PIB Headquarters
ہندوستان کا ڈرون ماحولیاتی نظام
پالیسی سے لے کر عوامی خدمات میں تبدیلی تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 FEB 2026 10:09AM by PIB Delhi
اہم نکات
فروری 2026 تک ہندوستان نے 38,500 سے زائد رجسٹرڈ ڈرونز(یو آئی این)، 39,890 ڈی جی سی اے سے تصدیق شدہ ریموٹ پائلٹس اور 244 منظور شدہ تربیتی اداروں کے ساتھ ایک منظم ڈرون ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے۔
ایس وی اے ایم آئی ٹی وی اے(سواتوا) اسکیم کے تحت ڈرونز کے ذریعے 3.28 لاکھ دیہاتوں کا سروے کیا گیا ہے اور 31 ریاستوں کے 1.82 لاکھ گاؤوں کے لیے 2.76 کروڑ جائیداد کارڈ تیار کیے گئے ہیں۔
اپنی مدد آپ گروپ کی خواتین کو 1,094 ڈرونز تقسیم کیے گئے، جن میں نمّو ڈرون دیدی پہل کے تحت 500 ڈرون شامل ہیں، جس سے زرعی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔
تعارف
گزشتہ دو دہائیوں میں ڈرون ٹیکنالوجی دنیا بھر میں ایک تبدیلی لانے والے آلے کے طور پر ابھری ہے۔ حکومت ہند اور ترقیاتی شعبوں میں اس کی صلاحیتوں کا تیزی سے استعمال کیا جارہا ہے۔ جو ابتدا میں محدود تجرباتی استعمال تھا، وہ اب ایک منظم اور بڑھتے ہوئے ڈرون ماحولیاتی نظام میں بدل گیا ہے جو عوامی خدمات کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کے انتظام، زراعت اورقومی سلامتی کو نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے۔
آج ہندوستان میں ڈرونز زمین اور جائیداد کے سروے، درست زرعی کاشتکاری، بنیادی ڈھانچے،قدرتی آفات کے انتظام، ریلوے اور ہائی وے کی نگرانی اور دفاعی استعمالات وغیرہ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ایک جامع ماحولیاتی نظام کی پختگی کا مظاہرہ ہوتا ہے جس میں پیداواری، سافٹ ویئر اور اجزاء کے ڈویلپرز، خدمات فراہم کنندگان ، تربیتی ادارے، تصدیق شدہ پائلٹس، اسٹارٹ اپس، تحقیقاتی ادارے اور فعال ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شامل ہیں، جو ایک متحدہ ضابطہ کاری کے فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں۔
اس ماحولیاتی نظام کی ہمہ گیر توسیع ایک سلسلہ وار، دانستہ اور سہولت فراہم کرنے والے پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ حکومتِ ہند نے ترقی پسند اصلاحات، سادہ اور شفاف ضابطہ کاری اور مضبوط ڈیجیٹل حکمرانی کے نظام کے ذریعے اس تبدیلی کو تیز رفتار بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
لبرلائزڈ ڈرون رولز، ڈیجیٹل اسکائی کا سنگل ونڈو پلیٹ فارم، ہدف شدہ مہارت کو فروغ دینے کے پروگرامز اور مینوفیکچرنگ مراعات نے نہ صرف مداخلت کی رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کیا بلکہ ضابطہ جاتی تعمیل کو بھی آسان بنایا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ڈرون ٹیکنالوجی کو سرکاری اہم اسکیموں اور روزمرہ عوامی خدمات کے نظام میں مؤثر اور ہموار انداز میں شامل کرنا ممکن ہوا ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجیز کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی میں تبدیلی
ڈرون ٹیکنالوجی ہندوستان میں مؤثر اور ذمہ دار عوامی خدمات کی فراہمی کو ممکن بنانے والا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ سروے آف ولیجز اینڈ میپنگ ود امپرووئزڈ ٹیکنالوجی ان ولیج ایریاز (ایس وی اے ایم ٹی وی اے) اور پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا( پی ایم ایف بی وائی) جیسی اہم سرکاری اسکیموں میں شامل کیے جانے کے بعد ڈرونز حکمرانی میں تیزی، درستگی اور شفافیت کو بہتر بنا رہے ہیں۔ زمین کے سروے، فصلوں کے تخمینے،بنیادی ڈھانچوں کی نگرانی، قدرتی آفات کے انتظام اور دفاع میں اس کے استعمال سے نہ صرف خدمات کی فراہمی میں بہتری آرہی ہے، بلکہ سرکاری پروگراموں میں ڈرونز کے اپنانے میں بھی تیز ی آر ہی ہے، جس سے ہر سطح پر جدت اور کارکردگی کو فروغ مل رہا ہے۔
