الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر نئی دہلی میں “مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ایز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری اور اس کے اپنانے کو آگے بڑھانا” کے عنوان سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا


ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے کہا ، "انڈیا اے آئی مشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ اے آئی کا معیشت کے حقیقی شعبوں ، خاص طور پر مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ایز پر مثبت اثر پڑے

ایم ایس ایم ای کے سکریٹری نے کہا ، "اے آئی صنعت اور آتم نربھر بھارت کے لیے ایک" عظیم قوت ضرب "ہے

این آئی ایس جی کے سی ای او جناب بھونیش کمار نے کہا کہ اے آئی ہندوستان کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے سفر میں کلیدی کردار ادا کرے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 FEB 2026 7:52PM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوسرے روز، آج نئی دہلی میں مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ایز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری اور اس کے مؤثر اپنانے کو فروغ دیناکے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی موضوعاتی اجلاس منعقد کیا گیا۔اس اجلاس میں حکومتِ ہند کی اہم وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)، مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی وزارت (ایم ایس ایم ای)، ٹیکسٹائل کی وزارت، اور دواسازی کا محکمہ (کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت) شامل تھے۔اس کے علاوہ پالیسی سازوں، صنعت کے نمائندوں اور ماہرینِ تعلیم نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سیشن کے دوران، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) اور انڈیا اے آئی مشنکے زیراہتمام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسمارٹ گورننس (این آئی ایس جی) اور ایتھینا انفوانومکس کی جانب سے مشترکہ طور پر کی گئی ایک جامع تحقیق کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔

یہ مطالعہ ٹیکسٹائل، دواسازی (بشمول طبی آلات) اور الیکٹرانکس جیسے اہم شعبوں میں ایم ایس ایم ایز کی مینوفیکچرنگ میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور تیز رفتار نفاذ کے لیے ایک عملی اور آپریشنل روڈ میپ کی تیاری پر مرکوز ہوگا۔ اس تحقیق کے نتائج ایم ایس ایم ایز کو اپنانے کے مختلف راستوں سے آگاہ کریں گے اور ایسی سرکاری مداخلتوں کی رہنمائی کریں گے جو براہِ راست قومی مینوفیکچرنگ پیداوار، برآمدی مسابقت اور روزگار کے نتائج پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ای سیکٹر میں پیداواری صلاحیت، کارکردگی اور مجموعی اہلیت میں اضافے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اے آئی مشن اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ مصنوعی ذہانت معیشت کے حقیقی شعبوں پر بامعنی اثر ڈالے، بالخصوص مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ایز کے فروغ میں۔

اپنے خطاب میں ایم ایس ایم ای کے سکریٹری جناب ایس سی ایل داس نے مصنوعی ذہانت کو ایک “عظیم قوتِ ضرب” قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ٹیکنالوجی ہندوستانی صنعت کو مصنوعی ذہانت پر مبنی تبدیلی کے ذریعے آتم نربھر بھارت کے ہدف کی جانب لے جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایس ایم ایز کو زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے شاپ فلور کی سطح پر اے آئی کا انضمام نہایت اہم ہے۔

اقتصادی سروے 2025–26 کے مطابق، ایم ایس ایم ای سیکٹر ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 31.1 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے، جو کل مینوفیکچرنگ آؤٹ پٹ کا 35.4 فیصد اور ملک کی مجموعی برآمدات کا 48.6 فیصد بنتا ہے۔ اس تناظر میں، جبکہ مینوفیکچرنگ 2047 تک 35 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے ہندوستان کے وژن کا ایک کلیدی محرک ہے، ٹیکنالوجی کے تیز تر نفاذ، مالی وسائل تک بہتر رسائی اور مضبوط مارکیٹ روابط مستقبل میں قومی اقتصادی ترقی میں ایم ایس ایم ایز کے کردار کو مستحکم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہوں گے۔

اس مطالعے کے تحت ملک بھر میں 350 سے زائد ایم ایس ایم ای مینوفیکچرنگ اکائیوں کا احاطہ کیا جائے گا، جس کے ذریعے شاپ فلور سے لے کر سینئر مینجمنٹ تک ایک باریک بین اور تجربے پر مبنی تفہیم حاصل کی جائے گی۔ تحقیق کا مقصد ایسی اے آئی مداخلتوں کی نشاندہی کرنا ہے جو یونٹ اکنامکس کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکیں، مصنوعات اور خدمات کی توسیع کو فروغ دیں، اور عالمی منڈیوں تک رسائی اور شرکت میں اضافہ کریں۔

این آئی ایس جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب بھونیش کمار نے اس مطالعے کے آغاز پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیق مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ایز میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے لیے ایک قابلِ عمل اور مؤثر روڈ میپ فراہم کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے ہندوستان کے سفر میں مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ٹیکسٹائل کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب روہت کنسل نے کہا کہ ہندوستان کے لیے مصنوعی ذہانت کے حقیقی فوائد فیکٹری کے فرش پر ہی حاصل ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی طویل مدتی اقتصادی تبدیلی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا مصنوعی ذہانت روایتی صنعتوں، جیسے ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کر سکتی ہے یا نہیں۔

دواسازی کے محکمے کے جوائنٹ سکریٹری جناب امان شرما نے نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت لاگت میں نمایاں کمی اور پیداواری معیار میں بہتری لا سکتی ہے، بالخصوص اس شعبے میں جہاں ایم ایس ایم ایز 80 فیصد سے زائد مینوفیکچرنگ اکائیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یہ موضوعاتی اجلاس انڈیا اے آئی سمٹ 2026 کا ایک اہم جزو تھا، جو مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان منظم مکالمے، علم کے تبادلے اور مربوط عملی اقدامات کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔

***


 

UR-2612

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2229352) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada