الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ترقی پذیر ممالک کی قیادت کو اجاگر کیا گیا، جو جامع اور قابل اعتماد اے آئی کو فروغ دے  رہے ہیں


ٹوگو، انڈونیشیا اور مصر کے وزراء نے اے آئی کے اثرات کے بنیادی ستونوں کے طور پر شمولیت، بنیادی ڈھانچہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور اعتماد پر زور دیا

پینل نےاے آئی کی کامیابی کی پیمائش ماڈلز کے سائز سے نہیں بلکہ تبدیل شدہ زندگیوں سے کرنےپر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 7:45PM by PIB Delhi

بھارت اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ایک اعلیٰ سطحی پینل نے ٹوگو، انڈونیشیا اور مصر کے عالمی رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ اس بات پر غور کیا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انفراسٹرکچر کی تعمیر سے معاشرتی اثرات کی پیمائش تک کیسے منتقل ہو سکتی ہے۔ پینل کی بحث میں اپنانے کے خلا، عوامی مفاد کی ایپلیکیشنز، ضابطہ کار کا توازن اور وہ میٹرکس شامل تھے جو اگلے پانچ سالوں میں اے آئی کی کامیابی کو متعین کریں گے۔

Screenshot2026-02-19194633INFE.png

مسٹر نیزار پٹریا، نائب وزیر برائے مواصلات اور ڈیجیٹل امور، انڈونیشیا، نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر وسیع پیمانے پر بات ہو رہی ہے اور یہ روزمرہ زندگی میں بڑھتی ہوئی طور پر موجود ہے، لیکن اس کا اپنانا عالمی جنوبی ممالک میں یکساں نہیں ہے۔ عالمی اے آئی اثر کو “دس میں سے چھ” درجہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ رسائی کا مطلب صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مؤثر اور بامعنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے انڈونیشیا کی کوششوں کو اجاگر کیا جن میں اس کے وسیع جزائر پر مشتمل جغرافیہ میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھایا گیا ہے، جو اب تقریباً 80 فیصد آبادی تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ عوامی خدمات کو مؤثر طریقے سے فراہم کرنے کے لیے اے آئی کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے اوپر مربوط کرنا ضروری ہے، اور مثال کے طور پر دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی مدد کے لیے اے آئی سے چلنے والے تشخیصی آلات کے استعمال کا ذکر کیا تاکہ تپ دق (ٹی بی) کی شناخت کی جا سکے۔ انہوں نے توازن برقرار رکھنے والے ضابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا جو شہریوں کی حفاظت کرے لیکن اختراع  کو محدود نہ کرے، تحقیق اور ترقی میں زیادہ سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیلنٹ کو مضبوط بنانا، اور یہ یقینی بنانا کہ اے آئی سسٹم شفاف، جوابدہ اور قابل اعتماد ہوں۔انہوں نے کہا کہ اے آئی تک رسائی آسان ہونی چاہیے، مسائل حل کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے اور معاشرے کے لیے قابل اعتماد ہونی چاہیے۔

ٹوگو کی وزیر برائے عوامی شعبے کی کارکردگی اور ڈیجیٹل تبدیلی، محترمہ سینا لاسن نے کہا کہ افریقہ کے لیے اے آئی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ یہ صحت، تعلیم، زراعت اور عوامی انتظامیہ جیسے ترجیحی شعبوں میں حقیقی زندگی کے مسائل کے حل سے بھی متعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ عالمی اے آئی ٹیلنٹ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے اور بنیادی ڈھانچے اور کنیکٹوٹی کی کمیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ٹوگو کے وبائی مرض کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ کس طرح سیٹلائٹ تصاویر اور ٹیلی کام میٹا ڈیٹا پر اے آئی الگورتھم کو ناٖفذ کر کے مالی امداد کے مستحقین کو ترجیح دی گئی، جس سے مؤثر اور ہدفی تعاون یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹوگو نے اس کے بعد وزارت کے اندر ایک اندرونِ خانہ ڈیٹا سائنس ٹیم قائم کی تاکہ سرکاری شعبوں میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی حمایت کی جا سکے۔انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی کمی، محدود ادارہ جاتی صلاحیت اور مقامی زبانوں میں اے آئی ماڈلز کی ضرورت کو اثر کو بڑھانے میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔ پانچ سال بعد کی کامیابی کے منظرنامے میں، انہوں نے کہا کہ اے آئی ہر شہری کو مقامی زبانوں میں بات چیت کے انٹرفیس کے ذریعے عوامی خدمات تک بلا تعطل رسائی فراہم کرے، جسے قابل اعتماد اور جامع اے آئی سسٹمز سہارا دیں۔

جناب رفعت ہِنڈی، وزیر برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصرنے زور دیا کہ اے آئی کی کامیابی کو اس بات سے ماپا جانا چاہیے کہ کتنے فیصد شہری اعلیٰ معیار کی اے آئی سے چلنے والی خدمات خاص طور پر صحت، تعلیم اور سرکاری خدمات  سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے مصر کے اس طریقہ کار کو اجاگر کیا جس میں اے آئی کو استعمال کر کے کم سہولت یافتہ برادری تک طبی اسکریننگ اور تعلیمی مدد کی رسائی بڑھائی جا رہی ہے، تاکہ اے آئی صرف اعلیٰ اداروں اور بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کو تسلط کے اوزار کے بجائے ترقی کے اوزار کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے، اور اس کے لیے مشترکہ کمپیوٹ وسائل، عوامی خدمات کی ترجیح اور مضبوط قومی اے آئی اداروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر، کمپیوٹ صلاحیت اور مقامی زبان کے ماڈل میں موجود خلا کو دور کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اے آئی کا منصفانہ اور یکساں اپنانا ممکن ہو سکے۔

اپنے اختتامی کلمات میں نظامت کرتے ہوئے دیبجانی گھوش نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آج حکومتیں مصنوعی ذہانت کے بارے میں بہت حد تک یکساں سوچ رکھتی ہیں۔ اس کی کامیابی کا انحصار آپ کے انفراسٹرکچر کے سائز پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ کتنی زندگیاں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اور زندگیوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی ٹیکنالوجی قابلِ اعتماد ہو۔ اسے ابتدا ہی سے جامع انداز میں ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔ آپ کو صلاحیت سازی اور اختراع میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ سب ایک ہی سمت میں سوچ رہے ہیں، کیونکہ اس سے اجتماعی اقدام اور باہمی تعاون کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، اور میرا خیال ہے کہ یہی اس سمٹ کا اصل حاصل ہے۔

پینل نے اس نتیجے پر اتفاق کیا کہ اے آئی کی پیش رفت کی اصل پیمائش ماڈلز کے سائز یا کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کے پیمانے سے نہیں بلکہ تبدیل ہونے والی زندگیوں کی تعداد سے کی جانی چاہیے۔ بحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جامع ڈیزائن، اعتماد، ادارہ جاتی صلاحیت سازی، اختراع دوست ضابطہ کاری اور عالمی تعاون نہایت ضروری ہیں تاکہ اے آئی انسانیت کی منصفانہ اور ذمہ دارانہ خدمت کر سکے۔

*********************

 

UR-2762

(ش ح۔  ش آ۔م ش)


(ریلیز آئی ڈی: 2230515) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada