عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 شمال مشرق، جنوب مشرقی ایشیا کے تجارتی راہداری کے طور پر ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی سپاہی جالا (تریپورہ) میں ضلع سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت، بانس کے استعمال میں توسیع اور تجارتی رابطہ مضبوط بنانے پر زور

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بانس کے استعمال میں اضافہ کرنے پر زور، کہا یہ تریپورہ کی تجارتی صلاحیت کو تبدیل کر سکتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 FEB 2026 5:22PM by PIB Delhi

تریپورہ کے دورے کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ضلع سپاہی جالا کے کلیکٹر دفتر، کمالاساگر کے کانفرنس ہال میں ضلع سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ شمال مشرق جنوب مشرقی ایشیا کے تجارتی راہداری کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ریاست میں بانس کے وسیع ذخائر کی صلاحیت کا جائزہ لے اور اس کے استعمال کو منظم اور تجارتی طور پر قابلِ عمل انداز میں وسعت دے۔ انہوں نے کہا کہ تریپورہ سے بنگلہ دیش کے لیے ریل سروس شروع ہونے کے بعد یہ ایک آسان اور کم لاگت تجارتی راستہ بھی ثابت ہوگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ تریپورہ بانس کے گھنے جنگلات سے مالا مال ہے، تاہم یہ وسائل ابھی تک مکمل طور پر استعمال میں نہیں لائے گئے۔ بانس ایک ہمہ گیر خام مال ہے جو تعمیرات، تعمیراتی سامان، اندرونی و گھریلو سجاوٹ، زیورات، دستکاری اور فرنیچر سازی میں استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقدار  میں اضافہ اور منڈی تک وسیع رسائی تریپورہ کی تجارتی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

علاقائی رابطے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے یاد دلایا کہ تریپورہ کو بنگلہ دیش سے جوڑنے والی ریل لائن پر کام ان کے دورِ گورنری میں شروع ہوا تھا۔ اس منصوبے کو منظوری مل چکی ہے اور یہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باعث بنگلہ دیش میں کام کی رفتار سست ہے، تاہم براہِ راست ریل سروس شروع ہوتے ہی تریپورہ اور پورا شمال مشرق جنوبی ایشیا کے ایک اہم تجارتی و کاروباری راہداری کے طور پر ابھرے گا۔

اس سے قبل ضلع انتظامیہ نے ترقیاتی اشاریوں اور حکمرانی کے اقدامات پر مفصل پریزنٹیشن پیش کی۔ جائزہ اجلاس میں دیہی ترقی کی بڑی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، جل جیون مشن کے نفاذ، پی ایم اے وائی-جی کی کارکردگی، ادارہ جاتی زچگی، حفاظتی ٹیکہ کاری کی کوریج، زراعت، باغبانی، ماہی پروری اور اپنی مدد آپ گروپوں کی مالی اعانت میں پیش رفت کا احاطہ کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیر موصوف کے سامنے مشن سنکلپ (بچوں کی شادی اور کم عمری میں حمل کے خاتمے کے لیے)، پیپر لیس انتظامیہ کے لیے ای-آفس نظام، کیو آر پر مبنی فیڈبیک سسٹم، شکایات کے ازالے کے لیے جن سنوائی، چھتوں پر شمسی توانائی کے منصوبے، بارش کے پانی کے تحفظ کے اقدامات اور صلاحیت سازی کے پروگرام جیسے اختراعی اقدامات بھی پیش کیے گئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001KB7D.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002DAXU.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00349AA.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004KG3V.jpg

************

(U:3102)

ش ح ۔   م    د۔  م  ص


(ریلیز آئی ڈی: 2233245) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी , Tamil