1.زراعت اور کسانوں کے خدمات: نومبر 2023 میں شروع کی گئی نومو ڈرون دیڈی اسکیم حکومت کی ایک نمایاں پہل ہے۔ اس اسکیم کا مقصد خواتین کے اپنی مدد آپ گروپس (ایس ایچ جی ایز) کو ڈرون فراہم کرنا ہے تاکہ جدید زرعی طریقوں کی حمایت کی جا سکے۔ اس کے اہم مقاصد میں فارم کی کارکردگی میں بہتری، فصل کی پیداوار میں اضافہ، ان پٹ کے اخراجات میں کمی اور خواتین کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔
|
نومو ڈرون دیڈی کے زراعت اور کسان خدمات پر اثرات
اس اسکیم کے آغاز کے بعد سے،معروف کھاد کمپنیوں کی جانب سے خواتین کے اپنی مدد آپ گروپس کو 1,094 ڈرونز تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں نمّو ڈرون دیدی پہل کے تحت فراہم کیے گئے 500 سے زائد ڈرونز شامل ہیں۔
نمّو ڈرون دیدی اسکیم روایتی اور محنت طلب طریقوں سے درست اور جدید زرعی طریقۂ کار کی جانب ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
من کی بات کے 110ویں قسط میں اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کی ایک ڈرون دیدی نے یہ دکھایا کہ کس طرح ڈرون کی تربیت نے ان کے اپنی مدد آپ گروپ کو کسانوں کو چھڑکاؤ کی خدمات فراہم کرنے، آمدنی میں اضافہ کرنے اور سماجی بااختیاری حاصل کرنے کے قابل بنایا۔
|
2.زمین کی نقشہ سازی: ڈرون ٹیکنالوجی سروے آف ولیجز اینڈ میپنگ ود امپرووائزڈ ٹیکنالوجی ان ولیج ایریاز(ایس وی اے ایم آئی ٹی وی اے) اسکیم کا مرکزی جزو ہے۔ یہ اسکیم اپریل 2020 میں شروع کی گئی تھی اور اسے وزارت پنچایتی راج، ریاستی حکومتوں اور سروے آف انڈیا کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ اس اسکیم کا مقصد دیہی آباد علاقے کے سروے کے لیے ڈرون پر مبنی نقشہ سازی کے ذریعے زمین کے تنازعات کو حل کرنا اور بینک قرض تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
|
ایس وی ایم آئی ٹی وی اےاسکیم کے اثرات
- اس اسکیم کے تحت تقریباً 3.44 لاکھ دیہاتوں کو کور کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- دسمبر 2025 تک، 3.28 لاکھ دیہاتوں میں ڈرون سروے مکمل ہو چکا ہے، جو کل ہدف کا تقریباً 95؍فیصدہے۔
- دسمبر 2025 تک 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 1.82 لاکھ دیہی علاقوں کے لیے 2.76 کروڑ جائیداد کے کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں۔
- مارچ 2025 تک، 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے تفاهمی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
|
3.قومی شاہراہ کی ترقی کے لیے فضائی نقشہ سازی: نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا(این ایچ اے آئی) تمام ہائی وے منصوبوں کے لیے ماہانہ ڈرون ویڈیو ریکارڈنگ لازمی قرار دیتی ہے۔ ٹھیکیداروں کو ضروری ہے کہ وہ موجودہ ماہ اور پچھلے ماہ کی فوٹیج دونوں این ایچ اے آئی کے ڈیٹا بیس پر اپلوڈ کریں تاکہ ہر مہینے اس کا موازنہ کیا جا سکے۔ نگرانی کرنے والے مشیر ان ریکارڈنگز کا تجزیہ کرتے ہیں اور ڈیجیٹل ماہانہ پیش رفت رپورٹس میں فیڈبیک فراہم کرتے ہیں، جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز فزیکل معائنوں کے دوران ان کی نظر ثانی کرتے ہیں تاکہ تضادات کی نشاندہی کی جا سکے۔ ڈیٹا لیک میں محفوظ ڈرون ویڈیوز مستقل ریکارڈ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں اور انہیں ثالثی ٹربیونلز اور عدالتوں میں تنازعات کے حل کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
4.آفات کے انتظام اور ہنگامی ردعمل میں ڈرونز کا استعمال: ڈرونز ہندوستان کو قدرتی آفات کے دوران بہتر ردعمل دینے میں مدد کر رہے ہیں۔ نارتھ ایسٹ سینٹر فار ٹیکنالوجی اپلیکیشن اینڈ ریچ(این ای سی ٹی اے آر) نے قدرتی آفات کی صورت حال کے لیے ایک خاص ڈرون سسٹم تیار کیا ہے۔ یہ ڈرون طویل وقت تک ہوا میں مستحکم رہ سکتا ہے اور بھاری سامان اٹھا سکتا ہے۔ اسے سیلاب، زمین کھسکنے اور دیگر آفات کے دوران متاثرہ علاقوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈرون آسمان سے براہ راست مناظر بھیجتا ہے، جوبچاؤ ٹیموں کو صورتحال کو تیزی سے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے تلاش اور بچاؤ کے کام میں تیزی اور بہتر ہم آہنگی آتی ہے۔
5.ریلوے ڈرون مانیٹرنگ: ریلوے کی وزارت نے تمام زونز اور ڈویژنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریلوے کے ٹریک، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کی بہتر نگرانی اور دیکھ بھال کے لیےیو اے وی ایز؍ڈرونزڈرونز استعمال کریں۔ مغربی وسطی ریلوے نے پہلے کیمرے خریدے،انہیں اپنے ڈویژنز میں آزمایا، جس سے دور دراز اور مشکل پہنچ والے علاقوں کا معائنہ ممکن ہوا اور ٹریک اور منصوبے کی نگرانی کی کارکردگی بہتری آئی۔ زونل ریلویز اور پبلک سیکٹر یونٹس نے بھی باقاعدہ دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے کے انتظام کی حمایت کے لیے یو اے وی نظام نصب کیے ہیں۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
ریوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) نے ریل یارڈز، اسٹیشن کے احاطے اور ریلوے ٹریک کے ساتھ سیکورٹی نگرانی کے لیے ڈرونز اپنانے شروع کیے ہیں۔ یہ ڈرونز حقیقی وقت کی ٹریکنگ، ویڈیو اسٹریمنگ اور فضائی نگرانی فراہم کرتے ہیں، جو بھیڑکے انتظام اور غیر قانونی داخلے کے خلاف کارروائیوں میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
|

6.دفاع میں ڈرونز: ڈرونز ہندوستان کے دفاعی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مسلح افواج کو سرحدوں کی نگرانی، خفیہ معلومات جمع کرنے اور درست حملے کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی ڈرونز نے دشمن کے ٹھکانوں کو محفوظ اور انتہائی درستگی کے ساتھ تباہ کیا۔ اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور خطرات پر فوری ردِعمل دینے کے لیے ڈرونز فضائی دفاعی نظاموں، ریڈار نیٹ ورکس اور کمانڈ سینٹرز کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرتے ہیں۔
ہندوستان میں ڈرونز مختلف شعبوں میں سماجی، اقتصادی اور ترقیاتی نتائج کو تبدیل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ زراعت میں ان کے استعمال سے خواتین کسان بااختیار ہوئیں اور خطرے کی بہتر تشخیص ممکن ہوئی، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور شہری منصوبہ بندی میں انہوں نے فعال نگرانی اور بہتر وسائل کے انتظام کو ممکن بنایا۔ آفات کے انتظام اور قومی سلامتی میں ڈرونز نے تیاری اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے۔ یہ تمام استعمالات مل کر ڈرون ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتے ہیں جو ایک وسیع پیمانے پر قابل اطلاق، مستقبل کے لیے تیار حل کے طور پر خدمات کی فراہمی کو نیا رنگ دے رہی ہے اور ہندوستان میں ذہین، زیادہ مضبوط، ور پائیدار حکمرانی کو فروغ دے رہی ہے۔
پالیسی، پروگراموں اور اصلاحات کے ذریعے ہندوستان میں ڈرون کے استعمال میں تیز ی لانا
حکومت ہند نے ڈرون کے استعمال اور میوفیکچرنگ کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی اور مالیاتی فریم ورک قائم کیا ہے۔ یہ اقدامات جدت کو فروغ دینے، ضابطہ جاتی تعمیل کو آسان بنانے اور ملکی پیداوار کو مضبوط کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
