نامے داخل کرنے سے قبل مناسب مشاورت کا فقدان، مختلف وزارتوں کی متضاد قانونی پوزیشن، محکموں اور نامزد وکلا کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اور ہر فیصلے کے خلاف بطور معمول اپیل دائر کرنے کا رجحان اہم چیلنجز ہیں۔
بنیادی ڈھانچے اور معاوضے سے متعلق امور میں زمین کے معاوضے کے بڑھتے ہوئے مقدمات، سود کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں، ثالثی فیصلوں کو معمول کے طور پر چیلنج کرنا، تکنیکی نوعیت کے معاہدات میں ناکافی قانونی جانچ، تکنیکی اور قانونی شعبوں کے درمیان کمزور تال میل اور متبادل تنازعہ حل اور قبل از مقدمہ مصالحت کے کم استعمال جیسے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
غور و خوض کا مرکزی نکتہ غیر ضروری مقدمات اور مقدمات کے اندراج میں تاخیر کو کم کرنا تھا، جس کے لیے مؤثر چھان بین، بہتر ہم آہنگی اور ابتدائی مرحلے میں تنازعہ کے حل پر زور دیا گیا۔ کانفرنس نے سفارش کی کہ خدمات اور دیگر معاملات میں اپیل دائر کرنے کے لیے واضح معیار مقرر کیے جائیں، ہر محکمہ میں مقدمات کی مربوط نگرانی کے لیے ایک نامزد افسر مقرر کیا جائےاور عدالتی فیصلوں پر مقررہ وقت میں عمل درآمد کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے تاکہ تکراری اور توہین عدالت کے مقدمات کم ہوں۔ اہم اور پالیسی سے متعلق حساس مقدمات میں محکمۂ قانونی امور اور معزز قانون افسران کے ساتھ منظم اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ تمام وزارتوں میں یکساں قانونی مؤقف اختیار کیا جا سکے۔
بنیادی ڈھانچے، معاوضے اور معاہداتی مقدمات کے سلسلے میں کانفرنس نے اس بات کی تائید کی کہ قبل از مقدمہ متبادل تنازعہ حل کے منظم اور ادارہ جاتی نظام کو فروغ دیا جائے، خصوصاً زمین اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تنازعات میں اور معاوضے کے معاملات میں منظم تصفیے کو اختیار کیا جائے تاکہ طویل عدالتی کارروائیوں سے بچا جا سکے۔ نیز ثالثی فیصلوں کو چیلنج کرنے سے قبل مالی ذمہ داری کی حدود کا جائزہ لینے اور کمیٹیوں کے ذریعے مشاورت کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ صرف اُنہی معاملات میں چیلنج دائر کیا جائے جن کے قانونی یا مالی اثرات نمایاں ہوں۔ معاہدوں کی منسوخی، نااہل قرار دینے اور دیگر اعلیٰ قدر کے معاہداتی فیصلوں کی ابتدائی اور لازمی قانونی جانچ کے ساتھ ساتھ فوری اور منصفانہ تنازعہ حل کے لیے مضبوط اندرونی نظام کو بھی نئے مقدمات میں کمی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔ مالیاتی، ٹیکس، محصولات اور ضابطہ کاری و نفاذ سے متعلق مقدمات پر غور و خوض میں اس امر پر زور دیا گیا کہ نفاذ کی حکمت عملی اور تعمیل کے نظام کو مؤثر اور منظم بنایا جائے تاکہ تنازعات ابتدائی مراحل ہی میں حل ہوں اور غیر ضروری معاملات کو اعلیٰ فورمز تک نہ لے جایا جائے۔
مجموعی طور پر کانفرنس نے ذمہ دارانہ اور منضبط مقدمہ بازی کے لیے حکومت ہند کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں غیر ضروری مقدمات میں کمی، بروقت اندراج اور عمل درآمد کو یقینی بنانا اور متبادل تنازعہ حل کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے، تاکہ کاروبار میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے اور شہریوں کا سرکاری عمل پر اعتماد مستحکم ہو اور وکست بھارت@ 2047 کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
***
ش ح۔م م۔ش ب ن
U-3243
(ریلیز آئی ڈی: 2234380)
وزیٹر کاؤنٹر : 6