سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈی ایس ٹی نے گرین ہائیڈروجن تحقیق اور صلاحیت سازی میں بھارت–نیدرلینڈز کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 FEB 2026 3:23PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) نے آج بھارت-نیدرلینڈز ہائیڈروجن فیلوشپ پروگرام کے آغاز اور یونیورسٹی آف گروننگن ، نیدرلینڈز اور 19 انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز) کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کی میزبانی کے ساتھ صاف ستھری توانائی میں بھارت-نیدرلینڈز کے درمیان سائنسی تعاون کو مستحکم کیا۔
بھارت–نیدرلینڈز ہائیڈروجن فیلوشپ پروگرام کے لیے آج اسکیم گائیڈلائنز اور کال فار پروپوزلز (سی ایف پی) جاری کی گئی ہے۔ یہ ایک قومی صلاحیت سازی کا اقدام ہے جو تمام اہل بھارتی ڈاکٹریٹ، پوسٹ ڈاکٹریٹ اور فیکلٹی درخواست دہندگان کے لیے کھلا ہے۔
یہ فیلوشپ پروگرام سیکریٹری، محکمۂ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پروفیسر ابھے کرندیکر کی موجودگی میں شروع کیا گیا اور اس موقع پر جناب ہیب مجنرینڈز، نائب سفیر، کنگڈم آف نیدرلینڈز برائے بھارت بھی موجود تھے۔
پروگرام کے آغاز کے موقع پر پروفیسر ابھے کرندیکر، سکریٹری، ڈی ایس ٹی نے کہا کہ مرکوز بین الاقوامی تعاون اور ہدفی صلاحیت سازی کے اقدامات ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز کو تحقیق سے عملی نفاذ تک لے جانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں اخراج کو کم کرنا مشکل ہے اور جو بھارت کے صاف توانائی کے منتقلی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
جناب ہیب مجنرینڈز، نائب سفیر، کنگڈم آف نیدرلینڈز برائے بھارت نے ہائیڈروجن اور توانائی کی منتقلی میں بھارت–نیدرلینڈز تعاون کی ہم آہنگی پر زور دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر جوکے ڈی وریس، صدر، یونیورسٹی آف گرو ننگن نے عالمی توانائی کے چیلنجز کو حل کرنے میں مسلسل تعلیمی شراکت داری کے کردار کو اجاگر کیا۔
انڈیا–نیدرلینڈز ہائیڈروجن فیلوشپ پروگرام کا مقصد بھارت میں ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز کے عملی نفاذ کی تیاری کو مضبوط کرنا ہے، جس کے لیے نیدرلینڈز میں جدید ہائیڈروجن ماحولیاتی نظام کے منظم تجربے خاص طور پر سسٹم انٹیگریشن، حفاظت، تکنیکی و اقتصادی تجزیہ، زندگی کے دوران تجزیہ اور مقامی پیداوار کے راستےپر توجہ دی جائے گی۔ یہ فیلوشپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے کہ تحقیق کے نتائج براہِ راست قومی صاف توانائی کی ترجیحات میں معاونت کریں۔
ڈی ایس ٹی نے یونیورسٹی آف گرو ننگن اور 19 بھارتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹس (آئی آئی ٹیز) کے درمیان ادارہ بہ ادارہ ایم او یو کے دستخط کی میزبانی بھی کی، جس کے ذریعے ہائیڈروجن اور گرین توانائی کی تحقیق میں طویل مدتی تعلیمی تعاون کے لیے ایک مؤثر فریم ورک قائم کیا گیا۔ یہ ایم او یو فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیق، اور علم کی شیئرنگ کی سہولت فراہم کرے گا اور اس میں خودکار مالی ذمہ داریاں شامل نہیں ہیں۔
اس اعلیٰ سطح کے تعاون سے بھارت اور نیدرلینڈز کے درمیان گرین ہائیڈروجن میں تحقیق، صلاحیت سازی، اور نفاذی جدت کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اظہار ہوا، جو بھارت کے قومی گرین ہائیڈروجن مشن، انرجی انڈیپنڈنس 2047، اور نیٹ زیرو 2070 کے اہداف کے مطابق ہے۔
اس تقریب میں پروفیسر دھرندر ایس۔ کٹی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی گووا؛ پروفیسر وینکاپیّا آر دیسائی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی دھارواڑ؛ ڈاکٹر انیتا گپتا، سربراہ سی ای ایس ٹی ڈویژن، ڈی ایس ٹی ؛ ڈاکٹر رنجیت کرشنا پائی، سینئر ڈائریکٹر، ایچ وی آئی سی اور ایچ ایف سی پروگرام آفیسر، سی ای ایس ٹی ڈی ایس ٹی اور دیگر آئی آئی ٹیز کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یہ اقدامات بھارت–نیدرلینڈز تعاون کو گہرا کرنے اور ابھرتی ہوئی عالمی ہائیڈروجن معیشت کے لیے انسانی وسائل کو مضبوط بنانے میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتے ہیں۔


*********
ش ح۔ش ت ۔م الف
U. No-1820
(ریلیز آئی ڈی: 2224539)
وزیٹر کاؤنٹر : 7