خلا ء کا محکمہ
پارلیمارنی سوال :ہندوستان میں خلاء سے متعلق اسٹارٹ اپس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 12:49PM by PIB Delhi
عملے ، عوامی شکایات، پنشن اور وزیراعظم کے دفتر کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نےآج لوک سبھا میں تحریری جواب میں بتایا کہ رجسٹرڈ اسپیس اسٹارٹ اپس کی تعداد جو 2014 میں محض ایک تھی بڑھ کر اب تک 400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ 2016 میں اسٹارٹ اپ انڈیا پہل کے اعلان کے بعد، جس کا مقصد جدت کو فروغ دینا اور ملک میں مضبوط اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام تشکیل دینا تھا اور جس کے لیے مدد، فنڈنگ اور آسان انضباطی فریم ورک فراہم کیا گیا، ساتھ ہی اسپیس ڈومین سے متعلق اسٹارٹ اپس میں بھی شاندار ترقی ہوئی ہے۔ ملک میں2014 کے بعد نمایاں اسپیس اسٹارٹ اپس میں ایم ایس پکسل، ایم ایس دھرو ، ایم ایس اسکائی روٹ ایرو اسپیس ، ایم ایس اگنی کل کاسموس ، ایم ایس بیلاٹریکس ایرو اسپیس وغیرہ شامل ہیں۔
حکومت کی طرف سے اسپیس اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور سپورٹ کے لیے نافذ کی گئی اسکیموں، پالیسیوں اور ادارہ جاتی فریم ورک کی سالانہ تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
اسکیم/پالیسی
|
سال
|
|
1.
|
ہندوستانی خلائی پالیسی
|
2023
|
|
2.
|
لیبرٹیڈ ایف ڈی آئی پالیسی
|
2024
|
|
3.
|
اجازت کے لیے اصول، رہنما خطوط اور طریقہ کار
|
2024
|
|
4.
|
آئی این- اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم
|
2023
|
|
5.
|
آئی این- اسپیس پری انکیوبیشن انٹرپرینیورشپ (پی آئی ای) پروگرام
|
2024
|
|
6.
|
1000 کروڑ روپے کے وینچر کیپٹل فنڈ کا قیام
|
2024
|
|
7.
|
500 کروڑ روپے کےٹیکنالوجی اپنانے سے متعلق فنڈ(ٹی اے ایف کا قیام)
|
2025
|
|
8.
|
چھوٹے سیٹلائٹ لانچ وہیکل ( ایس ایس ایل وی) کی ایچ اے ایل کو ٹیکنالوجی کی منتقلی۔
|
2025
|
|
9.
|
پی پی پی ماڈل پر ارتھ آبزرویشن (ای او) سیٹلائٹ نکشتر کا قیام
|
2026
|
حکومت تمام اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبوں یعنی اپ اسٹریم، ڈاؤن اسٹریم اور مڈ اسٹریم میں خود انحصاری کے تئیں پرعزم ہے۔
حاصل شدہ کامیابیاں واضح طور پر نظر آ رہی ہیں، جس میں اسپیس ڈومین میں پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ تاہم اب تک حاصل کی جانے والی اہم حصولیابیاں درج ذیل ہیں:
- اسپیس اسٹارٹ اپس کی تعداد 400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
- اسپیس اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری 500 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
- دو پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں نے نومبر 2022 اور مئی 2024 میں اپنے لانچ وہیکلز کو سب اوربیٹل مدار میں ٹیسٹ کیا اور بھیجا۔
- کل25 پیلوڈز پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول ( پی او ای ایم) پر بھیجے جاچکے ہیں یا بھیجے جانے والے ہیں، جو این جی ای کو اپنے پیلوڈز کی اسپیس فلائیٹ کے قابل ہونے کی جانچ اور تصدیق کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
- کل 6 بھارتی غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) نے مدار میں 18 سیٹیلائٹس بھیجے ہیں۔
- پی پی پی ماڈل پر ارتھ آبزرویشن ( ای او) سیٹیلائٹ کنسٹلیشن کے قیام کا ایوارڈ، جدت کو فروغ دے گا اور ہماری بھارتی اسپیس ٹیک کمپنیوں پر عالمی اعتماد میں اضافہ کرے گا۔
- لانچ وہیکلز کی اعلیٰ تھرو پٹ کے ساتھ ایس ایس ایل وی کی ٹیکنالوجی منتقل۔
- 25 کمپنیاں پہلے ہی پی او ای ایم جیسے پلیٹ فارمز کا استفادہ کرتے ہوئے اپنے سیٹیلائٹس/سب سسٹمز کو اسپیس کے حقیقی ماحول میں ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
- ریاستی حکومت اسپیس کو ایک ابھرتا ہوا شعبہ سمجھ رہی ہے اور ترغیبی اسکیموں کے ذریعے اس ڈومین میں کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے فعال پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے۔
- بھارتی اسپیس کمپنیاں آہستہ آہستہ عالمی ایرو اسپیس اور اسپیس سپلائی چینز میں شامل ہونا شروع کر رہی ہیں۔
****
ش ح۔ ش م۔ ش ت
U NO:-2121
(ریلیز آئی ڈی: 2226298)
وزیٹر کاؤنٹر : 20