نیتی آیوگ
نیتی آیوگ نے وکست بھارت اور کاربن کے صفر اخراج کے منظرناموں پر مطالعاتی رپورٹس جاری کیں
ہندوستان مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کی پاسداری کرے گا اور کاربن کے صفراخراج کے اہداف کو پورا کر سکتا ہے: ایم او ای ایف سی سی،سکریٹری
’وِکست بھارت @ 2047‘ تمام منظرناموں میں قابلِ حصول ہے
توانائی کی برقی کاری،توانائی کوماحول کے لئے سازگاربنانا، مشن لائف، رویّوں میں تبدیلی اور مدور معیشت کا فروغ ’کاربن کے صفر اخراج‘ (نیٹ زیرو)کے حصول کے لیے نہایت اہم اور فیصلہ کن عناصر ہیں
بھارت کی کوئلے کی کھپت 2047 تک بڑھتی رہے گی
تقریباً22 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس میں سے کم از کم 6 ٹریلین ڈالر بیرونی ذرائع سے آنے کی ضرورت ہے
بھارت صاف ستھری ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما بننے کے لیے پیش قدمی کرسکتا ہے
سال2047 کے بھارت کا 85 فیصد حصہ ابھی تعمیر ہونا ہے اور اسے ماحول کے لئے سازگاراور موسمیاتی لحاظ سے پائیدار انداز میں تعمیر کیا جا سکتا ہے
ہندوستان کا ترقیاتی ماڈل عالمی جنوب کے لیے ایک رول ماڈل بنے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2026 8:54PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ 9 اور 10 فروری 2026 کو ’وِکست بھارت‘ اورکاربن کے صفراخراج(نیٹ زیرو) کی جانب ممکنہ منظرناموں پر مبنی گیارہ مطالعاتی رپورٹس جاری کر رہا ہے۔ ان میں سے پہلی تین رپورٹس 9 فروری 2026 کی دوپہر نئی دہلی کے امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جاری کی گئیں۔
گیارہ رپورٹس میں ترقی کے منظرناموں کا جائزہ لینے کے لیے ہندوستان کی پہلی حکومت کی زیرقیادت، کثیر شعبہ جاتی، مربوط مطالعہ کے نتائج کی تفصیل فراہم کی گئی ہے جو کہ عزت مآب وزیر اعظم کے ویژن وکست بھارت 2047 کو پورا کرتی ہے اور دوسری جانب اس سے 2070 تک خالص گرین ہاؤس گیس (جی ایچ جی) اخراج کو صفر تک لانے کے ہدف کو بھی بیک وقت حاصل کیا جا سکتا ہے۔
نیتی آیوگ کا یہ مطالعہ منظرنامہ جاتی تجزیاتی ماڈلنگ پر مبنی ہے، جس میں معاشی ترقی، بھارت کی ترجیحی ترقیاتی ضروریات اور موسم سے م تعلق عہد کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس مطالعے کی رہنمائی دس بین وزارتی ورکنگ گروپس نے کی، جنہوں نے طویل مدتی منتقلی کے منظرناموں کا مختلف اہم شعبوں میں جائزہ لیا۔ ان شعبوں میں منتقلی کے میکرو معاشی پہلو، بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت، عمارتیں اور زراعت، موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل، اہم معدنیات، تحقیق و ترقی اور مینوفیکچرنگ، نیز اس منتقلی کے سماجی اثرات شامل ہیں۔نیتی آیوگ نے یہ جامع اور ہمہ گیر جائزہ طویل مدتی پالیسی منصوبہ بندی کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کے مقصد سے انجام دیا ہے۔
آج کی تقریب میں درج ذیل رپورٹس جاری کی گئیں:
- ’وِکست بھارت‘ اور کاربن کے صفراخراج(نیٹ زیرو) کی جانب ممکنہ منظرناموں پر مبنی مطالعاتی رپورٹ: ایک جامع جائزہ (جلد اوّل)
ترکیبی (سنتھیسس) رپورٹ نیتی آیوگ کی جانب سے جانچے گئے ترقیاتی منظرناموں سے حاصل اہم نتائج کا جامع خلاصہ پیش کرتی ہے۔ ان منظرناموں میں تاریخی رجحانات، موجودہ پالیسیوں اور اضافی پالیسی اقدامات کو مدِنظر رکھا گیا ہے، جن کا مقصد برق کاری کی مانگ کو تیز کرنا، مدور معیشت کو فروغ دینا، توانائی کی کارکردگی میں بہتری لانا، کم کاربن ٹیکنالوجیز اور ایندھن کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بنانا اور انسانی رویّوں میں مثبت تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
- ’وِکست بھارت‘ اور کاربن کے صفراخراج کی جانب ممکنہ منظرنامے: میکرو معاشی اثرات (جلد دوم)
مذکورہ رپورٹ مختلف ترقیاتی منظرناموں کے جی ڈی پی کی نمو، سرمایہ کاری، تجارت، روزگار اور پبلک فائنانس پر پڑنے والے میکرو معاشی اثرات کی تفصیل پیش کرتی ہے اور بھارت کے ترقیاتی سفر میں موجود ممکنہ سمجھوتوں اور باہمی ہم آہنگیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے زراعت، بنیادی ڈھانچے اور صحت کو درپیش میکرو معاشی خطرات کو بھی اجاگر کیاگیا ہے، جن میں کاربن سے متعلق بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہیں۔
- ’وِکست بھارت‘ اورکاربن کے صفر اخراج(نیٹ زیرو) کی جانب ممکنہ منظرنامے: مالیاتی ضروریات (نویں جلد)
