لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

ڈیپ فیکس اور غلط معلومات جمہوریت کے لیے سنگین خطرات ہیں: لوک سبھا اسپیکر


مصنوعی ذہانت کا استعمال حقائق کو مضبوط اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ہونا چاہیے، حقائق کو مسخ یا دبانے کے لیے نہیں: لوک سبھا اسپیکر

مصنوعی ذہانت جمہوریت کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور شہریوں پر مرکوز  بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے: لوک سبھا اسپیکر

ڈیجیٹل پارلیمنٹ اور مصنوعی ذہانت جمہوری جوابدہی کو مضبوط کر رہے ہیں: لوک سبھا اسپیکر

بھارت کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر دنیا کے لیے ایک ماڈل ہے: لوک سبھا اسپیکر

تعلیم، صحت اور زراعت میں ’وِکست بھارت 2047‘کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ’جمہوریت کے لیے مصنوعی ذہانت‘ خصوصی اجلاس سے خطاب کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 8:30PM by PIB Delhi

آج لوک سبھا اسپیکر نے ڈیپ فیکس اور غلط معلومات سے بڑھتے ہوئے چیلنجز کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انھوں نے انہیں جمہوریت کے لیے سنگین خطرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال حقائق کی سچائی اور اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ حقائق کو مسخ  کرنے یا دبانے کے لیے۔ انھوں نے تکنیکی ترقی کے ساتھ مضبوط حفاظتی اقدامات تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جمہوری مباحثے کو فریب اور الجھن سے محفوظ رکھا جا سکے۔

آج بھارت منڈپم میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے خصوصی اجلاس کے تھیم’’جمہوریت کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے، جناب برلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جمہوریت کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور شہریوں پر مرکوز  بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ قوم کا رہنما اصول ہمیشہ سے’’سروجن ہتائے، سروجن سکھائے‘‘سب کی فلاح اور خوشی کے لیے  رہا ہے۔ بھارت عالمی فلاح کے جذبے کے ساتھ کام کرتا ہے، جو اس کے دیرپا تہذیبی اقدار میں جڑ پکڑے ہوئے ہے۔

قانون سازی میں تبدیلی کے  لیے ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، اسپیکر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم آلہ کے طور پر ابھر  رہی ہے۔ انھیں خوشی ہے کہ ’’ڈیجیٹل پارلیمنٹ‘‘جیسے اقدامات شہریوں اور پارلیمنٹ کے درمیان رابطے کو آسان بنا رہے ہیں اور بھارت جیسے متنوع ملک میں ڈیجیٹل اور معلوماتی تقسیم کو کم کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل پارلیمنٹ کے تحت پارلیمانی کارروائیوں کو کاغذ سے پاک، جدید اور ماحولیاتی طور پر پائیدار بنایا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے آلات کی مدد سے ہزاروں گھنٹوں کے پارلیمانی مباحثے اور ریکارڈ منظم کیے گئے ہیں اور عوام کے لیے آسانی سے تلاش اور رسائی کے قابل بنا دیے گئے ہیں۔ اسپیکر نے اس پر زور دیا کہ یہ شفافیت کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی کو قریب سے مانیٹر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے جوابدہی میں اضافہ ہوتا ہے۔

بھارت کی لسانی تنوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اسپیکر نے ’’سنسد بھاشینی‘‘اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس کے ذریعے پارلیمانی مباحثے کو اے آئی کے ذریعے متعدد علاقائی زبانوں میں دستیاب کرنے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اب ملک کے شہری اپنی زبان میں پارلیمانی مباحثے تک رسائی حاصل کر کے انہیں سمجھ سکتے ہیں، جس سے جمہوری عمل میں اعتماد اور شمولیت کو تقویت ملتی ہے۔

اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی پارلیمانی فورمز میں ہونے والے مباحثوں، بشمول صدران اسمبلیوں کی عالمی مصروفیات، نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ جمہوری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا کتنا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں، انھوں نے کہا کہ قانون سازی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بھارت کی جدت کو عالمی ماڈل کے طور پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اے آئی کے آلات اور جدید ڈیٹا سسٹمز ممبران پارلیمنٹ کو اپنے حلقوں کی ضروریات اور توقعات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، جس سے زیادہ باخبر اور شہری مرکز پالیسی سازی ممکن ہو رہی ہے۔

جناب برلا نے کہا کہ بھارت کی اے آئی حکمت عملی جامع ترقی کے اصول پر مبنی ہے؛ اور تعلیم، صحت اور زراعت جیسے شعبوں میں اے آئی کے استعمال سے ملک کی ’’وِکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کی جانب سفر تیز ہوگا۔ معیاری تعلیم تک رسائی کو بڑھا کر، صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنا کر اور کسانوں کو ڈیٹا پر مبنی حل فراہم کر کے، اے آئی لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کی جو کم سہولیات والے یا غیر منظم شعبوں میں ہیں۔

جناب برلا نے مزید کہا کہ بھارت کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل بن چکا ہے۔ اپنی وسعت، شمولیت اور کارکردگی کے سبب، بھارت کے ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر کا مطالعہ اور سراہا جا رہا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت عالمی کمیونٹی کے ساتھ اپنے ڈیجیٹل تجربات اور تکنیکی مہارت کو مشترکہ ترقی کے لیے شیئر کرنے کے لیے  پرعزم ہے۔

مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی حمایت کرتے ہوئے، جناب برلا نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی انسانی حساسیت اور اخلاقی فیصلے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انھوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں،‘‘ اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی اقدار، جمہوری اصول اور اخلاقی معیار ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور استعمال میں سب سے اوپر رہنا چاہیے۔ انھوں نے ایک ایسی نوجوان نسل کی پرورش کی ضرورت پر زور دیا جو نہ صرف تکنیکی مہارت رکھتی ہو بلکہ ہمدردی اور مضبوط اخلاقی بنیاد سے بھی آراستہ ہو۔

جناب برلا نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’’جمہوریت کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘اجلاس میں ہونے والے مباحثے ایک ایسے مستقبل کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے جہاں ٹیکنالوجی اور جمہوری اقدار ساتھ ساتھ آگے بڑھیں۔ انھوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ جدت اور تہذیبی اقدار کا ہم آہنگ امتزاج 2047 تک ایک مضبوط، جامع اور ترقی یافتہ بھارت کی راہ ہموار کرے گا۔

اجلاس میں متعدد معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا جن میں برطانیہ کے وزیر برائے اے آئی و آن لائن سیفٹی، ہنگری کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر، اور انٹر-پارلیمانی یونین کے سیکرٹری جنرل شامل تھے۔ یہ پروگرام مشترکہ طور پر دیو سنسکرتی یونیورسٹی اور بین-پارلیمانی یونین کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔

06.jpg

07.jpg

08.jpg

***

ش ح۔۔ ش ت۔ر ب

U-2908 


(ریلیز آئی ڈی: 2231772) وزیٹر کاؤنٹر : 22
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati