زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق قیاس آرائیوں کی تردید، کسانوں کے مفادات اولین ترجیح: مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان


گیہوں، چاول، مکئی اور ڈیری کے معاملے میں ’دروازہ بند‘ ۔کسی بھی قیمت پر درآمدات نہیں ہوں گی: مرکزی وزیر زراعت

ہندوستان نہیں جھکے گا، کسانوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا ،وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی ہدایات پر حکومت قائم و دائم ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 FEB 2026 8:46PM by PIB Delhi

زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج جے پور، راجستھان سے ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں کے مفادات پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زور دے کر کہا کہ بطور وزیرِ زراعت وہ کسانوں سے پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ہندوستانی کسانوں کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ گیہوں، چاول اور مکئی جیسی حساس فصلوں کے معاملے میں دروازہ مکمل طور پر بند ہے۔ ہندوستان چاول کی پیداوار میں چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ ایسے حالات میں کسانوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی درآمد کو قبول نہیں کیا گیا۔

ہندوستانی کسانوں کے مفادات مکمل طور پر محفوظ

سیب کے معاملے پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وضاحت کی کہ ہندوستان کو ہر سال تقریباً 5.5 لاکھ میٹرک ٹن سیب کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس وقت ترکی اور ایران جیسے ممالک سے بھی درآمد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدار میں سے صرف 1 لاکھ میٹرک ٹن سیب امریکہ سے حاصل کیے جائیں، اور فی کلو درآمدی قیمت 80 روپے پر 25 روپے ڈیوٹی شامل کر کے ایک کوٹہ مقرر کیا جائے، تو اس سے ہندوستان کے سیب پیدا کرنے والوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ محض ترکی سے کسی اور ملک کی جانب درآمدات کی معمولی منتقلی ہوگی۔

سویابین اور مکئی کے بارے میں انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان پر کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں 20 ارب ڈالر مالیت کی زرعی درآمدات کی گئی تھیں، جن میں ڈیری مصنوعات بھی شامل تھیں۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زور دے کر کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے واضح ہدایات دی ہیں کہ کسی بھی قیمت پر دودھ، گھی، دہی، پنیر یا دیگر کسی بھی ڈیری مصنوعات کو ہندوستانی سرزمین پر درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاکہ ملک کے دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

کپاس کے معاملے میں مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ملکی پیداوار صنعتوں کی ضروریات سے کم ہے، جس کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو جاری رکھنے، روزگار بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے کچھ مقدار میں کپاس درآمد کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف مصنوعات کو ملا کر ہندوستان کی ٹیکسٹائل برآمدات اس وقت تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے ہیں، جن میں 45 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے۔ بالآخر اس کا فائدہ کسانوں اور دیہی معیشت کو ہوگا۔

انہوں نے پُرزور انداز میں اعلان کیا کہ راجستھان میں پیدا ہونے والی مصالحہ جاتی فصلوں جیسے زیرہ، میتھی اور اسبغول سمیت دیگر ہندوستانی مصالحہ جات کی درآمد کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے۔ اس کے برعکس، ان مصالحہ جات کی امریکہ جیسے بازاروں میں صفر ڈیوٹی کے ساتھ برآمدات بڑھانے کے انتظامات کیے گئے ہیں، جس سے براہِ راست ہندوستانی کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔

مرکزی وزیرِ زراعت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے قوم سے دو وعدے کیے تھے — “میں ہندوستان کو کبھی جھکنے نہیں دوں گا” اور “میں کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دوں گا اور انہیں کسی بھی نقصان سے بچاؤں گا” — اور حکومت ان دونوں وعدوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔ آپریشن سندور، فضائی حملوں اور سرجیکل اسٹرائیکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا، اسی طرح زراعت اور کسانوں کے مفادات پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ہر عالمی معاہدے کو “فارمر فرسٹ اپروچ” کے تحت دیکھا جائے گا۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان کی یہ تفصیلی وضاحت ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق جاری مباحث اور خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، خاص طور پر اس کے ہندوستان کے زرعی شعبے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے۔ وزیر موصوف کے بیانات کا مقصد کسانوں اور متعلقہ فریقوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ حکومتی مذاکرات میں ملکی پیداوار کرنے والوں کو غیر ملکی مسابقت کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ کوٹہ، ڈیوٹی اور حساس اشیاء پر مکمل پابندی جیسی واضح شرائط کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ اہم غذائی اجناس اور ڈیری کے شعبے میں ہندوستان کی خود کفالت برقرار رہے۔