1.ڈرون ضابطہ 2021 اور ڈرون (ترمیمی) ضابطہ 2022 اور 2023: ڈرون ضابطہ 2021 اور2022 و 2023 میں کی گئی ترامیم کے ذریعے ہندوستان کے ڈرون ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر آزاد اور سہل بنایا گیا ہے۔
ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنایا گیا، فارموں کی تعداد 25 سے کم کر کے 5 کر دی گئی اور منظوری کی شرائط 72 سے گھٹا کر صرف 4 رہ گئی۔
فیس کو معقول بنایا گیا اور اسے ڈرون کے سائز سے الگ کر دیا گیا۔
500 کلوگرام تک وزن والے ڈرونز کے لیے شہری آپریشن کی اجازت دی گئی، جس سے تجارتی اور صنعتی استعمال میں وسعت آئی ہے۔
تقریباً 90 فیصد ہندوستانی فضائی حدود کو ڈرون آپریشن کے لیے گرین زون قرار دیا گیا، جس سے 400 فٹ تک پرواز کی اجازت حاصل ہوئی۔
روایتی پائلٹ لائسنس کی شرط کو ڈی جی سی اے کی جانب سے جاری کردہ ریموٹ پائلٹ سرٹیفکیٹ سے تبدیل کر دیا گیا۔
پاسپورٹ کی شرط ختم کر دی گئی اور پتے کے ثبوت کے ساتھ حکومت کی جانب سے جاری کوئی بھی شناختی کارڈ کو ڈرون چلانے کے لیے کافی قرار دیا گیا۔
مجموعی طور پر ان اصلاحات نے داخلے کی رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کیا، دیہی اور تجارتی دونوں سطحوں پر اپنانے کو فروغ دیا، اور ’ڈرون ایز اے سروس‘ماڈل کی ترقی کی حمایت کی۔

2.پیداوار سے متعلق حوصلہ افزائی(پی ایل آئی): ڈرون اور ڈرون پرزہ جات کے لیے پی ایل آئی اسکیم کا منظور شدہ بجٹ120 کروڑ روپے ہے۔ اس کا مقصد مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اعلیٰ قدر کی گھریلو پیدا وار کو فروغ دینا ہے۔ یہ اسکیم ہندوستانی اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ملکی ڈرون مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے قابل بناتی ہے۔
.3ڈرون پر جی ایس ٹی: ستمبر 2025 میں ڈرون پر جی ایس ٹی کو کم کر کے یکساں 5 فیصد کر دیا گیا۔ اس سے قبل 18 فیصد اور 28 فیصد کی ٹیکس شرحیں ختم کر دی گئی تھیں۔ یہ سادہ ٹیکس نظام ڈرون کے وسیع تجارتی اور ذاتی استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ نیکسٹ جن جی ایس ٹی اصلاحات ڈرون پائلٹ کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے فلائٹ اور موشن سیمولیٹرز پر بھی لاگو ہوتی ہیں، جس سے تربیتی اداروں کی لاگت کم ہوگی اور ڈرون ماحولیاتی نظام میں مہارت کی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔
.4ڈیجیٹل اسکائی، 2018 اور ای جی سی اے: ڈرون رجسٹریشن، ریموٹ پائلٹ سرٹیفکیشن، ٹائپ سرٹیفکیشن اور آر پی ٹی او اجازت نامے جیسی ضابطہ جاتی خدمات کو ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم سے ای جی سی اے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فلائٹ پلان اور فضائی حدود کے نقشے جیسی عملیاتی خدمات بدستور ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط ہیں۔
|
ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم کی اہم حصولیابیاں
مورخہ9 فروری 2026 تک، 38,575 ڈرون کامیابی کے ساتھ رجسٹر کیے جا چکے ہیں اور انہیں منفرد شناختی نمبر(یو آئی این) جاری کیے گئے ہیں۔
فروری 2026 تک، 39,890 ریموٹ پائلٹ سرٹیفکیٹس(آر پی سیز) جاری کیے جا چکے ہیں، جس سے ملک بھر میں تصدیق شدہ اور ضابطہ کے مطابق ڈرون آپریشن ممکن ہوئے ہیں۔
فروری 2026 تک، ڈی جی سی اے نے ملک بھر میں 244 ریموٹ پائلٹ تربیتی تنظیموں( آر پی ٹی او ایز) کو منظوری دے دی ہے، جس سے پائلٹ تربیت اور مہارت کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔
|
5.ماحولیاتی نظام کی ترقی اور صلاحیت سازی کے لیے نمایاں پروگرامز:
بھارت ڈرون شکتی، بھارت ڈرون مہوتسَو، اور ڈرون انٹرنیشنل ایکسپو جیسے پلیٹ فارمز ڈرون ایز اے سروس (ڈی اے اے ایس) اسٹارٹ اپس اور نئے کاروباری ماڈلز کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ مقامی ٹیکنالوجیز کو نمایاں کرتے ہیں اور اسٹارٹ اپس،ایم ایس ایم ای ایز، صنعت اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
- ڈی جی سی اےسے منظور شدہ تربیتی پروگرامز اور ریموٹ پائلٹ تربیتی ادارے(آر پی ٹی او ایز) ملک میں تصدیق شدہ ڈرون پائلٹس کے قومی پول میں اضافہ کر رہے ہیں۔
- ایس ڈبلیو اے وائی اے اے این(سیویان) غیر سرکاری ہوائی جہاز کے نظام(یو اے ایس) میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ایک صلاحیت سازی پروگرام ہے جو تربیت اور ہنر کی تخلیق کی حمایت کرتا ہے۔ اب تک 857؍ سے زیادہ پروگرام سے متعلق سرگرمیاں منعقد کی جا چکی ہیں، جس سے 26,000؍ سے زائد شرکاء مستفید ہوئے ہیں اور 337 تعاون ہوئے ہیں۔
- ڈورن ایپلیکیشن اور تحقیق کے لیے نیشنل انوویشن چیلنج (این آئی ڈی اے آر) طلباء اور محققین کو شامل کرتا ہے۔ یہ آفات کے انتظام اور درست زرعی کاشتکاری کے لیے خود مختار ڈرونز کو فروغ دیتا ہے۔ اس پروگرام میں40 لاکھ روپےکا انعامی پول موجود ہے اور یہ اسٹارٹ اپ انکیوبیشن کی حمایت کرتا ہے۔
ترقی پسند ضوابط، مالی مراعات اور مخصوص صلاحیت سازی اقدامات کے ذریعےہندوستان نے ایک جامع ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے جو ڈرون کے اپنانے اور مینوفیکچرنگ کو تیز کرتا ہے۔ ڈرون رولز کے تحت آسان شدہ تعمیل، پی ایل آئی کے ذریعے ملکی پیداوار کی حمایت، جی ایس ٹی میں کمی اور ڈیجیٹل اسکائی جیسے پلیٹ فارمز، ہنر کی ترقی اور جدت کے پروگراموں کے ساتھ مل کر، تجارتی، صنعتی اور سماجی سطح پر ڈرون کے وسیع استعمال کو ممکن بنا رہے ہیں اور ایک خودمختار اور مستقبل کے لیے تیار شعبے کو فروغ دے رہے ہیں۔
نتیجہ
ہندوستان کا ڈرون ماحولیاتی نظام پائلٹ منصوبوں سے نکل کر ایک مرکزی دھارے کے، جدت پر مبنی شعبے میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کی بنیاد ترقی پسند پالیسیوں، ضابطہ جاتی سہولت کاری اور ہدف شدہ مالی مراعات پر ہے۔ خواتین کی قیادت میں کاروبار، دیہی رسائی اور ملکی مینوفیکچرنگ کی حمایت کرنے والی پہلوں کے ذریعے حکومت نے ایک منظم فریم ورک تشکیل دیا ہے جو تکنیکی جدت اور وسیع پیمانے پر اپنانے دونوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ڈرون اب اہم شعبوں جیسےزراعت، زمین و جائیداد کے سروے، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی، آفات کا جائزہ اور عوامی خدمات کی فراہمی میں استعمال کیے جانے لگے ہیں، ، جو حکمرانی میں کارکردگی، شفافیت اور درستگی بڑھانے کی اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں مقامی مینوفیکچرنگ کی مسلسل توسیع، ریموٹ پائلٹس کے لیے مہارت کی ترقی اور ریاستی و مرکزی پروگراموں کے ساتھ انضمام ہندوستان کو سماجی و اقتصادی طورپر بااختیار بنانے ، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اور قومی سلامتی کے لیے ڈرون کے مؤثر استعمال کی مضبوط پوزیشن میں لا رہا ہے۔ بجٹ کی مختص رقم، جدت طرازی کے گرانٹس اور اسٹریٹجک تعیناتی سمیت بڑھتی ہوئی حکومتی معاونت کے ساتھ، ہندوستان بغیر پائلٹ والےہوائی نظاموں کے میدان میں عالمی رہنما بننے کے لیے تیار ہے اور ایک ایسا ماحولیاتی نظام فروغ دے رہا ہے جو تجارتی ترقی، تکنیکی خود انحصاری اور جامع ترقی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
حوالہ جات
Press Information Bureau
Lok Sabha
Rajya Sabha
Ministry of Information and Broadcasting
National Highways Authority of India
Ministry of Civil Aviation
Others
Click here for pdf file.
*********
ش ح۔ م ع ن۔ م ش
U.NO.2563
(ریلیز آئی ڈی: 2229043)
وزیٹر کاؤنٹر : 13