الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
جمہوریۂ استونیا کےصدر الار کریس نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جو مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری اور مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بناتی ہے
مصنوعی ذہانت جیسے تکنیکی اختراعات کو عوامی تعلیم کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے
کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور منصفانہ نفاذ کو ایک کلیدی ترجیح کے طور پر سامنے لایا گیا ہے
اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بااختیار بنانا اخلاقی تعلیمی نتائج کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم سمجھا گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2026 5:33PM by PIB Delhi
آج 18 فروری 2026 کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے تیسرے دن، ’’مصنوعی ذہانت اور تعلیم: اختراع سے اثر تک‘‘ کے عنوان سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس کی میزبانی استونیا کے سفارت خانے، نئی دہلی نے کی۔ اس اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ممالک کس طرح آزمائشی مرحلے سے آگے بڑھ کر عوامی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو نظامی سطح پر اپنانے کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔ گفتگو میں اجاگر کیا گیا کہ کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت پہلے ہی موجود ہے اور سب سے بڑا چیلنج اس کا ذمہ دارانہ، منصفانہ اور تعلیم مرکوز نفاذ بڑے پیمانے پر یقینی بنانا ہے۔

مقررین نے زور دیا کہ صرف ٹیکنالوجی تعلیم کو تبدیل نہیں کر سکتی، اساتذہ، تدریسی طریقہ کار، حکمرانی اور شواہد پر مبنی نفاذ میں سرمایہ کاری اس بات کے لیے ناگزیر ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے قابلِ پیمائش تعلیمی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اجلاس میں یہ اتفاق رائے بھی اجاگر کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے، اساتذہ کے انتظامی بوجھ کو کم کرنے، کثیر لسانی اور جامع تعلیم کو فروغ دینے، اور خاص طور پر کم وسائل اور کم رفتار والے انٹر کےمیں ڈیجیٹل فرق کو بڑھانے سے اجتناب کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
جمہوریۂ استونیا کے صدر الار کریس نے کہا کہ “مصنوعی ذہانت پہلے ہی ہمارے اسکولوں میں موجود ہے، طلبہ اور اساتذہ اسے روزانہ استعمال کر رہے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت استعمال کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے سب شعوری، تنقیدی اور ذمہ دارانہ طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس دورِ مصنوعی ذہانت میں سب سے زیادہ اہم یہ نہیں کہ مشینیں کتنی ذہین ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں استعمال کرنے والے لوگ کتنے ذہین ہیں۔ تعلیم اس کی کلید ہے اور ہم استونیا میں تیزی اور رفتار کے ساتھ اسکولوں اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت لانے کے لیے ایک مخصوص پالیسی متعارف کرا رہے ہیں۔”

صدر الارکریس نے مزید کہا کہ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کی خواندگی ہمارے جمہوری نظام کی بنیاد ہیں۔ ہم پالیسی کے مطابق کام کر رہے ہیں تاکہ استونیا کی اکثریت بنیادی مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کا علم حاصل کرے اور کم از کم نصف آبادی کو بین الاقوامی معیار کے درمیانے درجے کی مصنوعی ذہانت کی مہارتیں حاصل ہوں۔ تعلیمی شعبے میں ہمارا مصنوعی ذہانت کا فروغ اسی طرح سیکھنے کی خدمت پر مرکوز ہوگا جیسے ہماری حکمرانی میں ڈیجیٹل مصنوعی ذہانت عوام کی بہتر خدمت میں مدد فراہم کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر، مصنوعی ذہانت کی تعلیم شفاف اور اخلاقی ہونی چاہیے، تاکہ اعتماد پیدا ہو، جو سیکھنے کی آمادگی کی طرف لے جائے۔
