سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسی ریسرچ کو مضبوط بنانے کے لیے این ڈی ایم اے ، اے سی ایس آئی آر اور سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر نے مفاہمت نامے پر دستخط کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 FEB 2026 12:03PM by PIB Delhi
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اکیڈمی آف سائنٹفک اینڈ انوویٹیو ریسرچ (اے سی ایس آئی آر) اور سی ایس آئی آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر) نے آج تعلیمی پروگراموں ، صلاحیت سازی ، پالیسی تحقیق اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اینڈ رسک ریڈکشن (ڈی ایم آر آر) میں مواصلات کے لیے ایک باہمی تعاون کا فریم ورک بنانے کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ۔
اس شراکت داری کا مقصد منظم تعلیمی اقدامات، بین الضابطہ تحقیق اور مؤثر عوامی شمولیت کے ذریعے ایک آفات سے نمٹنے والے مضبوط ہندوستان کی تعمیر کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور پالیسی کو یکجا کرنا ہے۔
مفاہمت نامے کی نمایاں خصوصیات:
- این ڈی ایم اے کے تعاون سے سی ایس آئی آر–این آئی ایس سی پی آر میں اے سی ایس آئی آر کے تحت ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی پروگرام کا آغاز۔
- ڈی ایم آر آر کے شعبے میں سائنس مواصلات، صلاحیت سازی، مشترکہ تحقیق اور پالیسی مطالعات کا فروغ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کے رکن ڈاکٹر دنیش کمار اسوال نے ڈی ایم آر آر کے لیے سماجی تیاری کے ساتھ سائنسی بنیادوں کو جوڑنے کے ادارے کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
“ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن سے متعلق عزت مآب وزیر اعظم کے نو نکاتی ایجنڈے کے مطابق ہم ایسے مضبوط تعلیمی نیٹ ورک کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں جو آفات سے متعلق تحقیق اور تعلیمی پروگراموں پر مشترکہ طور پر کام کرے۔ ابتدائی انتباہی نظام، رسک کمیونیکیشن اور کمیونٹی آؤٹ ریچ کو مستحکم بنانے کے لیے مواصلاتی ذرائع کی انقلابی صلاحیت سے بھرپور استفادہ ضروری ہے۔ ہر آفت سے سیکھنے کے لیے واقعات کے بعد منظم مطالعات اور دستاویزی عمل بھی نہایت اہم ہے۔ مسلسل سیکھنے کے اس کلچر کو ادارہ جاتی شکل دے کر ہی ہم تیاری کو مضبوط، ردِعمل کے نظام کو بہتر اور ایک حقیقی معنوں میں لچکدار قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ مفاہمت نامہ سائنس دانوں اور پالیسی ماہرین کے درمیان ایک مضبوط پُل قائم کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔”
اے سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر پروفیسر منوج کمار دھر نے اس تعاون سے پیدا ہونے والے تعلیمی و تحقیقی مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“اے سی ایس آئی آر میں سات ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور یہ ملک کے ممتاز تحقیقی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری تحقیق خلائی علوم کے علاوہ تقریباً تمام سائنسی شعبوں پر محیط ہے اور ہم بین الضابطہ اشتراک کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ مفاہمت نامہ طلبہ اور محققین کے لیے آفات کے انتظام کے پیچیدہ مسائل کے لیے اختراعی اور تحقیق پر مبنی حل تیار کرنے کے نئے امکانات پیدا کرے گا اور وکشت بھارت 2047 کے ہدف کے مطابق آفات سے نمٹنے کے قومی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ماہرین کی نئی نسل تیار کرنے میں مدد دے گا۔”
ڈی ایم آر آر میں سائنس مواصلات اور پالیسی تحقیق کے کردار کو واضح کرتے ہوئے سی ایس آئی آر–این آئی ایس سی پی آر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گیتا وانی ریاسام نے کہا:
“سی ایس آئی آر–این آئی ایس سی پی آر ایک منفرد ادارہ ہے جو 15 تحقیقی جرائد شائع کرتا ہے، سائنس مواصلات سے متعلق قومی اقدامات کی قیادت کرتا ہے اور شواہد پر مبنی پالیسی تحقیق میں سرگرم ہے۔ این ڈی ایم اے اور اے سی ایس آئی آر کے ساتھ یہ شراکت داری ہمیں سائنسی علم کو آفات کے انتظام سے متعلق پالیسی اور عوامی بیداری کے نظام میں مؤثر طور پر شامل کرنے کے قابل بنائے گی۔ اس تعاون کے ذریعے ہم پالیسی تحقیق، صلاحیت سازی اور سائنسی مواصلات کو فروغ دینے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کریں گے، تاکہ سائنسی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر ذمہ دار حل سامنے آ سکیں اور ملک کے ڈیزاسٹر ریزیلینس فریم ورک کو مزید تقویت ملے۔”
وزارتِ داخلہ کے تحت آفات سے متعلق پالیسی سازی کا اعلیٰ ترین ادارہ این ڈی ایم اے اس تعاون میں اسٹریٹجک رہنمائی اور موضوعاتی مہارت فراہم کرے گا، جبکہ ایک نمایاں تحقیقی یونیورسٹی کی حیثیت سے اے سی ایس آئی آر تعلیمی پروگراموں اور تحقیقی سرگرمیوں کی میزبانی کرے گی۔ سی ایس آئی آر–این آئی ایس سی پی آر نہ صرف تعلیمی پروگراموں کی میزبانی کرے گا بلکہ ڈی ایم آر آر کے حوالے سے پالیسی تحقیق اور عوامی شمولیت کو بھی فروغ دے گا۔
یہ سہ فریقی اشتراک ہندوستان کے آفات سے نمٹنے کے نظام میں سائنسی تحقیق، مؤثر سائنسی مواصلات اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مربوط کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔


***
UR-2833
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2231142)
وزیٹر کاؤنٹر : 12