یہ رپورٹ بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعت کے اہم شعبوں میں بھارت کی سرمایہ کاری کی ضروریات کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کے تعلق سے کیاگیا مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ نیٹ زیرو منظرنامے کے تحت 2070 تک 22.7 ٹریلین امریکی ڈالر کی غیر معمولی سرمایہ جاتی فراہمی درکار ہوگی، جس میں 6.5 ٹریلین امریکی ڈالر کے متوقع مالیاتی خلا کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں گھریلو مالیاتی اصلاحات اور عالمی سرمائے کے ساتھ مضبوط تر انضمام کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے اجرا کی تقریب میں نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب سمن بیری،نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر اروند وِرمانی، نیتی آیوگ کے سی ای او جناب بی وی آر سبرامنیم،ماحولیات، جنگلات اورآب و ہوا کی تبدیلی کے محکمہ کے سیکریٹری جناب تنمے کمار اوربھارتی حکومت کے خزانہ کی وزارت کے چیف اقتصادی صلاح کار ڈاکٹر وی آننتھا ناگیشورن موجود تھے۔
تینوں رپورٹس کے اجرا کے بعد ڈاکٹر وی اننتھا ناگیشورن کے زیر اہتمام’’ایمبیشن ٹو ایکشن: بیلنسنگ گروتھ اینڈ گرین ٹرانزیشن‘‘ کے عنوان سے ایک پینل مباحثہ منعقد ہوا ۔ پینل میں ڈاکٹر کیرت پاریکھ ، چیئرمین ، انٹیگریٹڈ ریسرچ اینڈ ایکشن فار ڈیولپمنٹ ؛ ڈاکٹر سٹیفن ہالگٹے ، اعلیٰ اقتصادی صلاح کار ، کلائمیٹ ، ورلڈ بینک گروپ ؛ اور انڈین شماریاتی انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ای سوماناتھن شامل تھے ۔
اس موقع پر نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب سمن بیری نے اس بات کو جاگر کیا کہ:“2070 تک دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی حیثیت سے بھارت کو نہ صرف اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود بلکہ اُس دنیا کے مستقبل کی بھی فکر کرنی ہوگی جس میں وہ آنے والی دہائیوں میں زندگی گزاریں گے۔ اسی تناظر میں 2070 تک کاربن کے صفراخراج(نیٹ زیرو) کا ہدف بھارتی متعلقہ فریقوں کے لیے ’وِکست بھارت 2047‘ سے آگے کی دنیا کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے اپنے ترقیاتی راستے، بالخصوص عالمی جنوب کے ممالک کے لیے، ایک اثر انگیز مثال ثابت ہوں گے۔ میں نیتی آیوگ کی ٹیم کوبھارتی وزیرِاعظمِ ہند کے وژن اور عزم کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے تکنیکی طور پر قابلِ عمل راستوں کے تفصیلی تجزیے اور بالخصوص اس سفر کے لیے درکار مالی، تکنیکی اور سفارتی وسائل کی نشاندہی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”
نیتی آیوگ کے سی ای او جناب بی وی آر سبرامنیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ:“کاربن کے صفر کے اخراج کی حکمتِ عملی نہایت سادہ ہے۔ پہلی، توانائی کے استعمال کی برق کاری۔ دوسری، ماحول کے لئے سازگار اور صاف بجلی کی فراہمی۔ تیسری، مشن لائف کے ذریعے توانائی کی مانگ کو کنٹرول میں رکھنا۔ چوتھی، مدور معیشت اور توانائی کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنا اور آخر میں، کم لاگت بیرونی مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ میں واضح طور پر کہنا چاہوں گا کہ 2047 تک بھارت میں کوئلے کا استعمال بڑھے گا، تاہم اسی دوران توانائی کی شدت میں کمی آئے گی اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی نیٹ زیرو کے اہداف بھی حاصل کیے جائیں گے۔ بھارت صاف ٹیکنالوجیز میں عالمی قیادت کے لیے براہِ راست پیش قدمی کرسکتا ہے۔ 2047 کا بھارت ابھی 85 فیصد تعمیر ہونا ہے اور اسے ماحول کے لئے سازگار انداز میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔”
ماحولیات، جنگلات و آب ہواکی تبدیلی کے محکمہ کے سیکریٹری جناب تنمے کمار نے کہاکہ:“بھارت مشترکہ مگر مختلف ذمہ داری کے اصول کی پاسداری کرے گا اور نیٹ زیرو کے اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔”
بھارتی حکومت کے خزانے کی وزارت کے اعلیٰ اقتصادی صلاح کارڈاکٹر وی اننت ناگیشورن نے اس بات کا اعتراف کیاکہ:“نیتی آیوگ نے ایک جامع اور نہایت سخت گیر مطالعہ انجام دیا ہے جو ایک معیار کی حیثیت اختیار کرے گا اور ’وِکست بھارت‘ اور ’نیٹ زیرو‘ پر مستقبل کی گفتگو کے لیے نقطۂ آغاز فراہم کرے گا۔ یہ رپورٹس پالیسی سازوں اور محققین کے لیے ان دوہرے اہداف کے حصول کی سمت بھارت کے سفر کا تعین کرنے میں ایک بیش قیمت اور مؤثر وسیلہ ہیں۔




مکمل رپورٹس کے لئے دیئے گئے لنک پر کلک کرسکتے ہیں:
1.https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-02/Scenarios-Towards-Viksit-Bharat-and-Net-Zero-%20An-Overview-Vol1.pdf
2.https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-02/Scenarios-Towards-Viksit-Bharat-and-Net-Zero-Macroeconomic-Implications-Vol2.pdf
3.https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-02/Scenarios-Towards-Viksit-Bharat-and-Net-Zero-Financing-Needs-Vol9_0.pdf
*****
( ش ح ۔ ش م ۔ م ا )
Urdu.No-2000
(ریلیز آئی ڈی: 2225724)
وزیٹر کاؤنٹر : 5