بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
مرکزی حکومت نے پارادیپ بندر گاہ میں 797 کروڑ روپے کی گرین ہائیڈروجن جیٹی کی منظوری دی
مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو سراہا
پارادیپ بندرگاہ 4 ایم ٹی پی اے وقف شدہ جیٹی پروجیکٹ کے ساتھ لنگر انداز نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کا آغاز کرے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 FEB 2026 8:03PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 25 فروری 2026: بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے پارادیپ بندر گاہ میں گرین ہائیڈروجن، امونیا اور دیگر رقیق کارگو کے لیے مخصوص جیٹی اور متعلقہ سہولیات کی ترقی کو منظوری دی ہے، جس کی تخمینہ لاگت 797.17 کروڑ روپے ہے۔ یہ پروجیکٹ پارادیپ بندر گاہ اتھارٹی کے ذریعے بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (بی او ٹی) بنیاد پر نافذ کیا جائے گا۔
تجویز کردہ سہولت کی سالانہ ہینڈلنگ صلاحیت 4.0 ملین ٹن ہوگی اور یہ پارادیپ بندر گاہ کے گرین انرجی کارگو کے مرکز کے رول کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں مخصوص جیٹی، اسٹوریج سسٹمز، پائپ لائنز، ہینڈلنگ آلات اور دیگر متعلقہ سہولیات شامل ہوں گی۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیرجناب سربانند سونووال نے کہا کہ اس منظوری سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مستقبل کی تیاری کے حامل ماحول کے لئے ساز گار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
مرکزی وزیرجناب سربانند سونووال نے کہاکہ ‘‘یہ منظوری وزیر اعظم نریندر مودی جی کی متاثر کن اور فیصلہ کن قیادت کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس نے بھارت کو صاف توانائی کے عالمی رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کی رہنمائی میں، ہمارے پورٹس گرین ترقی، جدت اور پائیدار لاجسٹکس کے گیٹ ویز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔’’
جیٹی میں انتہائی سرے والے ڈولفنس کے درمیان 279 میٹر کا مرکز سے مرکز کا فاصلہ ہوگا اور برتھ کے سامنے 14.3 میٹر کی گہرائی ہوگی تاکہ رقیق کارگو جہازوں کو محفوظ طریقے سے ہینڈل کیا جاسکے۔
تعمیراتی مرحلے کے دوران پارا دیپ بندرگاہ اتھارٹی منصوبے کی لاگت کے 20 فیصد کے برابر، یعنی 159.43 کروڑ روپے، سرمایہ جاتی معاونت فراہم کرے گی۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ ک24 ماہ کے اندر مکمل ہوجائے گا۔
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ مخصوص گرین ہائیڈروجن جیٹی برآمدی لاجسٹکس کو مضبوط کرنے اور اڈیشہ کے ابھرتے ہوئے گرین ہائیڈروجن پروڈکشن کلسٹرز کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے مزید کہاکہ ‘‘وزیر اعظم نریندرمودی جی کے خود انحصار اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار بھارت کے وژن کی رہنمائی میں، ہم قومی گرین ہائیڈروجن مشن کی معاونت کرنے والے عالمی معیار کے بندرگاہی بنیادی ڈھانچےتعمیر کر رہے ہیں۔ پارا دیپ پروجیکٹ نہ صرف کارگو کی صلاحیت کو بڑھائے گا بلکہ سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، روزگار پیدا کرے گا اور مشرقی بھارت میں مضبوط گرین انرجی ماحولیاتی نظام قائم کرے گا۔’’
یہ سہولت دیگر رقیق کارگو کی ہینڈلنگ کے لیے بھی انتظامات فراہم کرے گی تاکہ گرین ہائیڈروجن سیکٹر کے ابتدائی ترقیاتی مرحلے میں بہترین استعمال ممکن ہو اور پارادیپ بندرگاہ کی کارگو پروفائل میں تنوع لایا جا سکے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ مذکورہ پروجیکٹ قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے مقاصد کے مطابق ہے اور اڈیشہ میں گرین انرجی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتے ہوئے صاف توانائی کی اشیاء کے لیے پورٹ پر مبنی لاجسٹکس کو مضبوط کرے گا۔
تجویز کردہ جیٹی میں گرین انرجی ڈیریویٹیوز اور دیگر رقیق کارگو کی ہینڈلنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے خصوصی بنیادی ڈھانچہ اور جدید حفاظتی نظام شامل ہوں گے، جو پارادیپ بندر گاہ کے گرد ایک مربوط گرین ہائیڈروجن ماحولیاتی نظام کی ترقی میں معاون ہوگا۔


***
ش ح۔ش م۔م ق ا
U- 3118
(ریلیز آئی ڈی: 2233410)
وزیٹر کاؤنٹر : 5