الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026کے موقع پر برطانیہ کے سابق وزیراعظم رشی سنک نے عالمی تکنیکی تبدیلی میں ہندوستان کے منفرد مقام کو اجاگر کیا


بلیچلے سے ہندوستان تک: عالمی اے آئی لیڈران کی انسانیت پر مبنی ذہانت کی نئی منزلوں کی جانب پیش قدمی

ہندوستان نے 1.4 ارب لوگوں کے لیے اے آئی کی بنیادیں استوار کیں: رشی سنک

اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں اے آئی، نیورو سائنس اور فزکس کے پروفیسر سوریہ گانگولی نے ذہانت کی ترقی کے لیے تین اہم محاذوں :ڈیٹا کی کارکردگی، توانائی کی بچت اور دماغ و مشین کا ملاپ کی نشاندہی کی


پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 8:48PM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی سمٹ 2026، جس کا افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھارت منڈپم، نئی دہلی میں کیا، میں دو پُراثر کلیدی خطاب کیے گئے جن  میں مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی پیش رفت کے طور پر نہیں، بلکہ معیشتوں، معاشروں اور انسانی حالات کی تشکیل کرنے والی ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر پیش کیا گیا۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سنک نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ساتھ آنے والی ذمہ داری پر روشنی ڈالتے ہوئے سیشن کا آغاز کیا۔ بلیچلے پارک میں ہونے والی پہلی اے آئی سیفٹی سمٹ کے پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے جدت طرازی اور تحفظ کے درمیان توازن کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت بہت سے کام کر سکتی ہے، لیکن یہ انسانی تجربے کے تجسس اور حیرت کا متبادل کبھی نہیں بن سکے گی۔‘‘ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی انقلاب انگیز طاقت بے مثال ہے۔ ٹیلی فون کو 100 ملین صارفین تک پہنچنے میں 75 سال لگے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی نے یہ سنگ میل صرف دو ماہ میں عبور کر لیا۔ تبدیلی کی یہ رفتار از سر نو تاریخ رقم کررہی ہے۔

رشی سنک نے اس عالمی تبدیلی میں ہندوستان کی منفرد پوزیشن کو اجاگر کیا۔ آدھار، یو پی آئی اور ہیلتھ اکاؤنٹس جیسے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ساتھ، ہندوستان نے 1.4 ارب لوگوں کے لیے اے آئی کو وسعت دینے کے لیے بنیادیں استوار کی ہیں۔ انہوں نے ملک کے پھلتے پھولتے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، بڑھتی ہوئی یونیکورن کمپنیوں اور سروَم اے آئی جیسی اختراعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی ’’اصل دوڑ‘‘ صرف نئی دریافتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے بڑے پیمانے پر استعمال کے بارے میں ہے۔

خوراک کے تحفظ سے لے کر صحت کی سہولیات اور تعلیم کے فرق تک کے عالمی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے، سنک نے دلیل دی کہ اے آئی بڑے پیمانے پر حل فراہم کرتی ہے۔ چاہے وہ کسانوں کو بااختیار بنانا ہو، زچگی کے دوران صحت کی دیکھ بھال ہو، یا انفرادی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا، اے آئی میں انسانیت کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے اور مواقع کی بے مثال برابری پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اس سمٹ کی تکنیکی گہرائی کو اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں اے آئی، نیورو سائنس اور فزکس کے پروفیسر سوریہ گانگولی نے مزید جلا بخشی، جنہوں نے ذہانت کے مستقبل کا ایک سائنسی روڈ میپ پیش کیا۔

پروفیسر گانگولی نے ایک حیران کن تضاد کی نشاندہی کی: اگرچہ اے آئی سسٹمز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لیکن ہمیں اب بھی اس بات کی بنیادی سمجھ نہیں ہے کہ وہ کام کیسے کرتے ہیں۔ دوسری طرف، انسانی دماغ، جو 50 کروڑ سال کے ارتقاء سے گزرا ہے، جدید اے آئی کے مقابلے میں ڈیٹا اور توانائی کے استعمال میں کہیں زیادہ مؤثرہے۔

انہوں نے ذہانت کو آگے بڑھانے کے لیے تین محاذوں- ڈیٹا کی کارکردگی، توانائی کی بچت اور دماغ و مشین کے امتزاج کا خاکہ پیش کیا۔

ڈیٹا کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے، گانگولی نے نیورل اسکیلنگ قوانین  کی وضاحت کرنے والی نئی نظریاتی پیش رفت پیش کی۔ یہ وہ مظاہر ہیں جو طویل عرصے سے مشاہدے میں تو تھے لیکن اے آئی کی کارکردگی کو کنٹرول کرنے والے ان اصولوں کو بہتر طور پر سمجھا نہیں گیا تھا۔ ان کی ٹیم کے حالیہ کام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح ڈیٹا کاخوش اسلوبی سے انتخاب سیکھنے کے عمل کو ڈرامائی طور پر تیز کر سکتا ہے، جس سے سست رفتار پاور لاز کو تیز تر ایکسپونینشل گینز میں بدلا جا سکتا ہے۔

توانائی کی بچت پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے انسانی دماغ کے 20 واٹ توانائی کے استعمال کا موازنہ اے آئی  سسٹمز سے کیا جنہیں لاکھوں واٹ درکار ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا مطالعہ کر کے کہ حیاتیات  کس طرح حساب کتاب  کو طبیعیات  کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے، گانگولی نے الگورتھم سے لے کر کوانٹم ہارڈ ویئر تک پورے ٹیکنالوجی اسٹیک کے ازسرنو تصور کی تجویز دی، جس سے وہ ابھر رہا ہے جسے وہ ’’کوانٹم نیورومورفک کمپیوٹنگ کہتے ہیں۔

شاید سب سے زیادہ حیران کن ان کا دماغ اور مشین کے امتزاج  کا وژن تھا۔ اعصابی سرکٹس کی کمپیوٹر پر ہو بہو ڈیجیٹل نقل تیار کر کے، محققین ادراک کی تشریح کر سکتے ہیں، بیماری کی حالتوں کا تجربہ کر سکتے ہیں اور یہاں تک کہ دماغ میں درست اعصابی پیٹرن دوبارہ تحریر کر سکتے ہیں۔ چوہوں میں بصری ادراک کو سمجھنے سے لے کر مرگی کے دوروں کو کنٹرول کرنے تک، اے آئی  اور نیورو سائنس کا یہ امتزاج ایک ایسے مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ذہانت کو بہتر طور پر سمجھا بھی جا سکے گا اور یہ علاج معالجے کے لحاظ سے زیادہ طاقتور بھی ہوگی۔

مجموعی طور پر، ان دونوں تقریروں نے اے آئی  کو ایک دور دراز کے نظریاتی تصور کے بجائے ایک فوری اور انقلاب انگیز قوت کے طور پر پیش کیا۔ ایک مقرر نے عالمی نظم و نسق ، اس کے نفاذ اور انسانی زندگی پر اثرات پر زور دیا جبکہ دوسرے نے ان سائنسی بنیادوں کی وضاحت کی جو آج کے ماڈلز سے آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہیں۔

******

ش ح۔ک ح

U. No. 2760


(ریلیز آئی ڈی: 2230602) وزیٹر کاؤنٹر : 4