ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیر ماحولیات نے راجستھان کے الور میں’ٹائیگر رینج ریاستوں کے چیف وائلڈ لائف وارڈنز اور ٹائیگر ریزرو کے فیلڈ ڈائریکٹرز کی کانفرنس‘ کی صدارت کی
شیروں کےموثر تحفظ کے لیے پالیسی فیصلوں کا جامع جائزہ اور چیلنجز کی زون کی سطح پر نقشہ سازی نہایت ضروری: جناب بھوپندر یادو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 FEB 2026 2:43PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپندر یادو نے ہفتہ کے روز نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کی اب تک منعقد ہونے والی 28 میٹنگز میں کیے گئے تمام پالیسی فیصلوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، تاکہ ان فیصلوں کی نشاندہی کی جا سکے جو فرسودہ ہو چکے ہیں، جن پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، اور جو مکمل طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شیروں کے تحفظ کی پالیسی کو موجودہ دور میں درپیش چیلنجز کے مطابق ڈھالنے میں مدد دے گا اور زمینی سطح پر تحفظاتی اقدامات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گا۔
راجستھان کے الور میں منعقد ’ٹائیگر رینج ریاستوں کے چیف وائلڈ لائف وارڈنز اور ٹائیگر ریزرو کے فیلڈ ڈائریکٹرز کی کانفرنس‘ کے افتتاحی اجلاس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت نےشیروں کے تحفظ کے پچاس سال مکمل کر لیے ہیں اور یہ وقت ایک جامع پالیسی جائزے کے لیے نہایت موزوں ہے۔دو روزہ کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے جناب یادو نے تجویز کیا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں کیے گئے پالیسی فیصلوں کو یکجا کر کے ایک باضابطہ پالیسی دستاویز تیار کی جائے، اور اس معاملے کو این ٹی سی اے کی آئندہ میٹنگ کے پہلے ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کیا جائے۔
کانفرنس میں راجستھان حکومت کے وزیر جنگلات جناب سنجے شرما، وزارت ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی اور این ٹی سی اے کے اعلیٰ حکام، ٹائیگر رینج ریاستوں کے چیف وائلڈ لائف وارڈنز، اور ملک بھر سے آئے ٹائیگر ریزرو کے فیلڈ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔
جناب یادو نے کہا کہ شیروں کی آبادی کے تخمینے، ریسکیو اور بحالی کے بنیادی ڈھانچے، انسان اور جانوروں کے درمیان ٹکراؤ، ٹائیگر ریزرو فنڈ کے استعمال، اور شیروں کے تحفظ کی بنیادوں کو مضبوط بنانے سے متعلق امور پر مرکوز غور و خوض کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ کانفرنس ملک میں شیروں کے تحفظ کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے گی اور اس میں اہم پالیسی، انتظامی اور عملی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
جناب یادو نے مزید کہا کہ خطے پر مرکوز مخصوص چیلنجز، جن میں شیروں کی آبادی میں ہونے والی تبدیلیاں بھی شامل ہیں،اس کے جائزے کے لیے چار ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں۔ان گروپس کا مقصد ملک بھر کے ٹائیگر ریزروز میں مرکزکی مدد سے چلنے والی اسکیموں کے نفاذ کا جائزہ لینا بھی ہوگا۔مزید برآں، وزیر موصوف نے شرکاء سے کہا کہ این ٹی سی اے اور اداروں جیسے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، بوٹینیکل سروے آف انڈیا، زولوجیکل سروے آف انڈیا، اور انڈین کونسل فار فاریسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن کے درمیان بہتر تال میل کے طورطریقوں پر بھی غور کیا جائے،تاکہ ان اعلیٰ تحقیقی اداروں کی تحقیقی معلومات کو پالیسی میں شامل کر کے شیروں کے تحفظ کے شعبے میں عملی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
