الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے سیشن میں پائلٹ منصوبوں سے عوامی سطح پر اثر تک اے آئی کو وسعت دینے کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی


خریداری کے نظام میں اصلاحات، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اور ڈیٹا گورننس کو عوامی پیمانے پر اے آئی کے لیے کلیدی عناصر کے طور پر شناخت کیا گیا

اے آئی کو عوامی خدمت کی صلاحیت میں تبدیل کرنے کے لیے اس کا پھیلاؤ اور ادارہ جاتی استعداد ناگزیر ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 7:56PM by PIB Delhi

مصنوعی ذہانت کو محدود پائلٹ منصوبوں سے آگے بڑھ کر ایسے نظاموں میں تبدیل کرنا جو پوری آبادی کی خدمت کریں، محض بہتر ماڈلوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، قابل اعتماد ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، باہم مربوط معیارات اور حکومتوں اور مختلف شعبوں میں مہارت اور علم کی منظم ترسیل کی ضرورت ہے۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ”پائلٹ سے پاپولیشن تک: انکلیوسو امپیکٹ کے لیے اے آئی کو بڑھانا“ سیشن میں اسی مرکزی پیغام پر روشنی ڈالی گئی۔

 

 

اس گفتگو میں اے آئی کی توسیع کو محض تکنیکی مسئلے کے بجائے حکمرانی اور صلاحیت سازی کے چیلنج کے طور پر پیش کیا گیا۔ مقررین نے زور دیا کہ پھیلاؤ یعنی آلات، مہارتوں، بنیادی ڈھانچے اور اعتماد کی منظم ترسیل، وہ فیصلہ کن عنصر ہے جو طے کرتا ہے کہ آیا اے آئی صرف نمائشی منصوبوں تک محدود رہے گی یا روزمرہ عوامی خدمات کی فراہمی میں سرایت کر جائے گی۔ خریداری کے نظام میں اصلاحات، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، وضاحت پذیری، مقامی تناظر کے مطابق ڈیزائن اور سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ پائیدار اور عوامی پیمانے پر نفاذ کے لیے کن نظامی شرائط کی ضرورت ہے۔

برزایل کے وزیر نظم و نسق اور اختراع، ایستھر ڈویک نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت میں اے آئی کو وسعت دینے کی اصل رکاوٹ تکنیکی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہے۔ انہوں نے خریداری کے نظام میں اصلاحات، مربوط ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور مضبوط ڈیٹا گورننس کو پائیدار عوامی خدمات کی تبدیلی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدت کے لیے ایسے نظام درکار ہوتے ہیں جو سیکھنے اور ذمہ داری سے خطرہ مول لینے کی کی اجازت دیں، اور مزید کہا: ”اکثر حکومت میں جدت کا چیلنج ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ذہنیت ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اے آئی پائلٹ منصوبوں سے نکل کر پائیدار عوامی خدمات کا حصہ بنے تو خریداری کا نظام نتائج پر مبنی ہونا چاہیے، محض طریقۂ کار پر نہیں، اور ریاست کے اندر جدت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔“

اسی طرح، ٹریور منڈیل، صدر، گلوبل ہیلتھ، گیٹس فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ بکھرے ہوئے اور غیر مربوط پائلٹ منصوبے عوامی سطح پر اثرات کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے قومی اور علاقائی اسکیلنگ ہب کے کردار کی وضاحت کی، جو طلب کو مجتمع کرنے، فنڈنگ کو ہم آہنگ کرنے اور مختلف شعبوں میں پھیلاؤ کو تیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے صحت اور تعلیم جیسے حساس شعبوں میں وضاحت پذیری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اسٹرکچرڈ توسیعی راستوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ”اے آئی کو حقیقی عوامی اثر تک وسعت دینے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک انتشار ہے۔ اسکیلنگ ہب وہ ساخت فراہم کرتے ہیں جس سے جدت پھیل سکتی ہے، جبکہ کوششوں، فنڈنگ اور انفراسٹرکچر کو مشترکہ عوامی ترجیحات کے گرد ہم آہنگ رکھا جا سکتا ہے۔“

نندن نلیکنی، چیئرمین انفوسس نے آدھار اور یو پی آئی کے ساتھ بھارت کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی پیمانے کی ٹیکنالوجی صرف ڈیجیٹل ساخت پر نہیں بلکہ اعتماد، حکمرانی اور ادارہ جاتی صلاحیت پر بھی یکساں انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی تاثر اے آئی کے اختیار کی سمت متعین کرے گا، اور ممکنہ ردِعمل سے بچنے کے لیے واضح سماجی فوائد دکھانا ضروری ہے۔ انہوں نے اسکیل کے نظامی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا: ”جب آپ کسی پورے ملک کے پیمانے پر ٹیکنالوجی کا اطلاق کرتے ہیں تو اس کا تعلق صرف ٹیکنالوجی سے بہت کم ہوتا ہے۔ عوامی پیمانے کے اقدامات میں 30 فیصد ٹیکنالوجی اور 70 فیصد باقی سب کچھ ہوتا ہے۔“

ایرینا گھوش، منیجنگ ڈائریکٹر – انڈیا، اینتھروپک نے حقیقی اختیار کے لیے باہمی مطابقت، شعبہ مخصوص ڈیزائن اور مقامی زبانوں میں استعمال کی سہولت کو کلیدی عناصر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نظام اکثر اس وقت ناکام ہو جاتے ہیں جب انہیں مختلف سیاق و سباق میں منتقل تو کیا جاتا ہے مگر روزمرہ کام کے بہاؤ کے مطابق نہیں ڈھالا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ معیارات سرکاری شعبے کے موجودہ ڈیٹا کو اے آئی کے لیے تیار بنا سکتے ہیں اور مختلف استعمالی صورتوں میں پھیلاؤ کو تیز کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے محدود استعمال سے نکل کر عوامی اختیار کی جانب منتقلی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ”اے آئی اس وقت عوامی پیمانے پر معنی خیز بنتی ہے جب وہ صرف ماہرین کے استعمال کا سائنسی آلہ نہ رہے بلکہ روزمرہ صارفین کے لیے بدیہی بن جائے۔ تب ہی وہ پائلٹ مرحلے سے آگے بڑھ کر روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی ہے۔“

مختلف خطوں اور استعمالی صورتوں کے تناظر میں سیشن میں ایک واضح عملی راستہ پیش کیا گیا: اسکیل تب بنتا ہے جب حکومتیں خریداری، بنیادی ڈھانچے، معیارات، ٹیلنٹ اور فنڈنگ کو مشترکہ عوامی ترجیحات کے گرد ہم آہنگ کرتی ہیں۔ الگ تھلگ جدت کے بجائے منظم پھیلاؤ ہی اے آئی کو ایک قابل اعتماد عوامی صلاحیت میں بدلتا ہے۔ مقررین کے مطابق، پائلٹ سے عوامی اثر تک کی منتقلی کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ آیا ادارے ٹیکنالوجی کو ریاستی نظام کے روزمرہ ڈھانچے اور شہریوں کی روزمرہ زندگی میں مؤثر طور پر ضم کر پاتے ہیں یا نہیں۔

                                          **************

                                                                                                   

 

ش ح۔ ف ش ع

20-02-2026

                                                                                                                                         U: 2824

 


(ریلیز آئی ڈی: 2231019) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada