الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ایجنٹک اے آئی گول میز کانفرنس کے دوران اعتماد، تحفظ اور حکمرانی مرکزی موضوعات


اداروں میں اے آئی ایجنٹس کی تعیناتی کے لیے مضبوط ڈیٹا گورننس، واضح عملی حدود اور شفاف جوابدہی ناگزیر

پیچیدہ تکنیکی نظاموں کے لیے پالیسی فریم ورک کی ارتقا کے باوجود اے آئی حکمرانی کی بنیاد انسانی نتائج پر ہونی چاہیے

ایجنٹک اے آئی کے وسیع پیمانے پر نفاذ سے قبل تعلیمی حلقوں، صنعت اور حکومتوں کے درمیان معیارات اور جانچ فریم ورک پر اشتراک ضروری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 5:31PM by PIB Delhi

 ’’ایجنٹک اے آئی‘‘ پر منعقدہ گول میز اجلاس، جو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے پانچویں دن منعقد ہوا، میں عالمی ٹیکنالوجی صنعت، پالیسی اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ اس نشست میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایک اہم مرحلے پر غور کیا گیا، جہاں انسانی فیصلہ سازی میں معاون نظاموں سے آگے بڑھ کر ایسے خود مختار ایجنٹس کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے جو اداروں میں پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کاروبار و صنعت اور پالیسی نقطۂ نظر پر مبنی دو اعلیٰ سطحی پینلز پر مشتمل اس مباحثے میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ یہ تبدیلی کس طرح تحفظ، جوابدہی، سائبر سکیورٹی اور عوامی اعتماد کے تصورات کو نئے سرے سے متعین کر رہی ہے، ساتھ ہی پیداواری صلاحیت اور اختراع کے نئے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

پہلے پینل میں حقیقی دنیا میں تعیناتی کے منظرنامے اور ادائیگی نظام، کلاؤڈ بنیادی ڈھانچے، سائبر سکیورٹی اور ذہین پروڈکٹ ڈیزائن جیسے شعبوں سے عملی بصیرت پیش کی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جب اے آئی ایجنٹس باہم مربوط ماحول میں کام کرنا شروع کرتے ہیں تو قدر کی تخلیق اور خطرات، دونوں کا حجم اور اثر نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے تصدیقی نظام، مضبوط ڈیٹا گورننس، سسٹم سکیورٹی اور انسانی نگرانی کو اپنانے کا بنیادی جزو قرار دیا گیا۔

امریکہ کے پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک آفس (یو ایس پی ٹی او) کے ڈائریکٹر آسٹن میرن نے ذمہ دارانہ اختراع کو ممکن بنانے میں معیارات پر مبنی اشتراک کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دور بیٹھے نگران کے بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے، اور حقیقی تعیناتی کے تجربات سے براہِ راست سیکھ کر ایسے معیارات اور رہنما اصول وضع کرنے چاہییں جو صلاحیتوں کو ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لانے میں مدد دیں۔

سینوپسیس کے انّوویشنز گروپ کے سینئر نائب صدر پرتھ بنرجی نے ڈیجیٹل اے آئی سے آگے بڑھ کر حفاظتی حساس فزیکل نظاموں کی جانب منتقلی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اب ذمہ داری سافٹ ویئر سے متعین گاڑیوں، طیاروں اور دیگر حقیقی بنیادی ڈھانچے تک پھیل چکی ہے۔ سخت انجینئرنگ توثیق پر زور دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے ماحول میں نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے تعیناتی سے قبل “ذمہ دار اور محفوظ ایجنٹک انجینئرنگ” ناگزیر ہے۔

ماسٹرکارڈ کی چیف پرائیویسی آفیسر کیرولین لووو نے مالیاتی خدمات میں خود مختار نظاموں کے فروغ کے لیے اعتماد کو بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “خود مختاری اسی وقت وسعت اختیار کر سکتی ہے جب اعتماد موجود ہو”، جس کے لیے ایجنٹس کی مصدقہ شناخت، ڈیزائن کے مرحلے سے ہی سکیورٹی، صارف کی واضح نیت اور مکمل سراغ رسانی ضروری ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اپنانا ممکن ہو سکے۔