چیتے کی دوبارہ آبادکاری کے پروگرام کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت نے ایک ایسے جنگلی جانور کی کامیاب بین الاقوامی منتقلی انجام دی ہے جو ملک میں ناپید ہو چکا تھا، اور اب یہ منصوبہ بھارت میں پیدا ہونے والی چیتوں کی تیسری نسل تک پہنچ چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بوتسوانا سے چیتوں کا ایک نیاگروپ فروری کے اواخر تک بھارت پہنچنے کی توقع ہے۔
جناب یادو نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) قائم کیا ہے، جس کے اب تک 24 رکن ممالک ہیں، جبکہ کئی دیگر ممالک نے مبصر کی حیثیت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این)، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)، چیتاہ کنزرویشن فنڈ (سی سی ایف)، گلوبل ٹائیگر فورم (جی ٹی ایف) اور گلوبل اسنو لیپرڈ اینڈ ایکو سسٹم پروٹیکشن پروگرام (جی ایس ایل ای پی) جیسے بین الاقوامی اداروں نے بھی آئی بی سی اے کے ساتھ شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ پہلی گلوبل بگ کیٹ سمٹ بھارت میں منعقد کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ آئی بی سی اے کے ذریعے دنیا کو درپیش تین بڑے چیلنجز — بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ ، زمین کی ذرخیزی میں کمی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان — سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ جب ٹائیگر اور دیگر جنگلی جانور اپنے بنیادی محفوظ علاقوں سے باہر منتقل ہوتے ہیں تو مضبوط ردعمل نظام کی ضرورت نہایت اہم ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ زخمی جانوروں، ٹکراؤ سے متعلق معاملات، بن ماں باپ کے بچوں اور دباؤ کا شکار دیگر جانوروں کو بروقت اور پیشہ ورانہ مدد درکار ہوتی ہے، جس کے لیے ٹائیگر ریزروز کے اطراف ریسکیو، بحالی اور عبوری علاج مراکز کے لیے ایک واضح اور معیاری فریم ورک تیار کرنا ضروری ہے۔اس موقع پر وزیر موصوف نے این ٹی سی اے کے آؤٹ ریچ جریدے ’’اسٹرائپس‘‘کا اجرا بھی کیا،اور نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری (این ایم این ایچ) کے زیر اہتمام منعقدہ پینٹنگ مقابلے میں طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کیے۔
دو روزہ کانفرنس کے دوران ریاستی سطح کے افسران اور فیلڈ مینیجرز تحفظاتی ترجیحات، عملدرآمد میں درپیش چیلنجز اور ابھرتی ہوئی ضروریات پر ایک جامع انداز میں تبادلۂ خیال کریں گے۔ان مباحث کا مرکز قومی اہمیت کے حامل امور بھی ہوں گے، جن میں آل انڈیا ٹائیگر تخمینہ 2026 کا جائزہ، تحفظ اور گشت کے طریقۂ کار،شیروں کی آبادی کا فعال انتظام، ریسکیو اور بحالی کے بنیادی ڈھانچے، انسان اور جنگلی حیات کے باہمی تعلقات کا نظم، پروجیکٹ شیروں کے تحت فنڈز کے استعمال، اور ٹائیگر کنزرویشن فاؤنڈیشنز کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
زیر التواء امور، جیسے شیروں کی اموات سے متعلق معاملات، کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مالی، انتظامی اور تکنیکی عمل کو فیلڈ کی ضروریات کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔کانفرنس کا مقصد پالیسی سازی، انتظامی سطح اور فیلڈ میں عملدرآمد کے درمیان براہِ راست رابطے کو فروغ دینا ہے،تاکہ باخبر فیصلہ سازی کو تقویت ملے، ریاستوں کے درمیان تجربات کا تبادلہ ہو، اورشیروں کے تحفظ سے متعلق قومی اہداف کے حصول کے لیے مربوط کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
*****
ش ح-ا ع خ ۔ر ا
U-No- 1888
(ریلیز آئی ڈی: 2224890)
وزیٹر کاؤنٹر : 10