کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ہندوستان تجارت، اعتماد اور تبدیلی کے پل کی تعمیر کر رہا ہے؛ عالمی تجارت کے دو تہائی حصے تک ترجیحی رسائی حاصل کر لی: مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل
ہندوستان نے ایف ٹی اے روابط کو تیز کیا؛ جی سی سی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز، اسرائیل اور چلی کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت،کناڈا کے ساتھ مذاکرات جلد متوقع: جناب گوئل
تمام 9 ایف ٹی ایز تکمیلی ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ طے پائے؛ وزیر اعظم نریندر مودی کا ’ریفارم، پرفارم اینڈ ٹرانسفارم‘ ہندوستان کے عالمی ترقی کے وژن کی بنیاد ہے: جناب گوئل
ایف ٹی ایز کے بعدآسٹریلیا اور یو اے ای کے ساتھ تجارت دوگنی ہو گئی: جناب گوئل
جناب گوئل نےہندوستان کی برآمدات کو تبدیل کرنے کے لیے چار نکاتی خاکہ پیش کیا: جس میں نچلی سطح پر ایف ٹی اے آگاہی، معیار پر توجہ، قدر میں اضافہ اور مقامی ماحولیاتی نظام کی مضبوطی شامل ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 7:52PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، ہندوستان ’’تجارت، اعتماد اور تبدیلی کے پل‘‘ کی تعمیر کر رہا ہے اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں طے پانے والے اعلیٰ معیار کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) کی بدولت اب عالمی تجارت کے تقریباً دو تہائی حصے تک ترجیحی تجارتی رسائی حاصل کر چکا ہے۔
چنئی میں منعقدہ سی آئی آئی کے پانچویں قومی برآمدی مسابقتی اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں طے پانے والے تمام نو ایف ٹی ایز ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہوئے ہیں جو ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں مقابلہ کرنے کے بجائے تکمیلی کردار ادا کرتی ہیں۔ وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی ملک عالمی معیشت کے لیے اپنے دروازے کھولے بغیر ترقی یافتہ نہیں بن سکتا اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کےہندوستانی معیشت کو ’’ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم یعنی اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی کی راہ پر گامزن رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جناب گوئل نے تجارتی روابط کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صرف چھ گھنٹوں کے اندر انہوں نے ایف ٹی اے سے متعلق تین مختلف مذاکرات میں شرکت کی۔ ہندوستان نے مشرقِ وسطیٰ کے چھ ملکی بلاک خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ ایف ٹی اے مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ اس کے فوراً بعد جناب گوئل نے اسرائیلی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کی تاکہ ایف ٹی اے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیر نے کہا کہ وہ چلی کے اپنے ہم منصب کے ساتھ بھی مذاکرات کریں گے تاکہ ایک نئے دور کے ایف ٹی اے کو مکمل کیا جا سکے، جو ہندوستان کو اہم معدنیات تک زیادہ رسائی فراہم کرے گا۔
جناب گوئل نے مزید بتایا کہ کناڈا کے وزیر اعظم کے جلد ہی ہندوستان کے دورے کی توقع ہے اور دونوں فریق اس ہفتے کے اواخر تک شرائطِ کو حتمی شکل دینے اور کناڈا کے ساتھ ایف ٹی اے مذاکرات کے آغاز کے لیے پُرامید ہیں۔ وزیر نے ایف ٹی ایز کے اس اسٹریٹجک نیٹ ورک کو متنوع تجارتی شراکت داریوں کے ذریعے خطرات میں کمی لانے کے ہندوستان کے نقطۂ نظر کا حصہ قرار دیا اور اسے حجم اور عزم کے اعتبار سے بے مثال قرار دیا۔
وزیر نے کہا کہ ٹھوس نتائج پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ چندبرس قبل ایف ٹی ایز پر دستخط کے بعد ان ممالک کے ساتھ اشیائے تجارت دوگنی ہو چکی ہے۔ جناب گوئل نے کہا کہ سربراہی اجلاس کا موضوع — ریفارم، پرفارم اینڈ ٹرانسفارم — محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی منشور اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا بنیادی فلسفہ ہے۔
جناب گوئل نے حال ہی میں شروع کی گئی ایکسپورٹ پروموشن مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کی معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت قرض تک رسائی بہتر بنانا، آپریشنل اخراجات کم کرنا، بین الاقوامی ضابطوں پر پورا اترنے میں مدد فراہم کرنا، یوروپی یونین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اور مانگ والی منڈیوں تک برآمدات کو ممکن بنانا اور ان ساختی رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے ،جو ہندوستان کی برآمداد کی صلاحیت کو محدود کرتی رہی ہیں۔
جناب گوئل نے ہندوستان کے برآمداتی سفر کو تبدیل کرنے کے لیے چار اہم نکاتی خاکہ پیش کیا:
اوّل، ایف ٹی ایز کو نچلی سطح تک لے جانا، تاکہ اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری میں ان کے فوائد کے بارے میں وسیع پیمانے پر تشہیر اور آگاہی پیدا کی جا سکے۔ جناب گوئل نے کہا کہ یہ آگاہی کلسٹرز، اضلاع اور فیکٹریوں کی سطح تک پہنچنی چاہیے، جس کے لیے ٹرینر کی تربیت اور ملک بھر میں عملی رسائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پالیسی اور منافع دونوں پہلوؤں کو سمجھانے سے ایف ٹی اے کے فوائد کے استعمال میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر جب ایم ایس ایم ایز یہ سمجھیں کہ ٹیرف میں کمی کس طرح نئی منڈیاں کھول سکتی ہے اور مسابقت میں اضافہ کر سکتی ہے۔
دوم، معیار پر غیر متزلزل توجہ دینا۔ وزیر نے کہا کہ معیار عالمی منڈیوں تک رسائی کا پاسپورٹ ہے اور معیارات رکاوٹ نہیں بلکہ داخلے کا ٹکٹ ہوتے ہیں۔ جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا وژن “زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ” (زیڈ ای ڈی) ہر برآمد کنندہ کے لیے ڈی این اے بننا چاہیے اور انہوں نے 2014 سے معیار پر وزیر اعظم کے مسلسل زور کو یاد کیا۔
سوم، ویلیو چین میں اوپر کی جانب پیش رفت کرنا۔ جناب گوئل نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ مرحلہ وار ترقی کریں — کپاس سے برانڈڈ ملبوسات تک، پی وی سی سے تیار شدہ آٹو پرزہ جات تک، اسٹیل سے اعلیٰ معیار کے دفاعی یا ایرو اسپیس پرزوں تک اور اے پی آئیز سے جدید دواسازی کی تیاریوں تک۔ وزیر نے کہا کہ قدر میں اضافہ روزگار بڑھاتا ہے، منافع کے فرق کو بہتر بناتا ہے اور عالمی سطح پرہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔
چہارم، صنعت کے اشتراک سے مقامی برآمداتی ماحولیاتی نظام کی تعمیر- جناب گوئل نے ہندوستانی کارپوریٹ اور صنعتی انجمنوں سے اپیل کی کہ وہ اضلاع، پنچایتوں یا تیسرے اور چوتھے درجے کے شہروں کو اپنائیں، ایم ایس ایم ایز کی رہنمائی کریں اور بیک ورڈ لنکیجز قائم کریں۔ جب بڑی کمپنیاں اسی جغرافیائی علاقے میں چھوٹے اداروں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں تو اضلاع برآمداتی ماحولیاتی نظام میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس سے پائیدار مسابقتی برتری پیدا ہوتی ہے۔
جناب گوئل نے ہندوستان کی برآمداتی ترقی کی داستان کو اعتماد، لچک اور امنگ کی کہانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 140 کروڑ ہندوستانیوں اور مختلف پیشوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے10 سے 11 کروڑ ایم ایس ایم ایز کی مشترکہ کہانی ہے — کانچی پورم کے بُنکر سے لے کر چنئی کے صنعت کار تک۔ وزیر نے زور دیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ممکنہ برآمد کنندگان کے لیے واضح راستے، قابلِ رسائی معاونت اور حقیقی مواقع کو یقینی بنائے۔
جناب گوئل نے اس بات پر زور دیتے ہوئے اپنے خطاب کااختتام کیا کہ اعلیٰ معیار اور بلند پیداواریت مسابقت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہیں اور پائیدار ی مسابقت ہندوستان کو ایک سرکردہ برآمدکنندہ ملک کے طور پر قائم کرنے کی بنیاد ہے۔
*********
ش ح۔ م ع ن۔ م ش
U.NO.3014
(ریلیز آئی ڈی: 2232533)
وزیٹر کاؤنٹر : 4