نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن نے ڈاکٹر ششی تھرور کی کتاب ’دی سیج وھو ری ایمجنڈ ہندوازم‘ دی لائف،لیسن اینڈ لگیسی آف سری نارائن گرو ‘کا اجرا کیا
بھارت کی تہذیبی یادداشت کو محفوظ رکھنےکے لیے روحانی مصلحین کی دستاویز کرنا ضروری ہے: نائب صدر
نائب صدر جمہوریہ نے بھارت کے روحانی ورثے کی عالمی رسائی کو بڑھانے کے لیے ڈاکٹر ششی تھرور کی ستائش کی
سری نارائن گرو کی تعلیمات سماجی انصاف کے لیے ایک روڈ میپ ہیں: نائب صدر
آدی شنکراچاریہ کے بغیر آج متحدہ بھارت نہ ہوتا: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 FEB 2026 7:28PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ششی تھرور کی تصنیف ’دی سیج وھو ری ایمجنڈ ہندوازم‘ دی لائف،لیسن اینڈ لگیسی آف سری نارائن گرو ‘ کا اجراء کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سری نارائن گرو ایک ایسے وقت میں ایک روحانی رہنما کے طور پر ابھرے جب سماج میں ذات پات کی تقسیم اور سماجی تفریق بہت گہرا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرو کا لافانی پیغام’ایک ذات، ایک مذہب، ایک خدا بنی نوع انسان کے لیے‘، نہ صرف ایک روحانی اعلان تھا بلکہ مساوات، وقار اور عالمگیر بھائی چارے کے لیے ایک انقلابی اپیل بھی تھی۔
نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سری نارائن گرو نےمندروں کے تقدس اور تعلیم کے فروغ جیسے اقدامات میں شمولیت کے ذریعے ناانصافی کو دانشمندی اور ہمدردی کے ساتھ چیلنج کیا ۔ پچھلے سال دسمبر میں اپنے سیواگیری مٹھ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے شیواگیری کو مقدس ترین مقامات میں سے ایک کے طور پر بیان کیا جو افراد کو ہر ایک کے ساتھ برابری اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ گرو کی تعلیمات سماجی انصاف کے لیے ایک روڈ میپ کے طور پر کام کرتی ہیں اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے اور جامع ترقی کو فروغ دینے کی کوششوں کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔
بھارت کے بھرپور روحانی ورثے پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے مشاہدہ کیا کہ سنتوں اور مصلحین جیسے آدی شنکراچاریہ، رامانوجچاریہ اور سری نارائن گرو نے اپنی روحانی تعلیمات کے ذریعے معاشرے کی تشکیل نو کی، ناانصافی کو چیلنج کیا، توہم پرستی کو دور کیا اور ہر شہری کے لیے وقار کو بحال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آدی شنکراچاریہ نہ ہوتے تو آج متحدہبھارت نہ ہوتا۔
کتاب کی تصنیف کے لیے ڈاکٹر ششی تھرور کی ستائش کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ یہ کامبھارت کے تہذیبی ورثے کی عالمی رسائی کو وسعت دے گا۔ انہوں نے ڈاکٹر تھرور کو ایک ممتاز سفارت کار، رکن پارلیمنٹ اور مصنف کے طور پر بیان کیا جنہوں نے واضح اور تاریخی گہرائی کے ساتھ عوامی گفتگو کو تقویت بخشی۔ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران ڈاکٹر تھرور کی طرف سے آل پارٹی وفد کی قیادت کو بھی نوٹ کیا تاکہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کے زیرو ٹالرنس کا متحد اور پرعزم پیغام پہنچایا جا سکے۔
نائب صدر جمہوریہ نے مشاہدہ کیا کہ یہ کتاب سری نارائن گرو کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالتی ہے، جن کی عزت نفس، ایماندارانہ محنت اور سماجی تبدیلی پر زور نے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنایا ہے۔ انہوں نے تعلیم، ادارہ سازی اور سماجی و اقتصادی ترقی کے ذریعے گرو کے مشن کو آگے بڑھانے میں 1903 میں قائم سری نارائن دھرم پرپلانا یوگم کے کردار پر روشنی ڈالی۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی یادداشت کو محفوظ رکھنے کے لیے روحانی اور سماجی مصلحین کی زندگیوں اور ان کی شراکت کو دستاویزی شکل دینا ضروری ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کتاب اسکالرز کو گہری تحقیق کرنے، نوجوانوں کو تنقیدی انداز میں سوچنے کی ترغیب دینے اور معاشرے کو ذمہ داری سے کام کرنے کی ترغیب دے گی۔
مساوات، اتحاد اور تعلیم کے آدرشوں کے لیے اپنے آپ کو دوبارہ سے وابستہ کرنے کے لیے ہر کسی سے اپیل کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سری نارائن گرو کا وژن، جسے ایس این ڈی پی تحریک سے تقویت ملی اور اس کتاب جیسے علمی کاموں کے ذریعے بیان کیا گیا، قوم کو انصاف، ہم آہنگی اور انسانی وقار سے جڑے معاشرے کی تعمیر کے لیے تحریک دیتا رہے گا۔
اس موقع پر موجود افراد میں رکن پارلیمنٹ اور کتاب کے مصنف ڈاکٹر ششی تھرور بھی موجود تھے۔ مسٹر ڈیوڈ ڈیوڈار، منیجنگ ڈائریکٹر، ایلیف بک کمپنی؛ معززاسکالرز ، اور دیگر معزز مہمان موجودتھے۔
******
(ش ح۔اص)
UR No 2745
(ریلیز آئی ڈی: 2230449)
وزیٹر کاؤنٹر : 11