سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت کے کوانٹم مستقبل کا آغاز امراوتی سے ہورہاہے کیونکہ ’’ قومی کوانٹم مشن ‘‘ ریاست کو ایک اسٹریٹجک اسپرنگ بورڈ کے طورپر قائم کررہاہے : ڈاکٹر جتیندر سنگھ
’’امراوتی کوانٹم سینٹر‘‘ کے سنگِ بنیاد کی رسم ادا
بھارت 6 ہزار کروڑ روپے کے ’’قومی کوانٹم مشن‘‘ کے ساتھ چنندہ ممالک میں شامل؛ امراوتی سے آغازنے بھارت کے عالمی کوانٹم عزائم کو مزید تقویت دی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت کا ہدف 1,000 کیوبٹس اور 2,000 کلو میٹر طویل کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورک قائم کرنا؛ کوانٹم ٹیکنالوجی دفاع، سائبر سکیورٹی اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لائے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سترہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں کے 43 اداروں پر محیط ’’قومی کوانٹم مشن‘‘، ’’ مکمل نظامِ حکومت اور مکمل قومی فریم ورک ‘‘کے تحت امراوتی کوانٹم ویلی کو طاقت فراہم کرے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 FEB 2026 2:12PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز، وزیراعظم دفترکے دفترمیں وزیرمملکت ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج اعلان کیا کہ ’’یہ محض ایک عمارت کا سنگِ بنیاد نہیں، بلکہ بھارت کے کوانٹم مستقبل کا سنگِ بنیاد ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بات آندھرا پردیش کے شہر امراوتی میں امراوتی کوانٹم ویلی کی بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر موصوف نے کوانٹم ٹیکنالوجی کو ایک انتخاب کے بجائے اسٹریٹجک ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت آنے والے عشروں میں اپنے مواصلاتی نظام، دفاعی ڈھانچے، صحت کے شعبے میں جدت، اور عالمی تکنیکی حیثیت کو محفوظ بنانا چاہتا ہے تو اس شعبے میں قیادت کرنا اس کے لیے ناگزیر ہے۔
امراوتی کوانٹم ویلی کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں آندھرا پردیش کے وزیرِاعلیٰ جناب این چندرابابو نائیڈو، ریاستی وزیر برائے آئی ٹی، الیکٹرانکس اور تعلیم جناب نارا لوکیش، حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر پروفیسر اجے کمار سود، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر ابھے کرندیکر، آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی، صنعت کے سینئر رہنما جن میں ڈاکٹر امیت سنگھی (آئی بی ایم ریسرچ انڈیا)، ڈاکٹر ہیرک وِن (ٹی سی ایس)، جناب ایم وی ستیش (ایل اینڈ ٹی) شامل تھے، کے علاوہ ریاستی حکومت کے اعلیٰ افسران، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر سنگِ بنیاد کی تختی کی نقاب کشائی، امراوتی کوانٹم ویلی کے لوگو کی رونمائی، آئی بی ایم اور ٹی سی ایس کی کوانٹم کلاؤڈ سروسز کا آغاز، آئی بی ایم–ٹی سی ایس کوانٹم انوویشن سینٹر کے قیام، کوانٹم ٹیلنٹ ہب کے اعلان، ایس آر ایم یونیورسٹی کی جانب سے کوانٹم ریفرنس فسیلٹی، کوانٹم سیف ایپلی کیشنز اقدام اور نو صنعتی شراکت داروں کے ساتھ متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کے تبادلے کا اعلان کیا گیا، جو صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے مابین مربوط شراکت داری کی ایک نمایاں مثال ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آندھرا پردیش کے وزیرِاعلیٰ جناب این چندرابابو نائیڈو کی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایسا رہنما قرار دیا جو ’’کل میں جیتا ہے اور پرسوں کے خواب دیکھتا ہے‘‘۔ انہوں نے حیدرآباد کے ہائی ٹیک سٹی میں اپنی پہلی مدت کار کے دوران وزیر اعلیٰ کی ٹیکنالوجی پر مبنی طرزِ حکمرانی سے اپنی ابتدائی واقفیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران آندھرا پردیش میں نظر آنے والی تیز رفتار ترقی دراصل اشتراکی وفاقیت کی حقیقی روح کی عکاس ہے، جسے وزیر اعظم جناب نریندر مودی ’’ڈبل انجن‘‘ طرزِ حکمرانی قرار دیتے ہیں، یعنی مرکز اور ریاست کے درمیان ہم آہنگی۔
گزشتہ ہفتے اپنے وشاکھاپٹنم کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے نیشنل سینٹر فار اوشن سائنسز کے طویل عرصے سے زیرِ التوا منصوبے کی مثال دی، جس کا تصور 2006 میں پیش کیا گیا تھا اور جو تقریباً دو دہائیوں تک تعطل کا شکار رہا۔ موجودہ ریاستی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ منصوبہ چند ہی مہینوں میں مکمل کر لیا گیا۔ یہ مرکز بھارت کے ڈیپ اوشن مشن کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہوگا اور وزیر اعظم کی جانب سے لال قلعے سے پیش کیے گئے بلیو اکانومی کے وژن کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج بھارت اُن چند منتخب ممالک میں شامل ہے جن کے پاس ایک باقاعدہ قومی کوانٹم مشن موجود ہے۔ تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے کی خطیر رقم کے ساتھ یہ مشن 17 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 43 اداروں پر محیط ہے، جسے چار موضوعاتی ہبز کے ذریعے منظم کیا گیا ہے۔ یہ ہبز کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن، کوانٹم سینسنگ و میٹرولوجی، اور کوانٹم مٹیریلز و ڈیوائسز پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ قومی اہداف میں آئندہ آٹھ برسوں کے اندر ایک ہزار فزیکل کیوبٹس تک کے کوانٹم کمپیوٹرز کی تیاری، محفوظ زمینی کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورکس کا قیام، طویل فاصلے کی کوانٹم مواصلات کو ممکن بنانا اور دو ہزار کلو میٹر کے دائرے میں بین شہری کوانٹم کی ڈسٹری بیوشن کا حصول شامل ہے۔
