PIB Headquarters
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0
بجٹ 2026 میں سیمی کنڈکٹر زکی خود انحصاری کی جانب نمایاں زور
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 FEB 2026 1:13PM by PIB Delhi

تعارف
مرکزی بجٹ 2026-27 میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کے اعلان کے ساتھ ہندوستان کے ٹیکنالوجی عزائم کے لیے ایک فیصلہ کن لمحے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ نیا مرحلہ ایسے وقت میں ملکی(گھریلو) سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کو گہرا کرنے کے لیے ایک واضح اور مضبوط پالیسی سمت کا اشارہ دیتا ہے، جب چِپس تقریباً ہر اہم ڈیجیٹل اور صنعتی نظام کی بنیاد بن چکی ہیں۔
آئی ایس ایم 2.0 بھارت میں سیمی کنڈکٹر کا ساز و سامان اور مواد تیار کرنے، مکمل اسٹیک بھارتی سیمی کنڈکٹر مالِ دانشورانہ حقوق (انٹے لیکچؤل پراپرٹی)کی ڈیزائننگ کرنے، اور ملکی و عالمی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔
مالی سال 2026–27 کے لیے آئی ایس ایم 2.0 کے لیے 1,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جس میں صنعت کی قیادت میں تحقیق اور تربیتی مراکز پر خاص زور دیا گیا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور مستقبل کے لیے تیار ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

سیمی کنڈکٹر جدید الیکٹرانکس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جو کمپیوٹرز، موبائل ڈیوائسز، ٹیلی مواصلات، آٹوموبائل، دفاعی نظام اور مصنوعی ذہانت کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ آئی ایس ایم 1.0 کے تحت ہندوستان نے اپنے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی مکمل اسٹیک ویلیو چین میں سابقہ سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے، ڈیزائن کی صلاحیتوں کو وسعت دینے، اور ملک بھر میں فیبریکیشن، اسمبلی اور ٹیسٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو آگے بڑھانے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ یہ رفتار آتم نربھر بھارت کے وسیع تر وژن اور پالیسی سازی سے پیداواری عمل کی طرف ہندوستان کی منتقلی کی عکاس ہے۔ انہی کامیابیوں کی بنیاد پر آئی ایس ایم 2.0 عالمی سیمی کنڈکٹر نیٹ ورک میں ایک قابلِ اعتماد اور مسابقتی شراکت دار کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔
سیکٹرل آؤٹ لک: ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام

ہندوستان مسلسل ایک عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ صلاحیت میں توسیع، اور سیمیکون انڈیا 2025 جیسے پلیٹ فارم ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سفر میں بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ گھریلو چِپ مارکیٹ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
صنعتی تخمینوں کے مطابق، ہندوستانی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کا حجم 2023 میں تقریباً 38 بلین امریکی ڈالر تھا، جو 2024-2025 کے دوران 45 سے 50 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، اور 2030 تک اس کے 100 سے 110 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ توسیع میک اِن انڈیا اور میک فار دی ورلڈ کے قومی وژن پر مبنی ہے، جو ہندوستان کو نہ صرف ایک مضبوط مینوفیکچرنگ مرکز بلکہ ایک عالمی سپلائر کے طور پر بھی قائم کرتی ہے۔
اس ترقی کی بنیاد دسمبر 2021 میں مرکزی کابینہ کی جانب سے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 1.0 کی منظوری کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ اس مشن کو 76,000 کروڑ روپے کے ترغیبی فریم ورک کی حمایت حاصل ہے، جس کے تحت سلکان فیب، کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر سہولیات، اسمبلی اور ٹیسٹنگ یونٹس، اور چِپ ڈیزائن کے لیے 50 فیصد تک مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
دسمبر 2025 تک، چھ ریاستوں میں 1.60 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے حامل 10 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں میں سلکان فیبریکیشن یونٹس، سلکان کاربائڈ فیب، جدید اور میموری پیکیجنگ سہولیات، اور خصوصی اسمبلی و جانچ کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک مضبوط، لچکدار اور خود کفیل گھریلو سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں۔
