الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے بنگلور میں زیٹ ورک الیکٹرانکس کی دفاعی، خودکار (آٹوموٹیو) اور آئی ٹی ہارڈویئر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی عالمی معیار کی یونٹ کا افتتاح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 FEB 2026 10:45PM by PIB Delhi

معزز وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو اور کرناٹک کے وزیر برائے بڑے اور درمیانے درجے کی صنعتیں، ایم۔ بی۔ پٹیل نے آج بنگلور میں زیٹ ورک الیکٹرانکس کی دفاعی، خودکار (آٹوموٹیو) اور آئی ٹی ہارڈویئر الیکٹرانکس کی نئی عالمی معیار کی مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ یہاں تیار ہونے والا ہر مصنوعہ اعلیٰ معیار کے مطابق ہوگا۔ وزیر نے کہا کہ الیکٹرانک اجزاء کی تیاری اب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 46 منظوریوں کی اجازت دی جا چکی ہے اور کرناٹک میں 10,000 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2GLAI.jpeg

وزیر نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں وزیرِ خزانہ نے الیکٹرانک اجزاء کی تیاری کے منصوبے کے لیے بجٹ کو 22,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دیا ہے۔ اس سے الیکٹرانک صنعت کے شعبے میں ترقی کا سفر بہت تیز ہوگا۔ ہمارے وزیرِ اعظم نے مالی سال 2030-2031 تک 500 ارب ڈالر کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس سمت میں بہت تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ آج بھارت میں لوگ مکمل ’دو نینو میٹر‘ چپیں ڈیزائن کر رہے ہیں، جو ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور آلات تیار کرنے والی کمپنیاں بھی بھارت آنا شروع ہو گئی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ اپلائیڈ میٹیریل اور لیم ریسرچ کو بھارت لایا گیا ہے اور اگلا ہدف اے ایس ایم ایل کو لانا ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی پیداوار اس سال شروع ہو جائے گی۔ آنے والے دنوں میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ سے تیار ہونے والی پہلی تجارتی چپ ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔ ’سیمی کون 2.0‘ مؤثر ہوگا، جس میں ڈیزائن، آلات کی تیاری، کیمیکلز، گیسیں، توثیق اور پیداوار میں بہتری پر توجہ دی جائے گی—یہ سب کام ایک پائیدار سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ضروری ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1S675.jpeg

ہم 10 سال میں 85,000 سلکان انجینئر تیار کرنے کا ہدف رکھتے ہیں، اور چار سال میں ہم نے پہلے ہی 67,000 تربیت یافتہ کر دیے ہیں۔ نتیجتاً، چپ ڈیزائن کا ایک بڑا حصہ عملی طور پر بھارت میں انجام پائے گا۔ یہ آنے والے سالوں میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب ہوگا۔ ’فیب‘ کے قیام کے ساتھ ہم نے اب 28 نینو میٹر سے 7 نینو میٹر تک کا راستہ متعین کر لیا ہے، جو سلکان 2.0 کا حصہ ہوگا۔ ہم ایک باہمی تعاون پر مبنی نظام پر یقین رکھتے ہیں اور یہ کہ ملک صرف اس وقت ترقی کرتا ہے جب تمام ریاستیں ترقی کریں۔ وزیر نے زور دیا کہ تنگ نظری سے بچا جائے اور بھارت کو 2047 تک ’وکست بھارت‘ بنانے کے لیے وسیع ویژن اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معزز وزیرِ اعظم نے ہمیں یہ ویژن دیا ہے اور ہمیں سب کو متحد ہو کر اس ایک ہدف کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1903


(ریلیز آئی ڈی: 2225072) وزیٹر کاؤنٹر : 3