مثال کے طور پر، گیہوں، چاول اور مکئی — جو ہندوستان کی غذائی سلامتی کی بنیاد ہیں — کو امریکی درآمدات سے مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ امر نہایت اہم ہے کیونکہ ہندوستان چاول کی پیداوار میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے، جو برسوں کی مؤثر زرعی پالیسیوں اور کسان دوست پروگراموں کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ڈیری شعبہ، جو دیہی ہندوستان میں لاکھوں چھوٹے پیمانے کے پیدا کنندگان کا سہارا ہے، کو مکمل پابندیوں کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ہے، جو روزمرہ زندگی میں دودھ اور پنیر جیسی مصنوعات کی ثقافتی اور معاشی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

سیب کی درآمد کی اجازت، جو ایک محدود کوٹے اور حفاظتی ڈیوٹی کے ساتھ مشروط ہے، ایک متوازن حکمتِ عملی کی مثال پیش کرتی ہے۔ اس فصل کے لیے موزوں معتدل آب و ہوا والے باغبانی کے محدود رقبے کے باعث ہندوستان میں سیب کی سالانہ طلب بڑی حد تک درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ ترکی جیسے روایتی سپلائر ممالک سے کچھ مقدار کو امریکہ کی جانب منتقل کرنا ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر جیسے علاقوں کے مقامی کاشتکاروں کے لیے خطرہ نہیں بنتا، جو زیادہ تر اعلیٰ معیار کی اقسام پر توجہ دیتے ہیں۔ بلکہ ذرائع کو متنوع بنانے سے قیمتوں میں استحکام بھی آ سکتا ہے اور جغرافیائی و سیاسی طور پر غیر مستحکم سپلائرز پر حد سے زیادہ انحصار کم ہو سکتا ہے۔

سویابین اور مکئی، جو تیل دار بیج اور مویشی خوراک کی صنعتوں کے لیے نہایت اہم ہیں، کسی بھی رعایت سے مکمل طور پر محفوظ رکھے گئے ہیں، جس سے کمزوری کے بیانیے کی تردید ہوتی ہے۔ وزیرموصوف کی جانب سے سابقہ حکومتوں کا حوالہ تقابلی نقطۂ نظر کو واضح کرتا ہے کہ ماضی میں زیادہ درآمدات نے مبینہ طور پر مقامی پیداوار کو متاثر کیا، جبکہ موجودہ فریم ورک حفاظتی اقدامات پر زور دیتا ہے۔ کپاس کے معاملے میں پالیسی صنعتی حقیقت پسندی کو اجاگر کرتی ہے۔

ہندوستان کا ٹیکسٹائل شعبہ زرمبادلہ کمانے اور روزگار فراہم کرنے والا ایک بڑا ذریعہ ہے، جو بالخصوص دیہی علاقوں میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ اضافی درآمدات اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ملیں اپنی مکمل استعداد کے ساتھ چلتی رہیں، جس سے مقامی کپاس کی طلب برقرار رہتی ہے اور برآمدات کے بلند اہداف کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ یہ باہمی ربط کسانوں کو زیادہ خریداری قیمتوں اور وسیع منڈیوں کی صورت میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

مصالحہ جات کی برآمدات کو بھی نمایاں فائدہ ہونے کی توقع ہے۔ راجستھان کی خشک سالی والی خصوصیات کی حامل فصلیں جیسے زیرہ، میتھی اور اسبغول عالمی سطح پر اعلیٰ قیمت حاصل کرتی ہیں۔ امریکہ کی منڈی تک صفر ڈیوٹی رسائی براہِ راست کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی، بغیر اس کے کہ متقابل درآمدی خطرات پیدا ہوں۔ ہندوستان کا مصالحہ جات کا شعبہ پہلے ہی سالانہ 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی برآمدات کرتا ہے، اور ایسے معاہدے اس قوت کو مزید بڑھاتے ہیں۔

وزیرِ اعظم مودی کی ہدایات پوری پالیسی کا بنیادی فریم ورک متعین کرتی ہیں: قومی خودمختاری اور کسانوں کی فلاح و بہبود پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ فوجی کارروائیوں سے دی جانے والی مثالیں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور تجارت کو تزویراتی خودمختاری کے تسلسل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ “فارمر فرسٹ” نقطۂ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر معاہدے کو ملکی مفادات پر اس کے اثرات کے حوالے سے کڑی جانچ پڑتال سے گزارا جائے۔

**************

ش ح ۔ ش ت۔ م الف

U. No.3143


(ریلیز آئی ڈی: 2233503) وزیٹر کاؤنٹر : 15