توقع ہے کہ 2029 تک ہندوستان گھریلو ایپلی کیشنز کے لیے درکار تقریباً 70 تا 75 فیصد سیمی کنڈکٹر چِپس کو ڈیزائن اور تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ اسی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے سیمیکون 2.0 کے تحت اگلا مرحلہ جدید مینوفیکچرنگ پر مرکوز ہوگا، جس کے لیے 3 نینو میٹر اور 2 نینو میٹر ٹیکنالوجی نوڈس کے حصول کا ایک واضح اور مرحلہ وار روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ 2035 تک ہندوستان کا ہدف عالمی سطح پر سرفہرست سیمی کنڈکٹر ممالک میں شامل ہونا ہے۔

توقع ہے کہ یہ سہولیات صارفین کے آلات، صنعتی الیکٹرانکس، آٹوموبائل، ٹیلی مواصلات، ایرو اسپیس اور پاور الیکٹرانکس جیسے اہم شعبوں میں چِپس کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کریں گی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ کئی منظور شدہ تجاویز سیمی کنڈکٹر چِپس کی اسمبلی، جانچ اور پیکیجنگ کے لیے مقامی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت گہری تکنیکی مہارت کی جانب ہندوستان کے عزم اور بیرونی نظاموں پر انحصار میں کمی کی عکاسی کرتی ہے، جس سے عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ملک کی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی ہے۔

2026-27 میں سیمی کنڈکٹر پروگرام کے متوقع اثرات
ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر پروگرام کو عالمی مسابقت میں تیزی اور جدید چِپ ٹیکنالوجیز کے محدود تعداد میں عالمی کھلاڑیوں کے درمیان ارتکاز کے پس منظر میں دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ کئی ایسے ممالک، جہاں سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام پہلے سے قائم ہیں، جارحانہ ترغیبات فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث ہندوستان کے لیے اپنے حکمتِ عملیاتی نقطۂ نظر کو مزید بہتر بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں، ترمیم شدہ پروگرام سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، ڈسپلے فیبریکیشن اور ڈیزائن ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔
مالی سال 2026-27 کے لیے، ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے ترمیم شدہ پروگرام کے تحت کل مالی اخراجات 8,000 کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنا، اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اور فیبریکیشن، پیکیجنگ اور چِپ ڈیزائن کے شعبوں میں گھریلو صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ سال کے دوران حاصل ہونے والے متوقع نتائج ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
|
اسکیم
|
کلیدی اشاریہ
|
متوقع ہدف
|
|
ترمیم شدہ اسکیم برائے سیمی کنڈکٹر فیبریکییشن یونٹس (سیمی کنڈکٹر فیبز – 1 کی معاونت)
|
سال کے دوران سرمایہ کاری
|
روپے4,000 کروڑ
|
| |
پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع
|
1,500 افراد
|
|
ترمیم شدہ اسکیم برائے کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز، سلیکان فوٹونکس، سینسرز، ڈسکریٹ فیبز اور اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ و پیکیجنگ (اے ٹی ایم پی) / آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (او ایس اے ٹی)معاونت یافتہ یونٹس – 9(
|
سال کے دوران یونٹس کی جانب سے سرمایہ کاری
|
روپے11,000 کروڑ
|
| |
معاونت یافتہ یونٹس کے ذریعے پیدا ہونے والا روزگار
|
3,000 افراد
|
|
ڈیزائن لنکڈ انسینٹو(ڈی ایل آئی) اسکیم (معاونت یافتہ ڈیزائن کمپنیاں – 30)
|
تیار کیے جانے والے سیمی کنڈکٹر آئی پی کورز
|
10
|
| |
سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے شعبے میں تعینات افرادی قوت
|
200 افراد
|
یہ نتائج مجموعی طور پر گھریلو مینوفیکچرنگ میں توسیع، ڈیزائن کی صلاحیتوں کو مزید گہرا کرنے، اور ہندوستان کے طویل مدتی سیمی کنڈکٹر عزائم کی معاونت کے لیے ایک ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کی سمت ایک مضبوط اور مربوط پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کیوں اہم ہے
سیمی کنڈکٹر جدید معیشتوں کے مؤثر طور پر کام کرنے کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگرچہ یہ روزمرہ زندگی میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، تاہم مائیکرو پروسیسرز خاموشی سے اُن نظاموں کو توانائی فراہم کرتے ہیں جو معاشروں کو متحرک رکھتے ہیں۔ جیسا کہ اقتصادی سروے 2025-26 میں واضح کیا گیا ہے، سیمی کنڈکٹرز توانائی کے نیٹ ورکس، مالیاتی منڈیوں اور ٹیلی مواصلات کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ مینوفیکچرنگ یونٹس، اسپتالوں، ٹرانسپورٹ سسٹمز اور سیٹلائٹس کے مؤثر عمل کو ممکن بناتے ہیں۔ اس لیے تمام شعبوں میں معاشی استحکام اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سیمی کنڈکٹرز کی قابلِ اعتماد فراہمی نہایت ضروری ہے۔
حالیہ عالمی رکاوٹوں نے اس انحصار کی شدت کو نمایاں کر دیا ہے۔ کووڈ-19 وبائی مرض نے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کیا، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قلت نے دنیا بھر میں 169 سے زائد صنعتوں کو متاثر کیا۔ پیداوار میں تاخیر اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث مختلف ممالک میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو گئیں۔ ان جھٹکوں نے محدود تعداد میں سپلائرز پر انحصار کے خطرات کو واضح کر دیا۔
اس وقت عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت پر چند ممالک کا غلبہ ہے، جن میں تائیوان، جنوبی کوریا، جاپان، چین اور امریکہ شامل ہیں۔ صرف تائیوان ہی دنیا کی 60 فیصد سے زائد سیمی کنڈکٹر پیداوار اور تقریباً 90 فیصد جدید ترین چِپس تیار کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سپلائی چین بیرونی جھٹکوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے لیے انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
ان حالات کے پیش نظر، بڑی معیشتیں اپنی حکمتِ عملیوں پر نظرِ ثانی کر رہی ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا نے گھریلو چِپ مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور سپلائی چین کو متنوع بنانے کے لیے قومی سطح کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس عالمی تبدیلی کے تناظر میں، ہندوستان خود کو ایک قابلِ اعتماد اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن اسی تاریخی لمحے کا براہِ راست جواب ہے۔ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور اختراع میں گھریلو صلاحیتوں کی تعمیر کے ذریعے، آئی ایس ایم خود کفالت اور تکنیکی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے، اور ساتھ ہی ایک زیادہ مضبوط اور لچکدار عالمی سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام میں ہندوستان کے کردار کو مستحکم کرتا ہے۔
اس حکمتِ عملی کے مرکز میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور ہنرمندی کی ترقی پر بھرپور توجہ مرکوز ہے، جو باہم مل کر تکنیکی خود انحصاری کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانا
دسمبر 2021 میں آغاز کے بعد سے ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم نے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے شعبے کو محض صلاحیت سازی کے مرحلے سے نکال کر گہری تکنیکی مہارت کی جانب منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ اسکیم گھریلو اختراع کے فروغ، ابتدائی مرحلے کی کمپنیوں کی معاونت، اور ایک متحرک و پائیدار ماحولیاتی نظام کی بنیاد رکھنے پر مرکوز ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اس نے تعلیمی تحقیق اور صنعتی اطلاق کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں بھی مدد دی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن منظرنامے میں ہندوستان کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔
ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت نمایاں کامیابیاں
(جنوری 2026 تک)
- یہ پروگرام اس وقت ملک بھر میں 24 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اسٹارٹ اپس کی معاونت کر رہا ہے۔
- اس اسکیم کے تحت شامل اسٹارٹ اپس نے تقریباً 430 کروڑ روپے کی وینچر کیپیٹل فنڈنگ کو راغب کیا ہے، جو ہندوستان کے ڈیزائن ماحولیاتی نظام پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
- قومی چِپ ڈیزائن پلیٹ فارم کے تحت ایڈوانسڈ الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے، جن کے ذریعے تقریباً 2.25 کروڑ ٹول آورز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
- تقریباً 67,000 طلبہ اور 1,000 سے زائد اسٹارٹ اپ انجینئرز چِپ ڈیزائن اور ترقی کے لیے ان ٹولز کو سرگرمی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔
- تعلیمی شعبے میں، موہالی کی سیمی کنڈکٹر لیبارٹری میں 180 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کردہ 56 چپس کے ساتھ 122 ڈیزائنز کی کامیاب ٹیپ آؤٹ کی گئی ہے۔
- اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر 16 ٹیپ آؤٹس مکمل کیے ہیں، جن کے نتیجے میں جدید فاؤنڈری نوڈس پر چھ چپس تیار کی گئی ہیں، جن میں 12 نینو میٹر تک کی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
- تعلیمی اداروں نے 75 پیٹنٹس دائر کیے ہیں، جبکہ اسٹارٹ اپس کی جانب سے 10 پیٹنٹس دائر کیے گئے ہیں، جو اختراع اور دانشورانہ املاک کی تخلیق کے فروغ پذیر کلچر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔
مستقبل کی سمت
آگے بڑھتے ہوئے، یہ پروگرام اگلے مرحلے میں کم از کم 50 فیبل لیس سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کو فعال بنانے کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، جس سے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور اختراع کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کے ہندوستان کے طویل مدتی عزائم کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔
دیسی مائیکرو پروسیسرز اور بنیادی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کی پیش رفت
مائیکرو پروسیسرز جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیادی پرت کی حیثیت رکھتے ہیں، جو ٹیلی مواصلات، نقل و حرکت، صحت کی دیکھ بھال، صنعت، دفاع اور خلائی شعبوں میں آلات اور نظام کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر خود انحصاری کے ایک بنیادی ستون کے طور پر جدید پروسیسر ڈیزائن میں خودمختار صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے ہدفی سرمایہ کاری کی ہے۔
اس سفر میں ایک اہم سنگِ میل دھروو 64 کا آغاز ہے، جو مائیکرو پروسیسر ڈویلپمنٹ پروگرام (ایم ڈی پی) کے تحت سی۔ڈی۔اے۔سی کی جانب سے تیار کردہ ایک مکمل طور پر مقامی 64-بِٹ مائیکرو پروسیسر ہے۔ جدید آرکیٹیکچرل اصولوں پر مبنی دھروو 64 بہتر کارکردگی، مؤثر ملٹی ٹاسکنگ صلاحیت اور اعلیٰ درجے کی قابلِ اعتماد کارکردگی فراہم کرتا ہے، جس کے باعث اسے 5جی انفراسٹرکچر، آٹوموٹو الیکٹرانکس، صنعتی آٹومیشن، کنزیومر ڈیوائسز اور انٹرنیٹ آف تھنگز(آئی او ٹی) جیسے شعبوں میں تعینات کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس کی تیاری ہندوستان کو ایک محفوظ اور گھریلو پروسیسر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جس سے درآمد شدہ چِپس پر طویل مدتی انحصار میں کمی آتی ہے—خصوصاً اس پس منظر میں کہ ہندوستان عالمی مائیکرو پروسیسر آؤٹ پٹ کا تقریباً 20 فیصد استعمال کرتا ہے۔
دھروو 64 مقامی پروسیسرز کے ایک بڑھتے ہوئے پورٹ فولیو پر استوار ہے، جس میں شکتی، اجیت، وکرم اور تھیجس شامل ہیں۔ یہ تمام پروسیسرز اجتماعی طور پر ایک مضبوط ہندوستانی پروسیسر ماحولیاتی نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا آر آئی ایس سی (ڈی آئی آر۔V ) V پروگرام کے تحت تیار کردہ یہ پروسیسرز اوپن سورس آر آئی ایس سی۔V فنِ تعمیر سے استفادہ کرتے ہیں، جس سے لائسنسنگ کے اخراجات ختم ہوتے ہیں اور تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے درمیان اشتراکی اختراع کو فروغ ملتا ہے۔ دھروو 64 کا نفاذ، مختلف چِپ اقسام پر دھنوش اور دھنوش پلس نظاموں کی مسلسل ترقی کے ساتھ، ہندوستان کے آر اینڈ ڈی ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم کرتا ہے، مصنوعات کی پروٹو ٹائپنگ کے عمل کو تیز کرتا ہے، اور گھریلو ڈیزائن ٹیلنٹ کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ اقدامات مائیکرو پروسیسرز کو محض تکنیکی اجزاء کے طور پر نہیں بلکہ ہندوستان کی ڈیجیٹل خودمختاری کے اسٹریٹجک محرکات کے طور پر پیش کرتے ہیں—جو اختراع کی حوصلہ افزائی، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، اور عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ملک کے طویل مدتی عزائم کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
سیمی کنڈکٹر ٹیلنٹ پائپ لائن کی ترقی
ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کا انحصار جتنا جدید بنیادی ڈھانچے پر ہے، اتنا ہی اس سے وابستہ انسانی وسائل پر بھی ہے۔ اسی تناظر میں، ہندوستان نے ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور جدید پیکیجنگ کے شعبوں میں ایک بڑی، ہنر مند اور صنعت کے لیے تیار ٹیلنٹ بیس تیار کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے تحت چِپ ٹیکنالوجیز سے ابتدائی سطح پر واقفیت، عملی تربیت، اور صنعت کی بدلتی ضروریات کے مطابق مسلسل اپ اسکلنگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
چپس ٹو اسٹارٹ اپ پروگرام
چپس ٹو اسٹارٹ اپ پروگرام 397 یونیورسٹیوں اور اسٹارٹ اپس کو جدید ترین الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے )ٹولز تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ ان ٹولز کے مؤثر استعمال کے ذریعے 46 سے زائد یونیورسٹیوں کے چِپ ڈیزائنرز نے موہالی میں واقع سیمی کنڈکٹر لیبارٹری میں 56 چپس کو ڈیزائن اور تیار کیا ہے، جو تعلیمی اداروں میں عملی اختراع کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔
آل انڈیا کونسل برائے تکنیکی تعلیم (اے آئی سی ٹی ای)کے تحت تعلیمی پروگرام
سیمی کنڈکٹر تعلیم کو مرکزی دھارے کی انجینئرنگ تعلیم میں ضم کرنے کے مقصد سے اے آئی سی ٹی ایکے تحت خصوصی تعلیمی پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان میں وی ایل ایس آئی ڈیزائن پر توجہ کے ساتھ الیکٹرانکس انجینئرنگ میں بی ٹیک، انٹیگریٹڈ سرکٹ مینوفیکچرنگ میں ڈپلومہ، اور وی ایل ایس آئی ڈیزائن اور ٹیکنالوجی پر مبنی الیکٹرانکس انجینئرنگ میں معمولی (مائنر)ڈگری شامل ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد صنعت سے ہم آہنگ مہارتوں سے لیس گریجویٹس تیار کرنا ہے۔
این آئی ای ایل آئی ٹی کالی کٹ میں اسمارٹ لیب
این آئی ای ایل آئی ٹی، کالی کٹ میں قائم اسکلڈ مین پاور ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ ٹریننگ لیب سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز میں بڑے پیمانے پر تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت ملک بھر میں ایک لاکھ انجینئروں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے 62,000 سے زائد انجینئرز پہلے ہی تربیت حاصل کر چکے ہیں، جس سے قومی ٹیلنٹ پول کو نمایاں تقویت ملی ہے۔
لام ریسرچ کے ساتھ صنعتی شراکت داری
لام ریسرچ کے ساتھ شراکت داری کے تحت نینو فیبری کیشن اور پروسیس انجینئرنگ میں بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس شراکت داری میں اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجگ (اے ٹی ایم پی )اور جدید پیکیجنگ سہولیات کے لیے درکار خصوصی مہارتوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد آئندہ دس برسوں میں 60,000 تربیت یافتہ پیشہ ور افراد تیار کرنا ہے۔
فیوچر اسکلز پرائم پروگرام
فیوچر اسکلز پرائم، وزارت الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی، میٹی) اور این اے ایس ایس سی او ایم کی ایک مشترکہ پہل ہے، جسے ہندوستان کو عالمی ڈیجیٹل ٹیلنٹ کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام سیمی کنڈکٹر سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسکلنگ، ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ پر مرکوز ہے۔ کورسز صنعت کے اشتراک سے تیار کیے جاتے ہیں اور ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے سیکھنے والوں کو کسی بھی وقت تربیت تک رسائی اور اپنی پیشہ ورانہ خواہشات کے مطابق تسلیم شدہ مہارت کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
یہ تمام اقدامات مل کر ایک مضبوط، مربوط اور مستقبل کے لیے تیار سیمی کنڈکٹر ورک فورس تشکیل دے رہے ہیں، جو ہندوستان کو مکمل چِپ ویلیو چین میں طویل مدتی ترقی اور عالمی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط مقام فراہم کرتے ہیں۔
نتیجہ
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 ماحولیاتی نظام کی تخلیق کے ذریعے نہ صرف گھریلو سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کے استحکام کی ضمانت دیتا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر مربوط کرنے کی طرف ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مینوفیکچرنگ، ڈیزائن اور جدید ہنر کی ترقی کے لیے فراہم کی جانے والی حمایت کو مضبوط بنا کر، آئی ایس ایم 2.0 سیمی کنڈکٹرز کو ایک اسٹریٹجک قومی صلاحیت کے طور پر قائم کرتا ہے، جو ملک کی معاشی لچک، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تکنیکی خودمختاری کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
مالی سال 2026-27 کے لیے بڑھا ہوا بجٹ تعاون عمل درآمد کی رفتار کو تیز کرنے، نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے اور مکمل سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں گھریلو صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے درکار رفتار فراہم کرتا ہے۔
آئی ایس ایم 2.0 ہندوستان کو سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور اختراع کے لیے ایک قابل اعتماد عالمی مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نوڈز، مضبوط ڈیزائن ترغیبات اور بڑھتی ہوئی ٹیلنٹ پائپ لائن کے واضح روڈ میپ کے ساتھ، ہندوستان زیادہ لچکدار عالمی سپلائی چین میں حصہ ڈالتے ہوئے بیرونی انحصار کو بتدریج کم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس طرح، یہ مشن آنے والی دہائی میں دنیا کے سرکردہ سیمی کنڈکٹر ممالک میں شامل ہونے کے ہندوستان کے طویل مدتی عزائم کو تقویت دیتا ہے۔
حوالہ جات:
پی آئی بی بیک گراؤندر:
الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت:
مرکزی بجٹ:
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0
***
UR-1887
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2224919)
وزیٹر کاؤنٹر : 16