جمہوریہ کینیا آئی سی ٹی، ای –گورننس اور ڈیجیٹل اکانوی کے او جی ڈبلیو سکریٹری این کیریما نے کہا کہ “ہم نے محسوس کیا ہے کہ اگر ہم ٹیکنالوجی کو اپنانے سے گریز کریں گے تو ہم پیچھے رہ جائیں گے، لیکن تعلیم میں سب سے مستحکم اور قابل اعتماد بنیادی ڈھانچہ استاد ہے۔ چاہے آپ کے پاس محدود کنیکٹیویٹی اور محدود آلات ہوں، لیکن آپ ہمیشہ کلاس روم میں استاد پائیں گے۔ اسی لیے اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت سب سے پہلے ہونی چاہیے۔ اگر ہم استاد کو بااختیار بنائیں گے، تو واضح اخلاقی مصنوعی ذہانت کا استعمال ممکن ہوگا، کیونکہ سب کچھ کلاس روم سے شروع ہوتا ہے۔”
یونیسیف کے تعلیم کے گلوبل ڈائرکٹر ڈاکٹر پی آ رابیلو بریٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ اختراعات، خصوصاً ٹیکنالوجی سے متعلقہ جیسے مصنوعی ذہانت، عوامی تعلیم کو مضبوط کریں نہ کہ اسے نظر انداز کریں۔ ایک طرف ہمیں مصنوعی ذہانت کے ظہور کے ساتھ پرجوش مواقع نظر آ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بڑے چیلنجز موجود ہیں: زیادہ تر کم اور درمیانے آمدنی والے ممالک میں تقریباً 70 فیصد دس سالہ بچے سادہ متن بھی نہیں پڑھ یا سمجھ سکتے۔ لہٰذا سیکڑوں لاکھوں بچے اس خطرے سے دوچار ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز میں بے پناہ ترقی کے سبب پیچھے رہ جائیں۔ جب ہم مصنوعی ذہانت اور تعلیم کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں معمولی فوائد کی نہیں، بلکہ اس بات کی گفتگو کرنی چاہیے کہ اختراع کس طرح ڈھانچہ جاتی ناانصافی کو تبدیل کر سکتی ہے۔ جو برابری پیدا کرتی ہے وہ ایک ایسا ایکو نظام ہے جو اساتذہ کی حمایت کرے، بچوں کا تحفظ کرے اور عوامی نظام کے لیے جوابدہ ہو۔”
فن لینڈ کے سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیی جنس کے پروفیسر پیٹری میللی ماکی نے کہاکہ “جب چیٹ جی پی ٹی متعارف ہوا تو ہر طرف خوف و ہراس پایا گیا۔ سب کو لگا کہ مصنوعی ذہانت تمام مضامین لکھ دے گی اور طلبہ کچھ نہیں سیکھیں گے، لیکن ہمیں یہ احساس ہوا کہ مضامین کا کام ہمیشہ سے آؤٹ سورس کیا جا سکتا تھا، بس اب یہ آسان ہو گیا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف دنیا میں ایک اور مضمون پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس عمل میں کچھ سیکھنا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے آلات ضرور استعمال کریں، لیکن یہ بھی یقینی بنائیں کہ سیکھنے کا عمل جاری رہے۔”
استونیا کے اے آئی لیپ کے سی ای او آئی وو یساک نے کہا کہ“یہ صرف وزارتِ تعلیم اور تحقیق کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک پورے ملک کا سوال ہے۔ ہمارے پاس اسٹونیا کی کمپنیاں اس پہل کی حمایت کر رہی ہیں، اور عوام میں ایسے پروگرامز کے لیے عمومی اعتماد موجود ہے۔ اگر اعتماد ہو تو لوگ اس پر عمل کریں گے۔ لیکن آپ اس اعتماد کو توڑ نہیں سکتے؛ آپ کو اسے قائم رکھنا ہوگا۔ اسی لیے اس کے پیچھے ایک مضبوط تدریسی منصوبہ موجود ہے جو ٹیکنالوجی کی حمایت سے چلتا ہے، نہ کہ ایک ٹیکنالوجی پروگرام جو تدریس کی حمایت سے چلایا جائے۔”
اس اجلاس نے 2026 کو عمل درآمد کے سال کے طور پر پیش کیا اور ہم آہنگ قومی حکمت عملی، استاد پر مرکوز صلاحیت سازی، ہم آہنگ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور مضبوط عوامی حکمرانی کے فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مصنوعی ذہانت تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جاسکے اور تمام طلبہ کے لیے منصفانہ نتائج فراہم کی جاسکے۔
********
ش ح۔م ع۔ ص ج
U NO: 2656
(ریلیز آئی ڈی: 2229783)
وزیٹر کاؤنٹر : 8