الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

عالمی اے آئی رہ نما اور صنعت کے بڑے رہ نما ؤں نے بھارت اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں یکجا ہو کر بھارت کو ذمہ دار انہ اور جامع اے آئی انقلاب میں آگے رکھا ہے


مصنوعی ذہانت وکست بھارت 2047 کے لیے ایک تعین  کنندہ قوت ہے: مکیش امبانی

مصنوعی ذہانت کا انقلاب صنعتی انقلاب  سے وسعت اور رفتار میں آگے نکل سکتا ہے: ڈیمس ہسابس، سی ای او، ڈیپ مائنڈ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 6:51PM by PIB Delhi

 انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے حصے کے طور پر، ذمہ دارانہ، جامع اور بڑے پیمانے پر نفاذ کو یقینی بناتے ہوئے ، چار کلیدی سیشنز مکیش دھیرو بھائی امبانی، چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ؛ ڈیمس ہسابیس، سی ای او، ڈیپ مائنڈ ٹیکنالوجیز؛ وشال سکا، سی ای او، ویانائی سسٹمز انک؛ اور رشاد پریمجی، ایگزیکٹو چیئرمین، وپرو نے بھارت کو عالمی اے آئی تبدیلی میں آگے رکھنے کے لیے ایک مشترکہ وژن پیش کیا ۔

اپنے کلیدی خطاب میں، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش دھیرو بھائی امبانی نے اس سمٹ کو قوم کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا، ’’گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ بھارت کی ٹیکنالوجی کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، ایک ایسا لمحہ جب بھارت اے آئی کو وکست بھارت کے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ایک محرک قوت بنانے کا عزم کرتا ہے، یعنی 2047 تک، ہماری آزادی کی شاندار صد سالہ سالگرہ تک مکمل ترقی یافتہ ملک بننے کا خواب۔‘‘ طاقت کے ارتکاز کے بجائے جمہوریت پر زور دیتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا، ’’لیکن ایک اور راستہ بھی ہے: ایک ایسا مستقبل جہاں مصنوعی ذہانت دستیاب، سستی اور سب کے لیے فائدہ مند ہو۔ بھارت اس دوسرے مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔‘‘ انھوں نے خودمختار کمپیوٹ انفراسٹرکچر، گرین پاورڈ ڈیٹا سینٹرز اور ایج انٹیلی جنس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا، جس سے اے آئی بھارت کی اگلی ترقیاتی جست کا مرکز بن گیا ہے۔

ڈیمس ہیسابس، سی ای او، ڈیپ مائنڈ ٹیکنالوجیز، نے مصنوعی ذہانت کے سائنسی  امکانات اور دنیا کے اس مرحلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’اور اب 2026 میں، ہم ایک اور مرحلے پر ہیں جہاں اے جی آئی، یعنی مصنوعی عمومی ذہانت، افق پر ہے، شاید اگلے پانچ برسوں میں۔‘‘ آنے والی تبدیلی کی شدت بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ یہ صنعتی انقلاب کے اثر سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہوگا، لیکن یہ دس گنی رفتار سے واقع ہوگا۔‘‘ انھوں نے سائنسی ریاضت ، بین الاقوامی تعاون اور جامع مکالمے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو۔

وشال سکا، سی ای او،  ویانئی سسٹمز انک  نے اے آئی کے ذریعے پہلے ہی حاصل کردہ غیر معمولی پیداواری فوائد کو اجاگر کیا اور قناعت پسندی سے خبردار کیا۔ انھوں نے کہا، ’’جو لوگ اے آئی استعمال کرنا جانتے ہیں وہ اس میں حیرت انگیز طور پر مؤثر ہوتے ہیں۔‘‘  انھوں نے حفاظت، قابل اعتماد اور توانائی کے خدشات کو حل کرنے کی ضرورت  کو اجاگر کیا اور  بھارت پر زور دیا کہ وہ نہ صرف اے آئی کو اپنائے بلکہ اس کی اگلی نسل کی تعمیر کرے، اور مزید کہا، ’’ہمیں نہ صرف آج کی اے آئی پر عبور حاصل کرنا ہے بلکہ ہمیں اس سے آگے نکلنا بھی ہے۔‘‘

رشاد پریم جی، ایگزیکٹو چیئرمین، وپرو، نے عملی ایپلیکیشن اور انٹرپرائز اسکیل ٹرانسفارمیشن پر توجہ مرکوز کی اور کہا، ’’ نسلوںمیں  ایک ایسی ٹیکنالوجی سامنے آتی ہے جو نہ صرف ہماری صلاحیتوں کو بدل  سکتی ہے، بلکہ اصلاً ہمیں جو کرنا ہے اسے  بھی بدل   سکتی ہے۔ میرے لیے اے آئی یقینی طور پر وہی ٹیکنالوجی ہے۔‘‘ انھوں نے زور دیا کہ حقیقی دنیا کی تعیناتی سے قدر حاصل ہوگی، اور کہا، ’’ٹیکنالوجی صرف اس وقت قدر پیدا کرتی ہے جب اسے حقیقی دنیا کے مسائل کو ذمہ داری اور بڑے پیمانے پر حل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘‘ صحت کی دیکھ بھال، زراعت اور عوامی خدمات کی مثالوں سے استفادہ کرتے ہوئے، انھوں نے بھارت کو اطلاقی اے آئی جدت کے لیے ایک اہم ماحول کے طور پر پیش کیا۔

چاروں سیشنز نے مل کر سمٹ کے مرکزی پیغام کو مضبوط کیا: کہ بھارت کا اے آئی سفر عزم کو ذمہ داری، وسعت کو شمولیت، اور تکنیکی قیادت کو عالمی تعاون کے ساتھ جوڑنا چاہیے، تاکہ ذہانت مرکوز نہ ہو بلکہ قومی ترقی اور مشترکہ عالمی ترقی کے لیے وسیع پیمانے پر پھیلائی جائے۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 2741


(ریلیز آئی ڈی: 2230415) وزیٹر کاؤنٹر : 7