تقریب میں موجود طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے وضاحت کی کہ کوانٹم ٹیکنالوجی آئندہ صنعتی انقلاب کا مرکز کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دور میں، جہاں مخالفین کوانٹم کمپیوٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہوں، روایتی کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی نظام غیر محفوظ رہیں گے۔ ان کے مطابق کوانٹم انکرپشن ڈیٹا کو تقریباً ناقابل تسخیر بنا دے گی، جسے توڑنے کے لیے کافی طویل وقت درکار ہوگا۔ دفاع اور سائبر سکیورٹی کے میدان میں یہ ٹیکنالوجی بے مثال اسٹریٹجک تحفظ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے صحت کے شعبے میں انقلابی اطلاقات کا بھی ذکر کیا، جن میں ایسی دقیق ریڈی ایشن تھیراپیز ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو بغیر کسی نقصان کے رسولیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اعضا کی حرکت کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرتی ہیں اور مریضوں کی تیز تر بحالی کو ممکن بناتی ہیں۔ ان کے مطابق کوانٹم ٹیکنالوجی اسی طرح سیٹلائٹ مواصلات، محفوظ مواصلاتی ڈھانچے اور جدید سینسنگ صلاحیتوں کی بھی نئی تشریح کرے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگرچہ بھارت نے بعض ممالک کے مقابلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب میں نسبتاً دیر سے قدم رکھا تھا، مگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں وہ اس تاخیر کو دہرانا نہیں چاہتا۔ مصنوعی ذہانت، بایو ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور ڈیپ اوشن ایکسپلوریشن جیسے متوازی مشنز کے ساتھ بھارت خود کو آئندہ عالمی تکنیکی لہر کی قیادت کے لیے تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں اعلان کردہ بایوفارما شکتی اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت بتدریج بایو ٹیکنالوجی، ری جنریٹو سائیکلز، جینیاتی علوم، سافٹ ویئر پر مبنی نظاموں اور کوانٹم کمپیوٹنگ کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
وزیر موصوف نے آگاہ کیا کہ بھارت میں کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبے میں پہلے ہی بی ٹیک کے ضمنی کورسز متعارف کرائے جا چکے ہیں اور اب ایم ٹیک پروگرامز کے آغاز کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیرِاعلیٰ کے ساتھ آندھرا پردیش میں منظم کوانٹم تعلیمی پروگرامز شروع کرنے کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جنہیں تربیت یافتہ اساتذہ اور ادارہ جاتی اشتراک کے ذریعے تقویت دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جدید فیبریکیشن سہولیات اور مرکزی تحقیقی انفرا اسٹرکچر قائم کیے جا رہے ہیں، جو اسٹارٹ اپس، محققین اور تعلیمی اداروں کے لیے دستیاب ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے آئی آئی ٹی مدراس کی جانب سے شروع کیے گئے تحقیقی پارک کے پیش رفتی ماڈل کو بھی سراہا، جسے اب ملک بھر میں اپنایا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ علیحدہ علیحدہ خانوں میں کام کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ امراوتی کوانٹم ویلی کی کامیابی کا دار و مدار اس امر پر ہے کہ حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپس کو ایک متحد قومی کوشش کے تحت یکجا کیا جائے۔ پانچ سال قبل خلائی شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنا اور ایٹمی توانائی میں نجی شرکت کو وسعت دینا موجودہ حکومت کے اشتراکی ترقی پر اعتماد کی واضح مثالیں ہیں۔ بھارت کی خلائی معیشت پہلے ایک معمولی حصے سے بڑھ کر اب 8 ارب ڈالر کی صنعت بن چکی ہے، اور اسی مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں آنے والے برسوں میں اس کے 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر موصوف نے اعلان کیا کہ بھارت کے کوانٹم سفر کا آغاز مقدس شہر امراوتی سے ہو رہا ہے اور آندھرا پردیش وکست بھارت کی جانب بھارت کے سفر میں ایک مضبوط اسپرنگ بورڈ کا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جو ریاستیں اپنے اختراعی ماحولیاتی نظام کو قومی مشنز کے ساتھ ہم آہنگ کریں گی، انہیں حکومتِ ہند کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ مرکز اور آندھرا پردیش کے درمیان اشتراک بھارت کے ایک عالمی کوانٹم رہنما کے طور پر ابھرنے کے عمل کو مزید تیز کرے گا۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 1913
(ریلیز آئی ڈی: 2225153)
وزیٹر کاؤنٹر : 12