صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت 21 فروری 2026 کو سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، کسولی میں ٹیٹنس اور ایڈلٹ ڈپتھیریا (ٹی ڈی) ویکسین کا آغاز کریں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 5:29PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا 21 فروری 2026 (بروز ہفتہ) کو سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی آر آئی)، کسولی، ہماچل پردیش میں ٹیٹنس اور ایڈلٹ ڈِپتھیریا (ٹی ڈی) ویکسین کا آغاز کریں گے۔

سائنسی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈی پی ٹی گروپ کی ویکسینوں کے ذریعے بچپن میں وسیع پیمانے پر حفاظتی ٹیکہ کاری نے متعدد ممالک میں ڈِپتھیریا اور ٹیٹنس کے کیسز میں نمایاں کمی کی ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اینٹی باڈیز کی سطح کم ہو سکتی ہے، خصوصاً ڈِپتھیریا کے معاملے میں، جس کے باعث بوسٹر خوراک کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی تناظر میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2006 میں رکن ممالک کو ٹیٹنس ٹاکسوئڈ (ٹی ٹی) ویکسین سے ٹی ڈی ویکسین کی طرف منتقلی کی سفارش کی تھی۔ اس سفارش کی توثیق ڈبلیو ایچ او کے 2017 کے ٹیٹنس ویکسین پوزیشن پیپر اور 2002 و 2016 میں اسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ آف ایکسپرٹس (ایس اے جی ای) کے غور و خوض کے ذریعے بھی کی گئی۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن (این ٹی اے جی آئی) نے بھی سفارش کی ہے کہ ہندوستان کے قومی حفاظتی ٹیکہ کاری پروگرام میں، حاملہ خواتین سمیت تمام عمر کے گروہوں کے لیے ٹی ٹی ویکسین کو ٹی ڈی ویکسین سے تبدیل کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف ٹیٹنس بلکہ ڈِپتھیریا کے خلاف تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ زچگی اور نوزائیدہ ٹیٹنس کے خاتمے اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی کامیابیوں کو برقرار رکھنا بھی اس کا اہم ہدف ہے۔

اسی مقصد کے تحت سی آر آئی نے ٹی ڈی ویکسین کی تیاری کا عمل شروع کیا۔ ادارے نے کامیابی سے ترقیاتی مطالعات مکمل کیے، ٹیسٹ لائسنس حاصل کیا، پری کلینیکل اسٹڈیز اور فیز I، II اور III کلینیکل ٹرائلز کے لیے ضروری منظوریوں اور رعایتوں کا حصول یقینی بنایا، مینوفیکچرنگ اور مارکیٹنگ لائسنس حاصل کیے، تجارتی پیداوار کا آغاز کیا اور سنٹرل ڈرگس لیبارٹری، کسولی سے باضابطہ منظوری بھی حاصل کر لی۔ یہ ویکسین اب یونیورسل امیونائزیشن پروگرام (یو آئی پی) کے تحت اجراء اور فراہمی کے لیے تیار ہے۔

مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود اور وزیرِ کیمیکلز و کھاد کے ہاتھوں باضابطہ اجراء کے بعد سی آر آئی اپریل 2026 تک یو آئی پی کے لیے 55 لاکھ خوراکیں فراہم کرے گا۔ آئندہ برسوں میں سپلائی میں بتدریج اضافہ متوقع ہے تاکہ حکومت کے یونیورسل امیونائزیشن پروگرام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

ٹیٹنس ایک سنگین بیماری ہے جو پٹھوں کی شدید اکڑن اور تکلیف دہ کھنچاؤ کا سبب بنتی ہے اور منہ نہ کھلنے (لاک جا)، نگلنے اور سانس لینے میں دشواری جیسی پیچیدگیوں کے ذریعے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ڈِپتھیریا ایک خطرناک متعدی مرض ہے جو سانس لینے میں رکاوٹ، دل کی ناکامی، فالج اور حتیٰ کہ موت کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹی ڈی ویکسین (ٹیٹنس اور بالغ ڈِپتھیریا ویکسین—جذب شدہ، کم شدہ ڈی اینٹیجن مواد) دونوں بیماریوں کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ صاف شدہ ڈِپتھیریا ٹاکسوئڈ اور صاف شدہ ٹیٹنس ٹاکسوئڈ کو ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ اینٹیجنز کو ایلومینیم فاسفیٹ پر جذب کیا جاتا ہے جو بطور معاون (ایڈجوونٹ) کام کرتا ہے، جبکہ تھیومرسل بطور محافظ شامل کیا جاتا ہے۔ اس ویکسین کا مقصد نوعمروں اور بالغوں میں مدافعت کو مضبوط کرنا اور ان قابلِ انسداد بیماریوں سے وابستہ اموات و امراض کی شرح کو کم کرنا ہے۔

سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی آر آئی)، جو 1905 سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، حکومتِ ہند کے تحت خدمات انجام دے رہا ہے، قومی ویکسین پالیسی کے مطابق ویکسین کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ یونیورسل امیونائزیشن پروگرام اور صحتِ عامہ کے دیگر اقدامات کے لیے ویکسین اور اینٹی سیرا کی تیاری و فراہمی میں مصروف ہے۔ توقع ہے کہ سی آر آئی میں ٹی ڈی ویکسین کے اجراء سے ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور قومی حفاظتی ٹیکہ کاری پروگرام کے تحت معیاری اور یقینی ویکسین کی مسلسل دستیابی ممکن ہو سکے گی۔

اس تقریب میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر افسران، ریاستی صحت محکموں کے نمائندگان، صحتِ عامہ کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقین شریک ہوں گے، جبکہ مرکزی وزیرِ صحت جناب جے پی نڈا اس موقع پر خطاب بھی کریں گے۔

***

UR-2805

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2230875) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi