سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے تلنگانہ میں 80.01 کلومیٹر کی کل پروجیکٹ لمبائی اور 3175.08 کروڑ روپے کی کل سرمایہ لاگت کے ساتھ قومی شاہراہ 167 کو گڈے بیلور سے محبوب نگر تک، جو حیدرآباد-پنجی اقتصادی راہداری کا حصہ ہے، چار لین تک توسیع دینے کو منظوری دے دی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 FEB 2026 1:37PM by PIB Delhi

وزیراعظم نریندر مودی  کی صدارت میں کل کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے  تلنگانہ میں 80.01 کلومیٹر کی کل پروجیکٹ لمبائی اور 3175.08 کروڑ روپے کی کل سرمایہ لاگت کے ساتھ قومی شاہراہ 167 کو گڈے بیلور سے محبوب نگر تک، جو  حیدرآباد-پنجی اقتصادی راہداری کا حصہ ہے، چار لین  تک توسیع دینے کو منظوری دے دی ہے یہ منصوبہ این ایچ (O) اسکیم کے تحت ہائبرڈ اینوئیٹی موڈ(ایچ اے ایم) پر مکمل کیا جائے گا۔

اس وقت موجودہ این ایچ-167 پر گڈے بیلور سے محبوب نگر کے درمیان رابطہ سڑک کی ناقص صورتحال  اور شہری علاقوں میں ٹریفک کی شدید بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے سفر میں نمایاں تاخیر کا سامنا ہے۔ یہ شاہراہ گڈے بیلور، مگنور، مکتھل، ماریکل، دیورکدرا، جکلیر، یلیگندلا اور باندرپلی جیسے گنجان آباد قصبوں اور دیہات سے گزرتی ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے اس منصوبے کو چار لین معیار کے مطابق وسعت  دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔یہ منصوبہ ریاست تلنگانہ کے نارائن پیٹ اور محبوب نگر اضلاع کے لیے نمایاں فوائد فراہم کرے گا۔ اس سے مال برداری میں بہتری آئےگی، لاجسٹکس لاگت میں کمی آئے گی اور خطے میں سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

یہ منصوبہ دو بڑی قومی شاہراہوں، قومی شاہراہ 150 اورقومی شاہراہ167این، سے مربوط ہوگا، جس سے تلنگانہ بھر میں اہم معاشی، سماجی اور لاجسٹک مراکز تک بلا رکاوٹ رسائی ممکن ہوگی۔ مزید برآں، اپ گریڈ شدہ کوریڈور تین پی ایم گتی شکتی اکنامک نوڈز، نو سماجی نوڈز اور سات لاجسٹک نوڈز سے رابطہ فراہم کر کے خطے میں سامان اور مسافروں کی تیز رفتار نقل و حرکت  میں سہولت پیدا کرے گا۔

مکمل ہونے  کے بعد این ایچ-167 کی اپ گریڈیشن علاقائی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی، بڑے مذہبی اور معاشی مراکز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنائے گی اور تجارت و صنعتی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ 80.01 کلومیٹر طویل مجوزہ کنٹرولڈ ایکسیس چار لین منصوبہ تقریباً 14.4 لاکھ افراد کے لیے براہ راست اور 17.9 لاکھ افراد کے لیے بالواسطہ روزگار کے مواقع (پرسن ڈیز) پیدا کرے گا۔ اس کے علاوہ، مجوزہ کوریڈور کے اطراف میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث مزید روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ضمیمہ-I: پروجیکٹ کی تفصیلات

 

فیچر

تفصیلات

پروجیکٹ کا نام

حیدرآباد-پناجی اقتصادی راہداری پر گڈے بیلور سے محبوب نگر تک قومی شاہراہ 167 کو ریاست تلنگانہ میں 4 لین کے معیار تک چوڑا کرنا جس کی کل پروجیکٹ کی لمبائی 80.01 کلومیٹر ہے اور ہائبرڈ اینوئٹی موڈ(ایچ اے ایم) کے تحت 3175.08 کروڑ روپے کی کل سرمایہ لاگت ہے۔

راہداری

گڈے بیلور - حیدرآباد کا محبوب نگر سیکشن - پنجی اقتصادی راہداری

لمبائی (کلومیٹر)

(80.01بشمول 36.8 کلومیٹر سے زیادہ بائی پاس اور ریلائنمنٹ)

کل سول لاگت بشمول یوٹیلٹی شفٹنگ (کروڑ روپے)

1868.90

تعمیر سے پہلے کی سرگرمیوں کی لاگت (ایل اے) لاگت + دیگر لاگت

459.11

کل سرمایہ کاری لاگت (کروڑ روپے)

3175.08

موڈ

ہائبرڈ سالانہ موڈ (ایچ اے ایم)

مربوط اہم سڑکیں

قومی شاہراہیں 150 اورقومی شاہراہ167این

منسلک اقتصادی / سماجی / ٹرانسپورٹ نوڈ

اقتصادی نوڈس:

این آئی سی ڈی سی: حیدرآباد – بنگلوراین آئی سی ڈی سی

فارما اینڈ میڈیکل کلسٹر- حیدرآباد

حیدرآباد میں ایس ای زیڈ ایس

سماجی نوڈز:

امنگوں والے اضلاع – رائے چور، کئی سیاحتی اور مذہبی مقامت

لاجسٹک نوڈس:

ایئرپورٹ –1 (حیدرآباد)

ریلوے اسٹیشن-4

ایم ایم ایل پیز-2

مربوط بڑے شہر/قصبے

محبوب نگر، نارائن پیٹ، رائے چور، دیورکادرا، مکتھل اور حیدرآباد وغیرہ

روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت

14.4 لاکھ براہ راست اور 17.9 لاکھ بالواسطہ روزگار کے مواقع

مالی سال24-25 میں سالانہ اوسط روزانہ ٹریفک (اے اے ڈی ٹی)

17951 مسافر کار یونٹ (پی سی یو) کا اندازہ

***

ش ح-ا ع خ   ۔ر  ا

U-No- 2469


(ریلیز آئی ڈی: 2228107) وزیٹر کاؤنٹر : 7