نیٹ ایپ کے چیف پروڈکٹ آفیسر شیام نائر نے باہم مربوط ایجنٹ ایکو سسٹمز میں غلطیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جب ایجنٹس نیٹ ورکس میں کام کرتے ہیں تو “غلطیوں کا دائرۂ اثر بہت وسیع ہو جاتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ مضبوط ڈیٹا گورننس، واضح عملی حدود اور شفاف جوابدہی ناگزیر ہیں کیونکہ “ایجنٹس میں ہمدردی یا حالات کی بصیرت نہیں ہوتی”، اس لیے حتمی ذمہ داری ادارے پر عائد ہوتی ہے۔

 

دوسرے پینل میں گفتگو کا رخ حکمرانی اور ضابطہ جاتی سوالات کی جانب رہا، جہاں باہمی ہم آہنگ معیارات، لچکدار ریگولیٹری ماڈلز، عالمی سطح پر تال میل اور صنعت کے لیے عملی وضاحت پر زور دیا گیا۔ دونوں مباحثوں میں اس مرکزی نکتے پر اتفاق پایا گیا کہ ذمہ دارانہ توسیع اسی وقت ممکن ہوگی جب ایجنٹک نظاموں کی ساخت میں ابتدا ہی سے اعتماد، تحفظ اور انسان مرکوز ڈیزائن کو شامل کیا جائے۔

ایڈوب آئی این سی. کی پبلک پالیسی ڈائریکٹر جینیفر ملوینی نے زور دیا کہ جب پالیسی پیچیدہ تکنیکی نظاموں کو منظم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے تو حکمرانی کی بنیاد انسانی نتائج پر ہی قائم رہنی چاہیے، تاکہ جدت انسانوں کو مرکز میں رکھ کر آگے بڑھے۔

گوگل آئی این سی. کی اے آئی و ابھرتی ٹیکنالوجی پالیسی مینیجر ایلی سخائی نے کثیر ایجنٹ تعامل کے ابھرتے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جب ایجنٹس مل کر کام کرتے ہیں تو خطرات کی نوعیت نمایاں طور پر بدل جاتی ہے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر تعیناتی سے قبل تعلیمی حلقوں، صنعت اور حکومتوں کے درمیان مشترکہ طور پر معیارات اور جانچ کے طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پالو آلٹو نیٹ ورکس کے اسسٹنٹ جنرل کونسل برائے پبلک پالیسی و حکومتی امور سیم کیپلان نے تحفظ کو اپنانے کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایجنٹک اے آئی خطرات کو “دو جہتی” سے “تین جہتی” چیلنج میں تبدیل کر دیتی ہے، جس کے حقیقی دنیا میں نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماڈلز اور ایجنٹس کو محفوظ بنائے بغیر اے آئی کو محفوظ انداز میں وسعت دینا مشکل ہے۔

سیلس فورس کی ڈائریکٹر برائے عالمی پبلک پالیسی ڈینیئل گلیم-مور نے حکمرانی کے تصور کو محض ضابطہ بندی تک محدود نہ رکھتے ہوئے اسے معیارات، عالمی اصولوں اور داخلی یقین دہانی کے نظام تک وسیع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی “محض ریگولیشن سے کہیں زیادہ وسیع” ہے اور خطرات کے انتظام کے ساتھ اپنانے کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

کلاؤڈ فلیر کی ایشیا پیسیفک، جاپان و چین پبلک پالیسی سربراہ کارلی رمزی نے رسائی، کھلے معیارات اور ضابطہ جاتی ہم آہنگی کو جامع ایجنٹک اے آئی کے لیے لازمی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، اس لیے باہمی ہم آہنگ قومی فریم ورک عالمی سطح پر قابل اعتماد توسیع کے لیے ضروری ہیں۔

سروس ناؤ کے عالمی سربراہ برائے حکومتی امور و پبلک پالیسی کومبیز رچرڈ عبدالرحیمی نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ صنعت کو عملی وضاحت درکار ہے۔ انہوں نے مجرد اصولوں کے بجائے قابلِ عمل نفاذی آلات، واضح معیارات، عملی رہنما کتب اور ایسے ماڈل فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جو جدت کے ساتھ ارتقا پذیر ہو سکیں۔

ان دونوں گول میز مباحثوں نے صنعت اور پالیسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا تاکہ ایجنٹک اے آئی کی تعیناتی اور اس کی حکمرانی کے متوازی چیلنجوں پر غور کیا جا سکے، اور اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ یہ نظام اب حقیقی دنیا میں استعمال کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  2803  )


(ریلیز آئی ڈی: 2230925) وزیٹر کاؤنٹر : 4