سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سائنسی رہنماؤں نے تحقیقی نتائج کو عملی میدان میں مؤثر انداز میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 FEB 2026 4:29PM by PIB Delhi

سائنس اور پالیسی کا باہمی انضمام وکست بھارت کے وژن کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ بات حکومت ہند کے خصوصی سائنسی مشیر (پی ایس اے) پروفیسر اجے کے سود نے نئی دہلی کے وگیان بھون کے پلینری ہال میں منعقدہ سائنس کے قومی دن کے جشن 2026 کے موقع پر نیشنل سائنس ڈے لیکچرز کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

“خواتین در سائنس: وکست بھارت کی رفتار کو مہمیز دینے والی قوت” کے مرکزی موضوع کے تحت منعقدہ اس تقریب میں تین نیشنل سائنس ڈے لیکچرز پیش کیے گئے، جس کے بعد “وکست بھارت کے لیے سائنس پالیسی انٹرفیس” پر ایک پینل مباحثہ بھی ہوا۔ اس پروگرام میں پالیسی سازوں، سائنس دانوں، محققین اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی اور قومی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق بھارت کے سائنسی نظام کو مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر اجے کے سود نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی سائنسی پیش رفت کو پالیسی سمت اور قومی مشنز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خلاء، دفاع، اہم دھاتیں، جدید مواد اور ڈیجیٹل مواصلات جیسے شعبوں میں مربوط ادارہ جاتی نظام اور مسلسل تحقیقی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سائنس اور پالیسی کے درمیان مؤثر ربط سائنسی صلاحیتوں کو قومی طاقت میں تبدیل کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

پی ایس اے نے ابھرتے اور اسٹریٹجک شعبوں میں جامع اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق، اختراع اور پالیسی فریم ورک کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل کی ترقی مقامی تکنیکی صلاحیتوں کی تعمیر، بین الشعبہ جاتی تعاون کے فروغ اور تحقیق کے نتائج کو سماجی فائدے کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لانے پر منحصر ہوگی۔ پروفیسر سود نے سائنسی معلومات کو بھارتی زبانوں میں عام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ عوامی شمولیت اور ہمہ گیر رسائی کو تقویت ملے۔

نیشنل سائنس ڈے لیکچرز میں “میڈ اِن انڈیا” ایرو اسپیس اور دفاعی ٹیکنالوجیوں، اہم دھاتوں اور مواد کے لیے روڈ میپ اور حل: ایک مربوط حکمت عملی، اور براہِ راست موبائل براڈکاسٹنگ جیسے موضوعات پر تفصیلی پیشکشیں کی گئیں۔ مباحثوں میں اہم شعبوں میں تکنیکی خود کفالت اور طویل مدتی تزویراتی منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سیکریٹری پروفیسر ابھیے کرندیکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی سائنس پالیسی کا ڈھانچہ جدید ترین تحقیق کے ساتھ ساتھ اطلاقی اختراع کی بھی معاونت کرے۔ انہوں نے بین الشعبہ جاتی تحقیق کے فروغ، ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور ابھرتی ٹیکنالوجیوں میں صلاحیت سازی کے لیے ڈی ایس ٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس پر مبنی ترقی اسی وقت مؤثر ہوگی جب تحقیق کے نتائج تجربہ گاہوں سے عملی میدان تک تیزی اور مؤثر انداز میں منتقل ہوں۔

پروفیسر کرندیکر نے مزید کہا کہ خصوصاً سائنس کے میدان میں خواتین محققین کو بااختیار بنانا اور شمولیتی تحقیقی نظام کی تشکیل قومی ترقی کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی آلات کو اختراعی عمل کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ ساتھ سائنسی ترقی کے ثمرات تک مساوی رسائی بھی یقینی بنانی چاہیے۔

انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (آئی این ایس اے) کے صدر پروفیسر شیکھر سی منڈے نے پینل مباحثے کے دوران سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان مسلسل مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو سائنسی مہارت اور مضبوط تحقیق سے رہنمائی حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جامعات اور حکومت کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا وکست بھارت کے ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

 

 

جناب ششی ایس ویمپتی، سابق سی ای او، پرسار بھارتی، نے “ڈائریکٹ ٹو موبائل براڈکاسٹنگ: بھارت کی اگلی ڈیجیٹل جست” کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے دوردرشن کے سفر کو اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے مختلف مراحل کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح آئی آئی ٹی کانپور اور ایک اسٹارٹ اپ شراکت دار کے تعاون سے ڈائریکٹ ٹو موبائل براڈکاسٹنگ کی سمت پیش رفت کی گئی۔

ڈاکٹر کے بالا سبرامنیم، ڈائریکٹر، نان فیرس ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ سینٹر (این ایف ٹی ڈی سی)، نے “اہم دھاتوں کے لیے روڈ میپ اور حل: ایک مربوط حکمت عملی” کے عنوان سے لیکچر دیا۔ انہوں نے عمل انگیزی انجینئرنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور تیز رفتار صنعتی پیمانے پر صلاحیت سازی میں بھارت کی مضبوطیوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خام مال تک رسائی حاصل ہونے کی صورت میں عملی پیداواری صلاحیت قلیل مدت میں قائم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خلائی، دفاعی اور جوہری شعبوں سے متعلق اسٹریٹجک نان فیرس دھاتوں میں روایتی تجربہ گاہ سے کارخانے تک تدریجی پیش رفت کے بجائے مشن موڈ اور نظام پر مبنی جامع طریقہ کار اپنایا جائے۔

ڈاکٹر شبھا وی آیئنگر، سابق ممتاز سائنس دان، سی ایس آئی آر–نیشنل ایرو اسپیس لیبارٹریز (سی ایس آئی آر–این اے ایل)، نے “ خلاء اور دفاع کیلیے بھارت کی ٹیکنالوجیاں” کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے “درشٹی” کو نمایاں کیا، جو بھارت کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ رن وے ویزیبلٹی میجرنگ سسٹم ہے۔ انہیں “درشٹی” کی تیاری پر 2026 میں پدم شری سے نوازا گیا۔

تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ سائنس اور پالیسی کے درمیان ہم آہنگی کو مزید گہرا کیا جائے گا، ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا اور سائنس سے متعلق عوامی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ بھارت اپنے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کی جانب مؤثر پیش رفت جاری رکھ سکے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :   3203  )


(ریلیز آئی ڈی: 2234028) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil