الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بھارت کے اے آئی مستقبل کی تشکیل: عالمی سی ای اوز کا خودمختاری،بنیادی ڈھانچے اور وسیع عوامی بااختیاری پر زور
مسٹرال اے آئی کے شریک بانی اور سی ای او آرتھر مینچ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو غلبے کے لیے نہیں بلکہ بااختیار بنانے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے
فیڈایکس کے سی ای او جناب راجیش سبرامنیم نے کہاکہ اے آئی خصوصاً عالمی سپلائی چینز میں اگلے صنعتی دور کا بنیادی ڈھانچہ ہے
اڈانی ڈیجیٹل لیبز کے ڈائریکٹر جناب جیت اڈانی نے کہا کہ اگر کسی ملک کا توانائی کا نظام کمزور ہو تو اس کا انٹلیجنس نظام بھی کمزور ہوگا
کھوسلا وینچرز کے بانی جناب ونود کھوسلانے کہا کہ جب تک اے آئی کے فوائد بھارت کی آبادی کے نچلے پچاس فیصد تک نہیں پہنچتے، ہم اس کے حقیقی اثرات نہیں دیکھ سکیں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 FEB 2026 8:50PM by PIB Delhi
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ بھارتی نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کےتئیں پُرجوش ہیں اور انہی کی جانب سے انہوں نے سمٹ میں شریک سربراہانِ حکومت، عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے قائدین اور جدت کاروں کا والہانہ استقبال کیا۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر منعقدہ خصوصی خطابات میں مسٹرال اے آئی کے سی ای او اور شریک بانی آرتھر مینچ، فیڈ ایکس کے سی ای او راجیش سبرامنیم، اڈانی ڈیجیٹل لیبز کے ڈائریکٹر جیت اڈانی، اور کھوسلا وینچرز کے بانی ونود کھوسلا نے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ مصنوعی ذہانت کس طرح خودمختاری، عالمی تجارت، بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات تک رسائی کو نئی شکل دے رہی ہے اور ساتھ ہی اس تمام عمل میں شفافیت، ملکیت اور وسیع پیمانے پر سماجی اثرات پر خصوصی زور دیا گیا۔

آرتھر مینچ، سی ای او اور شریک بانی، مسٹرال اے آئی نے اے آئی کی خودمختاری اور کھلی جدت طرازی کے حق میں مؤثر دلائل پیش کیے۔ انہوں نے غیر مرکزیت اور ڈیجیٹل خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “مصنوعی ذہانت کو غلبے کے لیے نہیں بلکہ بااختیار بنانے کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال ہونا چاہیے۔ ممالک اور خطوں کو اپنی اے آئی ڈسٹینی کا مالک ہونا چاہیے؛ یہ کوئی مراعت نہیں بلکہ ڈیجیٹل خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک ضرورت ہے۔”طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ایسی دنیا نہیں چاہتے جہاں تین یا چار بہت بڑی کمپنیاں ذہانت تک رسائی کی مالک ہوں۔ مستقبل چند کے لیے نہیں بلکہ سب کے ذریعے اور سب کے لیے تعمیر ہونا چاہیے۔”

فیڈ ایکس کے سی ای او، جناب راجیش سبرامنیم نے مصنوعی ذہانت کو خصوصاً عالمی سپلائی چینز کے تناظر میں آئندہ صنعتی دور کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا۔ کمپنی کی تبدیلی کے عمل پراجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ“اے آئی اب محض ایک رجحان نہیں رہا — یہ اگلا صنعتی نظام ہے۔ ذہانت کوئی اثاثہ نہیں، بلکہ بنیادی ڈھانچہ ہے۔”مواقع کے وسیع پیمانے کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا:“آئندہ پچاس برسوں میں ہماری امتیازی حیثیت اس بات سے طے ہوگی کہ ہم جدید تجارت کو چلانے والی ذہانت کو کس طرح مربوط کرتے ہیں، تعطل یا رکاوٹوں کی پیش گوئی کرتے ہیں، نظامِ ترسیل کو بہتر بناتے ہیں اور مضبوط و پائیدار سپلائی چینز تعمیر کرتے ہیں۔”

اڈانی ڈیجیٹل لیبزکے ڈائریکٹر جناب جیت اڈانی نے مصنوعی ذہانت کو قومی صلاحیت اوراہمیت کی حامل خودمختاری کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے توانائی، کمپیوٹ اور خدمات کی خودمختاری کو تین بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اے آئی کوڈ میں لکھی جاتی ہے، مگر چلتی بجلی پر ہے۔ اگر کسی ملک کا توانائی کا نظام کمزور ہو تو اس کا انٹلیجنس نظام بھی کمزور ہوگا۔”سب کے لیے سازگار اور خودمختار اے آئی بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ“اب سوال یہ نہیں رہا کہ کیا بھارت اے آئی کے دور میں حصہ لے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی کا یہ عہد اپنے بنیادی ڈھانچے ، اپنی ذہانت اور اپنی اقدار میں بھارت کی مہر لگانا ہوگا ؟”

کھوسلا وینچرز کے بانی جناب ونود کھوسلا نے گفتگو کا رخ فوری اور بڑے پیمانے پر قابلِ عمل ایسی ایپلی کیشنز کی طرف موڑا جو براہِ راست لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی اے آئی ٹیوٹرس، اے آئی ڈاکٹرس اور اے آئی زرعی مشاورتی خدمات کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب تک اے آئی کے فوائد بھارت کی آبادی کے نچلے پچاس فیصد تک نہیں پہنچتے، ہم اس کے حقیقی اثرات نہیں دیکھ سکیں گے۔”
عملی امکانات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ “مستقبل آج ہی ہمارے سامنے ہے۔ جس کام میں کبھی سیکڑوں ارب ڈالر لگتے تھے ، اب اسے کم لاگت پر وسیع پیمانے پر فراہم کیا جا سکتا ہے — اس طرح سے ہر بھارتی کے لیے تعلیم، صحت اور مہارت تک رسائی کئی گنا بڑھائی جا سکتی ہے۔”
اس اجلاس نے اس مشترکہ یقین کی عکاسی کی کہ اے آئی کا اگلا مرحلہ محض تکنیکی برتری سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ ملکیت، رسائی اور منصفانہ نفاذ سے بھی جڑا ہوگا۔ اوپن سورس خودمختاری اور خودمختار ڈھانچے سے لے کر انٹیلیجنس سپلائی چینز اور ہمہ گیر ڈیجیٹل خدمات سمیت، رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے — جہاں اسے ایسا اے آئی نظام تشکیل دینے کا موقع حاصل ہے جو جامع، مضبوط اور عالمی سطح پر مؤثر ہو۔
************
ش ح۔ش م ۔ ج ا
(U: 2763)
(ریلیز آئی ڈی: 2230612)
وزیٹر کاؤنٹر : 6