زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مکئی کی کاشت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 FEB 2026 6:36PM by PIB Delhi

مکئی کی کاشت میں مصروف کسانوں کا ڈیٹا مرکزی سطح پر محفوظ نہیں کیا جاتا۔ تاہم، تازہ ترین زرعی مردم شماری 2015-16 کے مطابق مکئی کی کاشت سے وابستہ آپریشنل ہولڈنگ کی ریاست وار تعداد ضمیمہ I میں دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مکئی کی کاشت کی رقبہ اور پیداواریت کے لحاظ سے سرفہرست علاقوں کی تفصیل ضمیمہ II میں فراہم کی گئی ہے۔

(c) تا (e): زراعت اور کسانوں کی بہبود کا محکمہ 28 ریاستوں اور 2 مرکز زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) میں قومی غذائی تحفظ و تغذیہ مشن (این ایف ایس این ایم) نافذ کر رہا ہے، جس کا مقصد رقبے میں توسیع اور پیداواریت میں اضافہ کے ذریعے چاول، گیہوں، موٹے اناج (مکئی اور جو)، غذائی اجناس (شری اَنّ) اور تجارتی فصلوں (کپاس، جوٹ اور گنّا) کی پیداوار بڑھانا ہے۔

این ایف ایس این ایم-موٹے اناج (مکئی اور جو) کے تحت سال 2020-21 سے 2024-25 تک فنڈ (مرکزی حصہ) کی تخصیص، اجرا اور اخراجات کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے:

 

(Rs In crores)

Year

Allocation

Release

Expenditure

2020-21

72.03

50.48

43.95

2021-22

66.21

23.55

28.90

2022-23

44.57

19.51

18.06

2023-24

68.68

39.32

28.76

2024-25

92.57

73.48

61.70

 

این ایف ایس این ایم-موٹے اناج (مکئی اور جو) کے تحت ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے ذریعے کسانوں کو فصل کی پیداوار اور تحفظ کی ٹیکنالوجیوں کے مظاہرے، تصدیق شدہ بیجوں کی تقسیم، مربوط غذائی اجزا اور انسداد آفات (کیڑوں) کے انتظامی اقدامات اور فصلوں کے نظام پر مبنی تربیتوں کے ذریعے کسانوں کی استعداد کار میں اضافہ وغیرہ کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

حکومت کسانوں کو مکئی کی کاشت کی ترغیب دینے اور منافع بخش قیمتیں یقینی بنانے کے لیے گزشتہ برسوں سے مکئی کے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا تعین کرتی آ رہی ہے۔ سال 2025-26 کے دوران مکئی کی ایم ایس پی بڑھا کر 2400 روپے فی کوئنٹل کر دی گئی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 7.8 فیصد زیادہ ہے۔ ریاستی حکومتیں مرکزی شعبہ جاتی اسکیم نیشنل ایگریکلچر مارکیٹ (ای-نام) کے ذریعے مکئی کی تجارت کو سہل بنانے اور ریگولیٹڈ مارکیٹ کمیٹیوں (آر ایم سی) میں بہتر قیمت یقینی بنانے کے لیے مکئی کے کاشتکاروں کی معاونت کر رہی ہیں۔

خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت ملک میں مکئی پر مبنی ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ کلسٹر اور مارکیٹ روابط کے فروغ کے لیے پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اور پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) جیسی اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ وزارت متعلقہ اسکیموں کے رہنما اصولوں کے مطابق ممکنہ کاروباری افراد کو مکئی پر مبنی پروسیسنگ یونٹ سمیت مختلف اقسام کی فوڈ پروسیسنگ صنعتیں قائم کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، آئی سی اے آر-آل انڈیا کوآرڈی نیٹڈ ریسرچ پروجیکٹ برائے مکئی کے مختلف مراکز بھی مختلف ریاستوں میں مکئی کی تحقیق و ترقی میں مصروف ہیں اور پیداوار میں اضافہ کے لیے مقامی حالات کے مطابق زیادہ پیداوار دینے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اقسام/ہائبرڈ کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ جہاں تک مکئی کی کاشت کے فروغ، پیداواریت میں بہتری اور توسیعی یا استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں کا تعلق ہے، تو 2014-25 کے دوران سنٹرل ورائٹی ریلیز کمیٹی کی جانب سے ملک کے مختلف زرعی ماحولیاتی علاقوں میں کسانوں کے کھیتوں پر کاشت کے لیے مکئی کی مجموعی طور پر 315 اقسام/ ہائبرڈ جاری کی گئی ہیں۔

 

ضمیمہ I

 

State-wise number of operational holdings engaged in cultivation of Maize

Sl. No

State Name

2015-16

1

A & N ISLANDS

2

2

ANDHRA PRADESH

3,20,522

3

ARUNACHAL PRADESH

87,814

4

ASSAM

68,474

5

BIHAR

43,17,309

6

CHANDIGARH

70

7

CHATTISGARH

3,32,217

8

D & N HAVELI

5

9

DAMAN & DIU

-

10

DELHI

414

11

GOA

-

12

GUJARAT

3,05,931

13

HARYANA

17,973

14

HIMACHAL PRADESH

6,50,011

15

JAMMU & KASHMIR

5,27,215

16

JHARKHAND

7,67,875

17

KARNATAKA

12,91,432

18

KERALA

3,021

19

LAKSHADWEEP

-

20

MADHYA PRADESH

14,78,284

21

MAHARASHTRA

10,66,819

22

MANIPUR

29,851

23

MEGHALAYA

1,06,445

24

MIZORAM

13,555

25

NAGALAND

1,17,525

26

ODISHA

4,05,415

27

PUDUCHERRY

-

28

PUNJAB

1,20,888

29

RAJASTHAN

15,05,234

30

SIKKIM

53,677

31

TAMIL NADU

6,28,958

32

TELENGANA

8,17,667

33

TRIPURA

11,309

34

UTTAR PRADESH

13,69,224

35

UTTARAKHAND

2,92,318

36

WEST BENGAL

2,22,812

ALL INDIA

1,69,30,266

Source:- As per Agriculture Census,2015-16

 

 

ضمیمہ II

 

Top State under maize cultivation during the last five years

(In terms of Area & Productivity)

2020-21

Sr. No.

State

Area

(In thousand Ha)

State

Productivity/Yield (In Kg/Ha)

1

Karnataka

1,726

Telangana

6,782

2

Madhya Pradesh

1,405

West Bengal

6,752

3

Maharashtra

1,182

Tamil Nadu

6,408

4

Rajasthan

993

Andhra Pradesh

5,917

5

Uttar Pradesh

773

Delhi

5,091

2021-22

1

Karnataka

1,592

Tamil Nadu

7,066

2

Madhya Pradesh

1,400

West Bengal

6,989

3

Maharashtra

1,251

Andhra Pradesh

5,553

4

Rajasthan

952

Telangana

5,403

5

Uttar Pradesh

747

Delhi

5,100

2022-23

1

Karnataka

1,912

Andhra Pradesh

7,138

2

Madhya Pradesh

1,448

Tamil Nadu

7,007

3

Maharashtra

1,345

West Bengal

6,285

4

Rajasthan

957

Bihar

5,854

5

Uttar Pradesh

891

Telangana

5,557

2023-24

1

Karnataka

1,972

West Bengal

6,633

2

Madhya Pradesh

1,543

Tamil Nadu

6,239

3

Maharashtra

1,326

Andhra Pradesh

6,225

4

Uttar Pradesh

1,104

Bihar

5,975

5

Bihar

956

Telangana

5,671

2024-25

1

Madhya Pradesh

2,303

West Bengal

6,999

2

Karnataka

1,914

Andhra Pradesh

6,510

3

Maharashtra

1,625

Bihar

6,101

4

Rajasthan

1,007

Telangana

5,860

5

Bihar

896

Tamil Nadu

5,487

 

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

10-02-2026

                                                                                                                                       U: 2080


(ریلیز آئی ڈی: 2226076) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी